محسنِ کشمیر۔ حضرت امیرکبیر میرسید علی ہمدانی ؒ

برصغیر میں اَن گنت صوفیائے کرام پیدا ہوئے ، جنہوں نے انسانیت اور اسلام کی بڑی خدمت کی، اُنہی بزرگوں آسمان تصوف کے درخشدہ آفتابؒ حضرت امیرکبیر میرسید علی ہمدانی  ؒہیں،آپ ؒ کی تشریف آوری سے وادی کشمیر میں دین اسلام کی مشعل روشن ہوگئی کہ جس سے پوری وادی منور ہوئی۔شاہ ہمدانؒ نے پوری زندگی اللہ کی وحدانیت ، کلمتہ الحق اور سنت رسولؐ کے لئے وقف کی اور کشمیر میں ایسے ثمر دار اشجار اور شیرین باغ لگائے، جن سے رہتی دنیا تک ہم کشمیری لوگ مستفید ہوتے رہیں گے۔ ہم پوری کشمیری قوم روز آخر تک حضرت شاہ ہمدان ؒمرہون منت ہے ۔حضرت شاہ ہمدان ؒ عارفوں کےلئے باعث فخر ہے ، جن کے دم سے معرفت کا باغ کھل اٹھا ۔آپؒ نے نہ صرف ہمیں علم وعرفان اور راہ حق کی دولت سے مالامال کیا بلکہ معاشی ،سماجی زندگی میں بھی بڑی تبدیلی لائی اور وہ کشمیریوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں روز ِروشن کی طرح عیاں ہے اور ملت ِاسلامیہ کشمیر کے محسن عظیم حضرت شاہ ہمدان امیرکبیر میرسید علی ہمدانی  ؒاپنے منفرد ، مخصوص اور معتبر مقام کی بدولت باشندگانِ کشمیر کے قلب وجگر کے ساتھ ہمیشہ جڑے رہے ہیں اور رہیں گے۔کشمیر میں اس کا مردِ خداکی عظیم الشان درگاہ خانقاہ معلی کے نام سے مشہور ہے ،جہاںروزانہ عقیدت مندوں اور زائر ین کی ایک بڑی تعداد حاضری دے کر فیض حاصل کرتی ہے۔
 اسلامی تصوف کا منبع بلاشبہ قرآن پاک اورحدیث رسول اللہ ؐ ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اُسوة حسنہ اس کی معراج ہے، تصوف وسلوک ہی دین اسلام کی اصل روح ہے ۔یہ بات درست ہے کہ اوائل اسلام میں اسکی کوئی منطقی ترتیب عمل میں نہیں آئی تھی مگر اس کا آغاز تو رسول اللہ ؐ کی مقدس تحریک کے ساتھ ہی ہوگیاتھا ۔آپ ؐ کی ذات گرامی اور اصحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمین کی پاکیز ہ زندگی اس کا اولین وبہترین نمونہ ہیں ۔ علم الحدیث ،تفسیر،فقہ وغیرہ سب کے سب باضابطہ طورپر بعد میں وجود میں آئے ،کیونکہ خلافت راشدہ کے بعد عالم اسلام میں جونہی ملوکیت داخل ہوئی تودین کی روح مجروح ہونی شروع ہوئی ۔اس کے نتیجہ میں صوفیائے کرام کا پہلاطبقہ وجود میں آیا جس کے سرخیل حضرت حسن بصریؒ ہیں اور یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔ اسی طرح وادی کشمیر میں جن اولیائے کرام نے اسلامی تعلیمات شروع کی ان میں حضرت بلبل شاہ ؒ اور حضرت امیر کبیر میر سید علی ہمدانیؒ سرفہرست ہیں۔
