محبوس تحریک حریت چیئرمین محمد اشرف صحرائی جموں میں انتقال کر گئے

 سرینگر // محبوس تحریک حریت چیئر مین محمد اشرف صحرائی گورنمنٹ میڈیکل کالج جموں میں انتقال کر گئے ہیں۔انکی عمر 77 تھی۔بتایا جاتا ہے کہ ادہم پور سینٹرل جیل میں منگل کی سہ پہر انکی طبیعت خراب ہوئی اور انہیں جی ایم سی جموںمیں داخل کیا گیا ۔انکی خرابی صحت  کے بارے میں جیل حکام نے انکے اہل خانہ کو مطلع کیا تھا۔انہیں وینٹی لیٹر سپورٹ پر رکھا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکے اور رات کے ساڑھے دس بجے انتقال کر گئے۔جی ایم سی کے میڈیکل سپر انٹنڈنٹ کا کہنا ہے کہ انکا کوویڈ ریپڈ ٹیسٹ کرایا گیا تھا جو منفی آیا جس کے بعد انکا پی ٹی سی آر کرایا گیا جس کی رپورٹ کا انتظار ہے۔محمداشرف صحرائی ،سید علی شاہ گیلانی کے بعد تحریک حریت کے سب سے قد آور لیڈر رہے۔انکی زندگی زیادہ تر جیلوں کی نذر ہوگئی۔وہ 1944میں ٹکی پوری لولاب کپوارہ میں شمس الدین خان کے ہاں پیدا ہوئے۔انکے دو بڑے بھائی محمد یوسف خان اور قمر الدین خان بھی تھے جو دونوں بالترتیب 2016اور 2009میں فوت ہوگئے ہیں۔انہوں نے نے ابتدائی تعلیم ٹکی پورہ اپنے آبائی گائوں میں ہی حاصل کی اور1959میں سوگام لولاب سے دسویں کا امتحان پاس کیا ۔ انہیں اچھے نمبرات لینے کے عوض سکالر شپ بھی ملی تھی۔اسکے بعد انہوں نے آرٹس (اردو میںآنرس) مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے مکمل کیا۔طلب علمی کے زمانے سے ہی مرحوم نے سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کیا تھا۔انہیں شاعری سے بیحد لگائو تھا اور انہوں نے بہت ساری نظمیں اور غزلیں لکھیں جو جماعت اسلامی کے ترجمان اخبار روزنامہ’ اذان‘ اور ’طلوع‘ میگزین میں شائع ہوتے رہتے تھے۔طلوع میگزین انہوں نے 1969میں سوپور سے نکالنا شروع کیا تھا۔انکے 6بچے ہیں۔ سب سے چھوٹے بیٹے جنید صحرائی نے 2018میں ہتھیار اٹھائے تھے، جو 19مئی 2020کو فورسز کیساتھ جھڑپ میں جاں بحق ہوئے۔صحرائی 1959سے سید علی شاہ گیلانی کے پیروکار بن گئے تھے۔وہ 1960میں جماعت اسلامی کے ’رکن‘ بن گئے۔ انہیں پہلی بار حکومت مخالف سرگرمیوں کی پاداش میں22سال کی عمر میں1965میں وزیر اعلیٰ جی ایم صادق سرکار کی جانب سے گرفتار کیا گیا، جب موئے مقدس مجلس عمل اراکین کو گرفتار کیا گیا تھا۔وہ سرینگر سینٹرل جیل میں 6ماہ تک قید کئے گئے تھے۔اسکے بعد انہوں نے ’ طلوع میگزین‘ کی طرف ہی زیادہ دھیان دیااور جماعت اسلامی ورکروں نے انکے خلاف شکایات کیں اور نتیجے کے طور پر انہیں طلوع میگزین 1971میں بند کرنا پڑا۔جب 2004میں تحریک حریت کی بنیاد ڈالی گئی تو جماعت اسلامی نے سید علی شاہ گیلانی کو جماعت سے برطرف کیا اور مرحوم بھی جماعت سے الگ ہوئے۔ انہیں تحریک حریت کا جنرل سیکریٹری بنایا گیا۔جب 2016-17ایجی ٹیشن  شروع ہوئی تو قومی تحقیقاتی ایجنسی( این آئی اے) نے  ایک رپورٹ جاری کی تھی جس میں احتجاجی کلینڈر جاری کرنے اور ملک دشمن سرگرمیوں میں انہیں ملوث قرار دیا گیا تھا۔انہیں 19مارچ2018میں تحریک حریت مجلس شوریٰ کا کارگذار چیئر مین منتخب کیا گیا اسکے بعد انہیں تین سال تک چیئرمین منتخب کیا گیا جب گیلانی صاحب نے تحریک حریت سے کنارہ کشی اختیار کی۔انہیں 19اگست 2019کو مرکزی فیصلے کے دوران گیلانی سمیت خانہ نظر بند کیا گیا ۔لیکن  12جولائی2020کو انہیں پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت حراست میں لیا گیا ، تب سے وہ محبوس تھے۔