مجھ کو اک سانس کی ضرورت ہے

زمین پہ انسان خدا بنا تھا وبا سے پہلے
وہ خود کو سب کچھ سمجھ رہا تھا وبا سے پہلے
پلک جھپکتے ہی سارا منظر بدل گیا ہے
یہاں تو میلہ لگا ہوا تھا وبا سے پے
(عنبرین حسیب عنبر )
 گزشتہ ایک ڈیڑھ سال سے لگاتار دنیا کی پوری انسانی آبادی کرونا وبائی بیماری کی لپیٹ میں آچکی ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک میں لاکھوں جانیں اس سے تلف ہوچکی ہیں نیز پوری آبادی اجتماعی اقتصادی بحران کی شکار ہوئی ہے۔ بہت سارے لوگ نجی اداروں میں کام کرنے والے اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ماضی کی غلطیوں سے مکمل طور پر کوئی سبق حاصل نہ کرنے کی وجہ سے جو خمیازہ آج کی تاریخ میں دنیا کو اٹھانا پڑ رہا ہے، اس سے بڑھ کر اور کیا لرزہ خیزی ہوسکتی ہے کہ ہر فرد زندہ رہنے کے لیے سانسوں کو خریدنے کے لیے زار و قطار رو رہا ہے اور کوئی یہ سانسیں فراہم نہیں کر پارہا ۔آئے روز کی خبریں بتا رہی ہیں کہ ہسپتالوں نے ہاتھ کھڑے کیے، ڈاکٹر حضرات بے بس ہیں ،مریضوں کی تعداد روزبروز بڑھ رہی ہے۔زندگی کی جنگ ہارنے والوں کی چتائیں اور لاشیں انتم سنسکار یا دفن ہونے کے لئے سڑکوں پر اپنی اپنی باری کا انتظار کرتے ہوے دیکھی گئی ہیں کہ کب انکی باری آئے گی۔ حق تو یہ ہے کہ ان مرنے والوں کی تو لاشیں احترام سے ان کے لواحقین نے اٹھائیں، کیا پتہ آنے والے ایام میں زندہ آبادی کی جب یہ حالت ہوگی تو شاید ہماری لاشوں کو اٹھانے والے بھی میسر نہ ہونگے۔
شکریہ اے قبر تک پہنچانے والوشکریہ 
اب اکیلے ہی چلے جائیں گے اس منزل سے ہم
(قمر جلالوی)
والدین اپنے نوجوان لخت جگروں کی لاشوں کو گود میں لیے پھر رہے ہیں، اولاد اپنی والدین کی لاشوں کو اپنے بازئوں میں اٹھائے فریادی ہیں اور جو لوگ ابھی زندہ ہیں،وہ سانسوں کی خریداری میں شہر بہ شہر ،کوبہ کو ،گلی گلی اور ہر نکڑ میں سانسوں کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔غریب عوام اس انتظار میں ہے کہ کب انکی موت آئے تاکہ وہ آسانی سے مر جائیں۔ اب اگر ہمارے شہر میں کوئی دعا مانگی جاتی ہے تو وہ یہی کہ اے خدا ہمیں ذرا سکون سے موت دے۔ جیساکہ پہلے ہی ذکر ہوچکا ہے کہ کرونا وایرس نے گزشتہ سال سے لیکر آج کی تاریخ تک کروڑوں نفوس کو متاثر کیا اور لاکھوں کی تعداد میں جانیں چلی گئیں۔ دنیا کے کم وبیش تمام ممالک کا ہیلتھ سیکٹر کولیپس ہوگیا حالانکہ ابتدائی ایام میں چین نے اس بیماری کو لیکر کے اپنے ہیلتھ سیکٹر کو انتہائی بااثر بنایا جس کی وجہ سے انھوں نے اپنے لوگوں کی زندگیاں محفوظ کیں۔یہ تراکیب اگر باقی ممالک نے اپنے اپنے ملکوں میں آزمائی ہوتیں تو شاید بہت حد تک عوام کو بچایا جاسکتا لیکن ایسا قبل از وقت ممکن نہ ہوسکا جس کی وجہ سے اس قدر افراتفری پھیل چکی ہے ۔ماہرین کا ماننا ہے اب کی بار یہ وایرس ہوا میں پھیل چکا ہے جس کی وجہ سے اب ہوا بھی سنبھل سنبھل کر لینی ہو گی۔ بقول شاعر  ؎
پر مجھ کو ہوا سے اک شکایت ہے 
مجھ کو اک سانس کی ضرورت ہے