حضرت امیرکبیر میرسید علی ہمدانی رحمتہ اللہ علیہ بیک وقت عارف کامل ،مبلغ دین ،مفسر ، محدث ،سیاح ،فلسفی اوراعلیٰ رتبے کے ادیب وشاعر باکمال تھے۔آپؒ کی تصانیف جوعربی اور فارسی زبانوں میں لکھی گئی ہے ۔جو مختلف موضوعات پر جن میں سیاحیاحت ،علوم قرآن، اور تصوف وعرفان اور دیگر موضوعات ہے جن کی تعداد ایک سو سے زائدہیں۔ اورادفتحیہ جو توحید کا ایک لامثال نسخہ اور وظیفہ ہے، جس کوپڑھنے سے دل اور دماغ کوسکون مل جاتا ہے ۔حضرت شاہ ہمدانؒ کی بلند پایہ ادبی وعلمی شاہ کا تصنیف ذخیرة الملوک جو دس ابواب پر مشتمل ہے اور یہ آٹھویں صدی ہجری کی ایک اہم تصنیف وتحریر ہے ۔ حضرت امیرکبیر رحمتہ اللہ علیہ کی ایک اور شاہکار’’ چہل اسرار‘‘ بھی ایک گرانقدر تحفہ ہے ۔چہل اسرار کے بارے میں روایت ہے کہ حضرت شاہ ہمدانؒکو ایک ہی دن چالیس مریدان نے شام کے کھانے پر مدعوکیا ۔آپؒنماز عشاءکے بعدسائلوں کے گھر پہنچے اور وہاں پر کھانا تناول فرمایا اور ہر ایک سائل کو بطور خیروبرکت ایک غزل لکھ کر عنایت کی اورآپؒ اپنے رہایش پر واپس تشریف لائے۔اسکے بعد صبح ہوئے تو ہر ایک مرید آپؒ کی تشریف آوری پر فخرسے کہہ رہاتھا کہ کل رات مرشدکامل نے ہماری غریب خانے کو زنیت بخشی اور غزل لکھ کر سرفرازفرمایا۔اسی لئے رسالہ چہل اسرار کو جو امتیازی درجہ حاصل ہے وہ اطہرمن الشمس ہے۔
 علماءحق نے تصوف کی تعریف مختلف پہلوؤںسے کی ہے۔حضرت عبدالقادر جیلانیؒ فرماتے ہیں۔ جس سے عابد کامقام مضبوط ہوجاتاہے۔اللہ تعالی اور لوگوں کے نزدیک اس کا درجہ کامل اور بلند ہوجاتاہے ،دنیا اور آخرت کے جن کاموں کی کوشش کرے ان پر قادر وتوانا ہوتاہے۔ یہ صفت ساری خصلتوں کی جڑ ہے بلکہ ساری عبادتوں کا ایک درخت ہے ،شاخ دین ،اس خصلت کے طفیل آدمی کو وہ مقام نصیب ہوتا ہے جو ہر حال یعنی خوشی وغم میں راضی بہ رضائے حق رکھتا ہے۔یہ خصلت پرہیزگاری کا کمال ہے۔تواضع کے معنی یہ ہیں ’کہ ہر آومی کو ہر لحاظ سے اپنے سے بہتر سمجھا جائے اور دل میں یہ خیال کیا جائے کہ یہ شحض خدا کے نزدیک مجھ سے بہتر اور برتر ہے ،خواہ وہ اس سے کم تر ہو۔
 حضرت شیخ ابو نصرؒ فرماتے ہیںکہ اس دنیا میں ہر علم کی ایک حد ہوتی ہے اور یہ حد تصوف پر آکر ختم ہوجاتی ہے جبکہ تصوف کی حد کسی دوسرے علم پر ختم نہیں ہوتی اور علم تصوف کا وہ اعلیٰ ترین درجہ جسے علم الفتوح کہتے ہیں ۔اللہ کی طرف سے اپنے محضوص بندوںکو عطاہوتاہے۔حضرت امیرکبیر میرسید علی ہمدانی  ؒ اسلام کے مخلص اور جان نثار مبلغ تھے۔بلکہ ایک عظیم محاہد،عارف اور پُرعزم مومن تھے ۔جن کی نگاہ عرفان سے دلوں کی کایاپلٹ جاتی تھی۔ حضرت شاہ ہمدانؒ عارف پاکباز تھے اس لئے آپ ؒ کا طریق درویشی ہے جس میں سب اہم مرحلہ عبادات کاہے ۔
