محرم الحرام کی مناسبت سے منڈی میں نشست

عشرت حسین بٹ
منڈی//محرم الحرام 1444ہجری کے تحت ضلع پونچھ کی تحصیل منڈی کے مختلف امام بارگاہوں میں مجالس کا سلسلہ مسلسل جاری ہے جن میں ذکر امامِ حسین گزشتہ پانچ دنوں سے جاری ہے امام بارگا عالیہ منڈی میں پانچویں نشست کا آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا گیا بعد ازاں نعت خواں اور نوحہ خواں حضرات نے بارگاہِ امام حسین سلام میں اپنی عقیدت کے پھول نچھاور کئے ۔اس موقعہ پر مولانا سید جلال حیدر نقوی اپنے بیانات کئے ۔اس سلسلہ کی پانچویںنشست سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نواسیِ رسولﷺامامِ حسین نے سن اکسٹھ ہجری میں دین اسلام کی خاطر کربلا کی سر زمین پر بے مثال قربانی پیش کی جس کی دنیا میں آج تک مثال نہیں ملتی ان کا کہنا تھا کہ امامِ حسین نے کربلا کے میدان میں قربانی پیش کر کے دین اسلام کے تمام احکامات کو دوام بخشا ان کا کہنا تھا کہ حسین کی قربانی کی ہی وجہ سے آج مسجدوں سے آزانوں کی صدایں آتی ہیں لوگ حج کرتے ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ آج کے دور میں بھی دین اسلام کو یزید صفت لوگ نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں مگر جب تک حسین جیسا مزاج رکھنے والے لوگ زندہ ہیں قیامت تک دین اسلام پھلتا اور پھولتا رہے گا انہوں نے مسلمانوں کو آپسی بھائی چارے اور دین اسلام کی سر بلندی کے لئے آگے آنے کو کہا تاکہ مسلمان ہر میدانِ عمل میں کامیاب رہیں مجلس کے دوران روایتی کشمیر مرثیہ بھی پڑھا گیا بعد ازاں عزاداروں نے سینہ کوبی کر کے امام حسین کو پرسہ پیش کیا۔

 

امام بارگاہ پونچھ میں محرم الحرام کی پانچویں مجلس منعقد
حسین محتشم
پونچھ//امام بارگاہ عالیہ پہنچ میں محرم الحرام کے سلسلہ میں مجالس عزا کا سلسلہ جاری ہے اس سلسلہ کی پانچویں مجلس بھی حسب دستور تلاوت قرآن پاک سے شروع ہوا جس کے بعد ثناء خواں حضرات نے نعت و منقبت، قصہدہ و سلا اور نوحہ کے نزرانے پیش کر کے محمد و آل محمد کے حضور خراج تحسین پیش کیا۔اس دوران کفران نعمت اور شکران نعمت کے موضوع پر اپنی گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے بیرون ریاست سے تشریف فرما مولانا سید نامدار عباس رضوی نے کہا کہ قرآن کریم میں ارشاد خداوندی ہے کہ حد سے جھکنا بھی ظلم ہے حد سے بڑھ جانا بھی ظلم ہے۔ انہوں نے کہا موت ایک نعمت ہے۔قران کریم میں ایک مقام پر ارشاد ہواہے ہم نے تمہاری تقدیر میں موت کو رکھا ہے اور ایک اور مقام پر ہے کہ موت نعمت ہے سزا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا ایک انسان نے 20 قتل کئے دنیا والے اسے سزائے موت دیتے ہیں اس کے لئے موت کی سزا سزانہیں ہے بلکہ عبرت یے۔انہوں نے کہا اگر موت نہ ہو تو دنیا کا نظام درہم برہم ہوجائے گی۔ موت کو جتنا یاد کیا جائے اتنی اس میں پاکیزگی آئے گی۔انہوں نے کہا رسول اکرم ؐ فرماتے ہیں دنیا مومن کے لئے قید خانہ ہے۔ایک اورمقام پر رسولﷺ فرماتے ہیں موت مومن کے لئے تحفہ ہے۔ انہوں نے کہا جو اللہ نے ہمیں دیا ہے ہمیں اس پر نظر رکھنی چاہئے۔جو نہیں دیا اس کے لئے دعا کرنی اگر ہمارے حق میں بہتر ہو گا تو اللہ عطا کرے گا۔انہوں نے کہا امام حسین نے شب عاشور جو خطبہ شروع کیا ہے تو شروعات میں خدا کا شکر کیا۔انہوں نے کہا یہ شکر اس وقت کیا جب امام اور ان کے اقرباء تین دن سے پیاسے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امام حسین نے ہم کو سبق دیا ہے کہ تمنکو جو ملا ہے اس پہ راضی ہو جانا چاہئے۔مولانا کے خطاب کے بعد حسب دستور کشمیری مرثیہ ہوا اور نوجوانوں نے ماتم و نوحہ کیا اور دعا و سلام پر مجلس عزا اختتام پذیر ہوئی۔