(شفق سوپوری) 
ہندوستان کی کثیر آبادی اس وقت مشکل دور سے گزر رہی ہے۔ شہروں کے شہر متاثر ہیں ،گائوں کے گائوں۔ حد تو یہ ہے جس فیملی میں یہ وبا پھیل جاتی ہے پوری فیملی لپیٹ میں آجاتی ہے۔ اب کی بار بقول ڈاکٹر اسکی تشخیص بھی مشکل بن چکی ہے۔جب تک یہ بیماری آدمی میں پوری طرح پھیل جاتی ہے تب تک کوئی اس کے خاص علامات نظر نہیں آتے ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق اگر انفیکشن اسی طرح پھیلتا رہا اور جلد ویکسین نہ لگائی گئی تومئی سے نصف جون تک کروڈوں لوگوں کی موت ہندوستان میں واقع ہوسکتی ہے۔سماجی رابطہ گاہوں ،مختلف میڈیا رپورٹس ،ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے سے جو خبریں اس حوالے سے موصول ہورہی ہیں ان کو دیکھ کر ہر انسان کے لیے اپنے آنسوروکنا مشکل ہوجاتا ہے۔ ایک ویڈیو میں ایسی صورت حال کو دیکھا جاسکتا ہے جس میں ایک لاش کو کسی ہسپتال کے کونے میں رکھا گیا ہے اور ایک بھوکا کتا اس لاش کے کسی حصے کو اپنے منہ سے نوچ رہا ہے۔ یقین مانئے یہ دیڈیو دیکھ کر میری آنکھوں سے بے ساختہ آنسو بہنے شروع ہوگئے ۔اسی طرح بی بی سی اردوپر ایک صحافی نے سٹوری کی تھی جس میں ایک عورت بیان کر رہی تھی کہ لاکھوں روپیہ ہاتھوں میں ہونے کے باوجود بھی وہ اپنے والد کی جان نہ بچاسکی ۔ان کا کہنا تھا جب اصرار کرنے کے باوجود مجھے ہسپتال میں بیڈ نہ ملا تو میں نے ڈاکٹر پر اپنی سفارس کا دبائو بنایا اور انھوں نے مجھے صحیح صورتحال سے آگاہ کرتے ہوے ہسپتال کا وارڈ دکھایا جہاں پر صرف لاشیں ہی لاشیں ایک دوسرے کے اوپر پڑی تھی اور میں یہ منظر دیکھ کر حواس باختہ ہوگئی۔ایک نوجوان اپنی حاملہ بیوی کی موت کو یاد کرتے ہوے اپنی بے بسی کو یوں بیان کر رہاہے کہ تین بار ایک ہسپتال سے لیکر دوسرے ہسپتال دوڑتا رہا ،کرونا ٹیسٹ کراتا رہا ،تین بار نگیٹو رپورٹ آئی لیکن صحت کی خراب حالت اس بات کی گواہی دے رہی تھی کہ میری بیوی کرونا پازیٹیو ہے اور جب چوتھی بار ٹیسٹ کرایا گیا تو وہ مثبت پایا گیا اور علاج شروع کیا گیا لیکن تب تک بہت دیر ہو چکی تھی اور مجھے دو روز بعد یہ خبر دی گی کہ آکسیجن کی کمی  کے باعث میری حاملہ بیوی مجھے چھوڑ کر چلی گئی۔
 اسی نوعیت کے مختلف واقعات نیز مریضوں کو تڑپتے دیکھ کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور دل سے بس یہی دعائیں نکلتی ہیں کہ اے پروردگار اب بس بھی کر، یہ زمین مردہ انسانوں سے بھر چکی ہے۔ اس وقت انسانیت غیر انسانی رویوں کے ہاتھوں لٹ رہی ہے۔ بہت سارے نجی ہسپتال مریضوں کے تیمارداروں سے موٹی موٹی رقمیں حاصل کرکے ان کے مریضوں کو محض ایک کیس اور کنزیمور کی بنیاد پر ہسپتال میں داخلہ دیتے ہیں اور آکسیجن کی کم مقدار دیکر اس مریض کو خدا کے رحم وکرم پر چھوڑکر آکسیجن کا زخیرہ کرکے باقی نئے مریضوں کی بھرتی یقینی بناکر مزید رقومات حاصل کرنے کی دوڑ میں پڑچکے ہیں۔سوشل میڈیا پر چند ایک مریضوں کی حالت دیکھ کر لرزہ طاری ہو ا۔