محفوظ مستقبل کیلئے مسلم امہ کا اتحاد انتہائی ضروری: ممنون حسین

کراچی// پاکستان کے صدرِ ممنون حسین نے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) سربراہی کانفرنس سے خطاب میں مسلم امہ پر نئے دور کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں مل کر کوششیں کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔قازقستان کے دارالحکومت ا?ستانہ میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے حوالے سے اسلامی تعاون تنظیم کی دو روزہ کانفرنس جاری ہے، جس سے اتوار 10 ستمبر کو خطاب کرتے ہوئے ممنون حسین نے کہا کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں وقت کے ساتھ نئی جدت کی بنیاد پر تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں۔ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق صدرِ پاکستان نے مسلم امہ پر زرعی پیدوار میں بہتری اور زرعی ٹیکنالوجی میں ترقی کی ضرورت پر زور دیا۔اسلامی تعاون تنظیم کی اس دو روزہ کانفرنس کے شرکاء￿  سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نئی نسل کی ترقی و خوشحالی اور ان کے محفوظ مستقبل کے لیے مسلم امہ میں اتحاد انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ممنون حسین کا کہنا تھا کہ بحیثیت مسلم برادری ہم کئی دہائیوں سے تعلیم کے شعبے پر توجہ دینے میں ناکام رہے ہیں، لہٰذا مسلمانوں کو تعلیمی میدان میں اپنے سنہری دور کو واپس لانے کے لیے مسلمانوں کو سیاسی اور سماجی و اقتصادی محاذ پر خود کفیل ہونا ہوگا۔بعد ازاں ترک صدر رجب طیب اردگان نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلم امہ میں اتحاد اور سالمیت کی ضرورت ہے جبکہ پوری دنیا کے مسلم ممالک کو میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف جاری تشدد کو روکنے کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا۔انہوں نے اپیل کی کہ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیمیں روہنگیا مسلمانوں پر ظلم کے خلاف مسلم امہ کا ساتھ دیں۔علاوہ ازیں پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق او ا?ئی سی کے ا?ستانہ میں جاری دو روزہ کانفرنس کے موقع پر صدرِ پاکستان ممنون حسین اور ترک صدر رجب طیب اردگان کی غیر رسمی ملاقات ہوئی جس میں دونوں سربراہان نے پاکستان اور ترکی کے دیرینہ تعلقات پر اطمینان کا اظہار کیا جبکہ صدر ممنون حسین نے کشمیر کے معاملے پر پاکستان کے موقف کی حمایت پر ترک صدر کا شکریہ بھی ادا کیا۔دونوں سربراہان نے خطے سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تعاون کی یقین دہانی کرائی جبکہ دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کا اعادہ بھی کیا۔اس ملاقات میں صدر ممنون حسین اور ترک صدر رجب طیب اردگان کے درمیان افغانستان کے حالات اور برما میں مقیم روہنگیا مسلمانوں کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ترک صدر نے دہشت گردی کے خاتمے اور خطے میں پاکستان کے پرامن کردار کو سراہا جبکہ افغانستان میں پائیدار امن کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔خیال رہے کہ او آئی سی کی دو روزہ سربراہی کانفرنس قازقستان کے دارالحکومت ا?ستانہ میں ہورہی ہے جس میں روہنگیا مسلمانوں کی حالت زار پر خصوصی اجلاس بھی منعقد ہوگا۔اس کانفرنس میں دنیا بھر کے 20 مسلم ممالک کے سربراہان مملکت شریک ہیں جبکہ صدر ممنون حسین اس کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں اس کے علاوہ وہ اس کانفرنس میں او آئی سی قائمہ کمیٹی برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے چئیرمین کی حیثیت سے بھی موجود ہیں۔اس کانفرنس کے اختتام پر آئندہ 10 برسوں کے لیے ایکشن پلان کا اعلامیہ بھی جاری کیا جائے گا۔