محبوبہ مفتی تاریخ کشمیراور تحریک کشمیر سے نابلد

سرینگر//نیشنل کانفرنس کے معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفےٰ کمال نے کہا ہے کہ بدقسمتی سے جموں وکشمیر پر ایک ایسی حکومت مسلط ہوئی ہے، جس کی وزیر اعلیٰ تاریخ کشمیراور تحریک کشمیر سے نابلد ہونے کے ساتھ ساتھ نااہل اور غیر سنجیدہ ہیں۔ شیر کشمیر بھون جموں میں کارکنوں اور عہدیداروں کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے معاون جنرل سکریٹری نے کہا کہ صدرِ نیشنل کانفرنس ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے بھارت کو مذاکرات کی بحالی کیلئے امریکہ اور چین سے تعاون طلب کرنے کی بات کہی تھی نہ کی فوجی مداخلت کرنے کی اپیل کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ محبوبہ مفتی کہتی ہیں کہ امریکہ کی مداخلت سے کشمیر میں افغانستان، شام اور عراق جیسے حالات پیدا ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے روز پی ڈی پی نے ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے بیان کا خیر مقدم کیا لیکن ناگپور سے کان کھنچائی کے ساتھ ہی بیان تبدیل ہوگیا اور محبوبہ مفتی بذات خود اس کی تردید کرنے کیلئے آگے آئیں اور کہا کہ امریکہ کی مداخلت سے کشمیر شام اور عراق بن جائے گا۔ ڈاکٹر کمال نے کہا کہ ناگپور میں اپنے آقاﺅں کو خوش کرنے کیلئے محبوبہ مفتی نے ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے ’مسئلہ کشمیر کے حل اور مذاکرات کی بحالی میں امریکی اور چینی تعاون‘ کی بات کو فوجی مداخلت میں تبدیل کردیا۔ڈاکٹر کمال نے کہا کہ مرحوم مفتی محمد سعید ، اُن کی جماعت پی ڈی پی اور اُن کے ساجھیداروں بھاجپا کی مہربانی سے کشمیر کے حالات عراق اور شام سے بدتر ہیں۔ڈاکٹر کمال نے خبردار کیا کہ اگر اب بھی مسئلہ کشمیر کے سیاسی حل کیلئے بات چیت نہ ہوئی تو کشمیر کے حالات شام اور عراق سے بدتر ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ محبوبہ مفتی کے دورِ حکومت میں پولیس اہلکار تھانوں میں محفوظ نہیں عوام کا تو خدا ہی حافظ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھاجپا اور پی ڈی پی کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے آج سرحدوں پر گن گرج جاری ہے ارو آئے روز قیمتی جانون کا اتلاف ہورہاہے۔ محبوبہ مفتی کو عوام سے اس بات کی وضاحت کرنی چاہئے کہ کم از کم مشترکہ پروگرام میں پاکستان اور حریت کیساتھ بات چیت کا وعدہ ابھی تک پورا کیوں نہیں ہوا۔ 3سال گذرنے کے باوجود بھی مسئلہ کشمیر پر کوئی پیش رفت کیوں نہیں ہوئی، سرحدوں پر خاموشی کیوں نہیں ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی طرف سے بھارت کو امریکہ اور چین سے مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے تعاون طلب کرنے کی بات بروقت اور اہم ہے اور مرکزی سرکار کو ہٹ دھرمی کا راستہ ترک کرکے ڈاکٹرفاروق کی تجویز پر غور کرنا چاہئے۔