ایک نوجوان انجینئر جس کے والد نے چائے کی دکان پر کام کرتے کرتے اپنی اولاد کو پڑھا لکھا کر ایک کامیاب انجینئر بنایا لیکن تقدیر مزید ساتھ نہیں دے سکی۔ یہ انجینئرپورے چھتیس گھنٹے باپ کی گود میں تڑپتا رہا اوربالآخر ہسپتال میں بیڈ نہ ملنے کی وجہ سے چل بسا ۔اس کا باپ اپنی باہوں میں ساری عمر کی کمائی ہوئی دولت کو گویا سمیٹ رہا تھا۔ شمشان گاٹ لے جانے کے لیے موجودہ منظر نامے دیکھ کر کامیو کا مشہور ناول دی پلیگ یاد آتا ہے۔حال ہی میں فوت ہوئے اردو کے مقبول فکشن رایٹر کاناول مرگ انبوہ میں بھی اسی طرح کی صورت حال کو دیکھا جاسکتا ہے جس میں لاشوں کا ڈھیر نظر ااتا ہے حالانکہ اس کا اشارہ سیاسی منظر نامے سے متعلق تھا لیکن اب کی صورت حال کے تناظر میں ان اشعار سے پوری تصویر صاف نظر آرہی ہے۔
 حقیقت یہ ہے کہ آج کی جس صورتحال کا سامنا ہمیں ہے، کیا ہم بھی کہیں اس کے ذمہ دار مت ہیں۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم نے اس سب پر عمل کیا جس پر عمل کرنا لازم تھا۔ عالمی سطح پر جاری کردہ احتیاطی تدابیر کے حوالے سے تو شاید یقینی طور پر اس کا جواب نفی میں ہوگا کہ واقعی ہم نے ان تدابیر پر عمل نہیں کیا ۔ہم نے سماجی دوری قایم نہیں کی ،ہم نے مذہبی تہواروں کو جوش و خروش سے منایا ،ہم نے کھلے عام بڑی بڑی تقاریب کا انعقاد کیا ،ہم نے سیاحتی مقامات پر خوب ریل پیل جمع کی، ہم نے ریلوے سٹیشنوں پر تدابیر نہیں اختیار کیں ،ہم نے بازاروں میں سوشل ڈسٹنسنگ کا اہتمام نہیں کیا ۔کون سی جگہ ایسی ہے جہاں پر ہم خود احتیاط برت چکے ہیں یا متعلقہ حکام نے احتیاط برتنے کے لیے مجبور کیا ہوتا جس طرح اب کرتی ہے۔
جموں و کشمیر کی صورتحال بھی کچھ خاص تسلی بخش نہیں ہے ۔یہاں بھی یومیہ بنیادوں پر ہزاروں کی تعداد میں کرونا پازیٹیو کیسز آرہے ہیں ۔پچاس سے زاید اموات یومیہ درج کی جارہی ہیں جو کہ ہر فرد کے لیے چشم کشا ہے۔یہ الگ بات ہے کہ ہم پر نہ ماننے کے بھوت کا آسیب سوار ہوچکا ہے جو شاید مغل دور حکومت میں ہی ہوا تھا لیکن یقین مانئے حقیقی صورتحال یہی ہے اور ہماری صورتحال سے آپ اور مجھ سے زیادہ کون واقف ہو سکتا ہے۔ ہم ہی جانتے ہیں کہ خدا نہ کرے اگر ہمارے یہاں صورتحال مہاراشٹرا یا دہلی کی طرح ہوگی تو کون بچ پائے گا، اسی لیے ہمیں اپنے آپ کے ساتھ ساتھ اپنی پوری فیملی کو بچانا ہوگا اور اسطرح سے ہم پورے محلے کو محفوظ رکھ سکتے ہیں کیونکہ فی الوقت علاج اس دوری میں مضمر ہے یا یوں کہیں کہ  موت اور حیات کے درمیاں اگر کوئی ہے تو وہ یہی تدابیرہیں جن میں سماجی دوری، ماسک کا استعمال، ہاتھوں کی بار بار صفائی ،سینیٹایز ر کا ستعمال ، اپنی طبی جانچ خاص کر کرونا ٹیسٹ کروانا نیز اسی طرح کی باقی تدبیریں شامل ہیں۔بقول شاعر  ؎  
کوئی دوا بھی نہیں ہے یہی تو رونا ہے  
صد احتیاط کہ پھیلا ہوا کرونا ہے
(وجیہ ثانی) 
مجھ کو زندگی سے محبت ہے
مجھ کو اک سانس کی ضرورت ہے 
(شفق سوپوری)
(مقالہ نگار ڈگری کالج حاجن کے شعبہ اردو میں اسسٹنٹ پروفیسرہیں)
��������