محلہ دلپتیاں ڈی سی دفترکے قریب مگرحکام کی نظروں سے دُور

جموں//شہرکے وسط میں واقع متعددمقامات پرگلی محلوں کےلئے بنی سڑکوں پر بنے ہوئے گڈھوںسے عام لوگوں کوسخت مشکلات کاسامناکرناپڑرہاہے لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ ضلع انتظامیہ ،ڈی سی دفترکے قریب واقع محلہ دلپتیاں کی خستہ حالی پرخاموش تماشائی بنی ہوئی جس سے متعلقہ محلہ جوکہ مسلم اکثریتی آبادی پرمشتمل ہے نظراندازہوکرپریشانیاں جھیل رہاہے۔ضلع انتظامیہ کے قریب کی سڑک کی خستہ حالی سے ظاہرہوتاہے کہ بلاشبہ محلہ دلپتیاں ڈی سی دفترکے قریب ہے مگرحکام کی نظروں سے کوسوں دورہے ۔شہری حدودکی سڑکوں کی خستہ حالی پرغفلت کے سلسلے میں جموں میونسپل کارپوریشن کی کارکردگی پربھی لوگوں کاسوال اٹھانابجاہے ۔ تفصیلات کے مطابق جموں تالاب کھٹیکاں سے محلہ دلپتیاں میں داخل ہونے والی گلیوں کی حالت نہایت ہی خستہ ہے جس کے سبب وہاں سے گذرنے والے عام لوگوں اور گاڑیوں کومشکلات کاسامناکرناپڑتاہے۔اس سڑک سے کافی موٹر سائیکل ، سکوٹراور آٹوودیگرچھوٹی بڑی گاڑیوں کا گذر ہوتا ہے یہاں تک کہ اس سڑک سے بچے صبح اسکول کے لئے بھی جاتے ہیں جس کے باعث کئی بار وہ ان گڈھوں میں بھی گر جاتے ہیں اور انہیں بعض دفعہ چوٹیں بھی لگ جاتی ہیں،ساتھ ساتھ ان بچوں کے کپڑے بھی خراب ہو جاتے ہیں۔کشمیرعظمیٰ سے بات کرتے ہوئے یہاں سے گذرنے والے متعددلوگوں نے بتایاکہ یہاں سے لوگوں کا گذرنا بے حد مشکل ہو گیا ہے۔سڑک پر اتنے گڈھے پڑے ہیں کہ ان کے بارے میں بیان کرنااظہارسے باہرہے ۔یہاں سے گذرنے والے لوگوں کے کپڑے بھی خراب ہو جاتے ہیں۔وہیں دوسری طرف موٹر سائیکل و سکوٹر وں کو نکلنے میں بھی پریشانی ہوتی ہے۔کئی بار لوگوں کی راستہ خراب ہونے کی وجہ سے گاڑی پھسل جاتی ہے اور کئی لوگ چوٹ کھا بیٹھتے ہیں۔لوگوں نے مزیدکہاکہ خراب سڑک کی وجہ سے لوگوں کا اس سڑک سے گزرنا مشکل ہو گیا ہے۔ایسا نہیں کہ یہ بات کسی کو معلوم نہیں ہے بلکہ وہاں کے لوگ اس بات کو بخوبی جانتے ہیں۔ایک مسافر نے کہا کہ پہلے سے ہی سڑک پر گڈھے پڑے ہیں جس کی وجہ سے انہیں یہاں سے نکلنے میں ہر روز پریشانی ہوتی ہے ۔نہ جانے کب یہ گڈھے بھرے جائیں گے اور لوگوں کے اچھے دن آئیں گے۔یہ روز کی بات ہے نہ کہ کوئی نئی بات ہے کہ جس کے بارے میں کسی کو معلوم نہ ہو۔حیرت کی بات یہ ہے کہ میونسپل کارپوریشن اپنی ذمہ داریاں نبھانے سے قاصرہے اورغفلت کامظاہرہ کررہی ہے ۔مقامی دکانداروں اورعام لوگوں نے متعلقہ حکام سے اپیل ہے کہ جلد سے جلد کوئی سخت اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ لوگوں کو ان روز مرہ کی پریشانیوں سے نجات مل سکے۔