عہد جہانگیر کے معروف ترین قصیدہ گو اور ملک الشعراءطالب آملی کشمیر کی تعریف میں کہا۔
ترجمعہ:’’ظاہری حسن و جمال کے ساتھ ساتھ قدرت نے یہاں کے لوگوں کی علم پروری، ادب شناسی اور معنوی فیوض سے مالامال کیا ہے۔ وادی کشمیر میں عقبری وباکمال شاعر اودب، صوفیائے کرام، متقی اولیاء،اکابر، ریشی جنم لیتے رہے اور انہوں نے اہل دل، اہل یقین حضرات کی ہدایت اور رہنمائی کی خاطر عوام الناس کے لئے اپنی زندگی وقف رکھی تھی۔ جتنے بھی غیر ملکی خدا دوست ،سالک، ریشی و صوفی واردِ کشمیر ہوئے ،اُن میں سے کسی نے بھی لوگوں پر اتنا اثر ڈالاجتنا کہ حضرت شاہ ہمدانؒ کی شخصیت نے ڈالا ہے‘‘۔
حضرت سیدؔ کے ساتھ جو سادات آئے تھے ا ُن میں کچھ نے یہاں پر مستقل سکونت اختیار کی، وہ تمام سادات نے حضرت شاہ ہمدانؒ کے نقش قدم پر چل کر دینی خدمات بخوبی احسن انجام دیتے رہے اور اپنی پوری زندگی رشد و ہدایت میں بسر کی۔
 داغ بلند ان طلب اے ہوش مند۔ تاشوی از داغ بلنداں بلند۔
(ترجمعہ) اے عقلمند بلند خیال لوگوں کی صحبت تلاش کر تاکہ آپ بھی بلند خیال لوگوں کی صحبت کی وجہ سے بلند ہوجائیں۔
حضر ت شاہ ہمدانؒ تین بار کشمیر میں تشریف لائے ۔پہلی بار سطان شہاب الدین کے عہد حکومت یعنی ۴۷۷ھ میں اور صرف چارماہ رہنے کے بعد واپس تشریف لےگئے۔دوسری بار۱۸۷ھ میں اس بار آپؒ نے ساتھ سو سادات کی جمعیت اپنے ساتھ لائی ،جنہوں نے کشمیر کے مختلف علاقوں میں قیام کیا اور لوگوں کو دین ِاسلام کی طرف راغب کیا اور سماجی ،معاشی زندگی میں بھی تبدیلی لانے میں لو گوں کی رہنمائی فرمائی۔ آپؒ  محلہ علاوالدین پورہ جواس وقت خانقاہ معلی کے نا م سے منسوب ہے قیام فرمارہے۔اس کے بعد آپؒ پھر واپس روانہ ہوئے اور تیسری مرتبہ ۵۸۷ھ میں کشمیرتشریف لائے اور ایک سال کے قیام کے بعد واپس تشریف لےگئے ۔
یہ عالم بے بدل ، تصوف کے درخشدہ آفتاب اور عطرِ گلاب، ۲۱ ؍رجب المرحب ۴۱۷ھ؁ کو شہر ہمدان ؔمیںسید شہاب الدین ؒ اور سیدہ فاطمہؒ کے چمن سے کھلا اُٹھے اور اپنے خوشبو سے سارے عالم کو مہکا کر ۶؍ذی الحجہ ۶۸۷ھ؁ میں کناڑؔ میں اس ظاہری دنیائے فانی کو لبیک کرگئے۔ اناللہ وانااللہ راجعون۔ آپؒ کے جسدخاکی کو ختلان ؔلے جاکر ۲۱ جمادی الاول ۷۸۷ھ؁ کو آسودہ کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان نیک لوگوں کی صحبت میں رکھے اور توحیدو سنت کی پیرروکاربنائے ۔آمین
سید السادات سالار عجم
دَست اُو معمارِ تقدیراُمم
   اومپورہ بڈگام 9419500008