محروس قائدین و کارکنان کی حالت غیر, انسانی حقوق ادارے سنجیدہ نوٹس لیں:صحرائی

 سرینگر// تحریک حریت چیرمین محمد اشرف صحرائی نے جیلوں میں مقید قائدین وکارکنان اور عام جوانوں کی حالت زار پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان قائدین اور کارکنان کو سرکاری سطح پر ایک منصوبے کے مطابق انتقام گیری کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر غلام محمد بٹ، پیر سیف اللہ، الطاف احمد شاہ، ایاز اکبر، راجہ معراج الدین کلوال، محمد یوسف فلاحی، عبدالغنی بٹ، بشیر احمد قریشی، شیخ محمد رمضان، فاروق احمد شاہ، عمر عادل ڈار، حاجی بشیر احمد صوفی، عبدالرحمان تانترے، بشیر احمد صالح، عبدالحمید لوگری پورہ، جاوید احمد پھلے، محمد امین آہنگر، سرتاج احمد شیخ، عاشق حسین نارچور، ناصر عبداللہ گنائی، اعجاز احمد بہرو، عبدالحمید لون، امتیاز احمد میر، ظفر الاسلام شاہ، نذیر احمد مانتو، محمد یٰسین تانترے، سید احمد شیخ، شاہد احمد تانترے، وسیم معراج فراش، بشیر احمد صالح، بشیر احمد صوفی، عبدالرحمان تانترے، شکیل احمد پنڈت، رئیس احمد میر، دانش مشتاق، گلزار احمد لون، عبدالحمید پرے، مشتاق احمد ملک، معراج الدین نائیکو، لطیف احمد ڈار، غلام حسن شاہ، مشتاق احمد شاہ، ہادی قیوم، مشتاق احمد ملک، سبزار احمد میر، عنایت منظور نجار، سجاد احمد بٹ، سجاد احمد بیگ، ظہور احمد ریشی، منظور احمد میر، بشیر احمد ملک، رؤف احمد شیخ، توصیف اکبر بٹ اور دیگر نظربندوں کو 2016؁ء سے مسلسل اور بار بار پی ایس اے لگا کر وادی سے باہر جیلوں میں، جبکہ ڈاکٹر غلام محمد بٹ کو 2011؁ء سے تہاڑ جیل میں بند رکھنا انسانی حقوق کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ صحرائی نے کہاکہ جموں کشمیر سیاسی قیدیوں کو اپنے گھروں سے سینکڑوں اور ہزاروں میل دور جیلوں میں بند رکھنا انتقام گیری اور انسانی حقوق کے ساتھ کھلواڑ ہے، حالانکہ سپریم کورٹ کی واضح رولنگ کے مطابق ہر قیدی کو گھر کے نزدیک جیلوں میں رکھا جانا چاہیے۔  ۔ صحرائی نے ICRC، ایشیا واچ، انٹرنیشنل ہیومن رائٹس اور دیگر تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ سیاسی نظربندوں کی حالت زار کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے ریاست اور وادی سے باہر کے جیلوں سے ان قیدیوں کو واپس وادی لانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