محرم الحرام 1439

وادی کے متعدد علاقوں میں عزاداری کے جلوس برآمد 

سرینگر// انجمن شرعی شیعیان اور اتحاد المسلمین کے اہتمام سے وادی کے طول و عرض میں جلوس ہائے عزا کا سلسلہ جاری رہاجبکہ خانقاہ معلی میں ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی ۔انجمن شرعی شیعیان کے اہتمام سے سب سے بڑے جلوس زوری گنڈ بڈگام اور رکھ آرتھ بمنہ سے برآمد ہوئے۔ جن دیگر مقامات پر جلوس برآمد کئے گئے ان میں سونہ پاہ بیروہ ، بڈگام ، کانی کچی میر بحری سرینگر، مغل محلہ باغوان پورہ، خانقاہ میر شمس الدین اراکی جڈی بل سرینگر، چنگہ محلہ شالیمار، گلشن باغ سرینگر، زالپورہ بانڈی پورہ ، اندکھلو سوناواری اور ملہ پورہ نوگام شامل ہیں۔ جلوس ہائے عزاءکے دوران مختلف مقامات پر علمائے دین نے معرکہ کربلا کے درس و پیغام کی وضاحت کرتے ہوئے عزاداروں کی توجہ دنیائے اسلام کی موجودہ صورتحال کی طرف مبذول کرائی۔ علمائے دین نے امام عالیمقام کے کردار و عمل کو دین و انسانیت کی سربلندی اورمظلومین جہاں کی نجات کا نقش راہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت دنیا کے کئی خطوں میں مسلمانوں پر مسلط قوتوں کا جبروقہر کربلا کا منظر پیش کررہا ہے۔علاقہ میر بحری میں پینے کے پانی کی سخت قلت پر کانی کچی میں جلوس عزا کے دوران متعلقہ محکمہ کے خلاف زبردست احتجاج کیا گیا۔دریں اثناءانجمن شرعی شیعیان کے زیر اہتمام نماز جمعہ امام باڑہ یاگی پورہ میں ادا کی جائے گی ۔اس حوالے سے کسی بھی تبدیلی کے متعلق فیصلہ انجمن شرعی شیعیان کے صدر آغا سید حسن کریںگے اور اس پر عوام کو پیشگی مطلع کیاجائے گا۔ اس دوران اتحاد المسلمین کے سرپرست اعلیٰ مولانا محمد عباس انصاری نے حضرت امام حسین ؑ اور ان کے اصحاب باوفا کی عظیم شہادت کو قیامت تک آنے والی نسلوں کیلئے مشعل راہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کربلا کسی حادثے کا نام نہیں بلکہ مسلسل تاریخی عوامل کے ساتھ ظہور پذیر ہونے والا وہ واقعہ ہے جس نے باطل کو ہمیشہ کیلئے نابو کردیا اور حق و انصاف کو ابدی فتح و نصرت سے ہمکنار کیا۔گلشن باغ مدین صاحب سرینگر میں علم شریف کے جلوس کی برآمدگی سے قبل ایک مجلس عزا سے خطاب کرتے ہوئے انصاری نے فلسفہ شہادت پر سیر حاصل روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ امام حسین ؑ کے عزاداروںکو قیام حسینی کے معنوی اہداف اور مقاصد کی طرف پوری طرح متوجہ ہونا چاہئے ۔

خانقاہ معلی میں تقریب

بانڈی پورہ میں حسینی ؑ مشاعرہ

بانڈی پورہ// تاریخی خانقاہِ معلی میں ےوم حسےنؓ کے سلسلے میں ایک پُروقار تقریب کا انعقاد ہوا، جس میں وادی کے اطراف و اکناف سے آئے ہوئے افراد نے شرکت کی۔ نمازِ ظہر سے قبل مولانا رےاض احمد ہمدانی نے کربلا کے واقعہ پر مفصل روشنی ڈالی ۔ نمازِ ظہر کے بعد ختمات المعظمات، دورد و ازکار کی مجلس بھی آراستہ ہوئی۔ ایسی ہی مجالس کا انعقاد خانقاہِ اول وچی، ڈورو شاہ آباد، ترال، سیر ہمدان، سوپور، نوبرا ،لیہہ لداخ، کھاگ، پانپور، چرار شریف اور دیگر مقامات پر بھی منعقد ہوئیں۔ضلع اطلاعاتی مرکز بانڈی پورہ نے گُل جعفر بز م ادب سوناواری کے اشتراک سے آستانِ عالیہ سید غریب شاہؒ ملہ پورہ سوناواری میں ایک حسینی مشاعرے کا اہتمام کیا۔معروف شاعر محتاج گنستانی نے مشاعرے کی صدارت کی جبکہ واجد عباس نے کارروائی انجام دی۔ مشاعرے میں سید محمد مدنی،غلام محمد مدہوش،دلشاد مصطفی ،غلام حسن اندلیب ،یوسف سلیم،حمید سائل،سید اس اللہ اوردیگر معروف شعرا¿ نے شرکت کی۔ 
 

جلوسوں پرپابندی نہیں: ڈویثرنل کمشنر

سرینگر //حکومت نے وضاحت کی ہے کہ کشمیر میں محرم کے جلوسوں پر کسی بھی قسم کی پابندی عائد نہیں ہے جیسا کہ سرینگر سے شائع ہونے والے ایک انگریزی روز نامہ میں رپورٹ شائع ہوئی ہے۔ رپورٹ پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے ڈویثرنل کمشنر کشمیر بصیر خان نے کہا کہ حکومت نے پہلے ہی مختلف سطحوں پر یہ واضح کیا ہے کہ محرم کے روائتی جلوسوں کو روایات کے تحت نکالنے کی اجازت دی گئی ہے جس کے لئے انتظامیہ نے مطلوبہ انتظامات بھی کر رکھے ہیں۔ڈویثرنل کمشنر نے کہا کہ محرم کے لئے انتظامات کا اعلیٰ سطح پر جائیزہ لیا گیا جہاں اشیاءضروریہ کی دستیابی بشمول پینے کے پانی، بلا خلل بجلی، آگ سے بچاو¿ کی خدمات، سٹریٹ لائٹنگ، راشن، ٹریفک کے انتظام، بالن کی فراہمی اور شیعہ آبادی والے علاقوں کے ارد گردسیکورٹی انتظامات کا مفصل جائیزہ لے کر منصوبہ بندی کی گئی ۔