مجھ سے برا نہ کُوئے

اذان کے حوالے سے سارے بھارت میں بہت سی باتیں ہوئیں،کئی اعتراضات اٹھائے گئے اور ’’خوئے بدرا بہانہ بسیار‘‘کے مصداق طرح طرح کے مفروضات گھڑلئے گئے ۔اس ضمن میں گرچہ پہلے ہی اپنی بات بتاچکا ہوںاور اعتراضات کا جواب بھی گوش گزار کرچکا ہوں مگر بات کچھ ایسی بنی کہ راقم کو پھر سے اس موضوع کو چھیڑنا پڑا ۔کچھ عرصہ قبل بہت دنوں تک بھارت کی بیشتر ٹیلی ویژن چینلوں سے مباحثے نشر ہوتے رہے ،جن میں حکومت وقت کے کئی صاحب ِاقتدار کج کلاہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے اور اذان کی مخالفت میں بے سروپا باتیں کرتے رہے بلکہ اپنے بیان کی موافقت میں وہ لوگ اکثر و بیشتر کبیرؔ کی ایک بانی یا دوہے کاحوالہ دیتے وقت اپنی مونچھوں پر تائو دیا کرتے تھے گویا علم و ادب اور عقل و فراست اُن پر ہی تمام ہوئی تھی ۔بھگت کبیرؔ کی وانی ،بانی یا دوہا اس طرح سے ہے      ؎
کنکر پتھر جوڑ کے مسجد ئی بنائے 
تا چڑھ ملا بانگ دے کیا بہرا ہوا خدائے
یہ دوہا واقعتاً سنت کبیر نے کہا ہے تو میں ڈنکے کی چوٹ پر کہہ سکتا ہوں کہ وہ ناواقف ِمحض اورگیان دھیان سے عاری تھا اور اگر اُس کا کہا ہوا نہیں ہے بلکہ اُس کے ساتھ منسوب کیا گیا ہے تو میں واقعی اپنے الفاظ کے لئے بصدق دل معذرت خواہ ہوں۔جہاں تک باتیں ،مقولے اور اشعار وغیرہ ایک دوسرے کے ساتھ جوڑنے کا تعلق ہے، اُس کی زبان و ادب کی تاریخ میں کئی مثالیں موجود ہیں ۔کچھ باتیں یا اشعار غلطی سے دوسرے کے ساتھ وابستہ کردئے جاتے ہیں جب کہ کچھ غلط فہمی کی بنا پر امتدادِ زمانہ کے ساتھ ساتھ جڑ جاتے ہیں ۔اس بات کومیں مثال دے کر سمجھانے کی کوشش کروں گا ۔مثلاً اردو زبان کا ایک مشہور اور زبان زد عام شعر ہے    ؎
وہ آئے بزم میں اتنا تو میرؔ نے دیکھا 
پھر اُس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی
اردو زبان کے معروف نقاد نیاز ؔ فتحپوری نے اپنے رسالے ’’نگار‘‘ میں اس شعر کو میر تقی میر ؔکے ساتھ منسوب کردیا تھا جس سے اُس وقت رام پور کے ادبی حلقوں میں خاصی کھلبھلی مچ گئی ۔مشہور ادیب رازؔ یزدانی نے اس پر ایک مدلل مضمون لکھ کر یہ انکشاف کیا کہ یہ شعر میر تقی میر ؔکے کسی دیوان میں موجود نہیں ہے بلکہ اصل میں یہ شعر الطاف الرحمٰن خان فکرؔ یزدانی کا ہے جس کی صحیح صورت اس طرح سے ہے    ؎
وہ آئے بزم میں اتنا تو فکرؔ نے دیکھا 
پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی
دوسری مثال یوں عرض کرتا ہوں کہ عام طور پر یہی خیال کیا جاتا ہے کہ یہ شعر بادر شاہ ظفر ؔ کا ہے   ؎
عمر درازمانگ کے لائے تھے چار دن 
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں
اور ظفرؔ کی اس غزل سے ہے جس کا مطلع ہے    ؎
لگتا نہیں ہے دل میرا اُجڑے دیار میں 
کس کی بنی ہے عالم ِنا پائیدار میں
’’تحریک ادب‘‘بنارس کے مجلہ سلسلہ نمبر 5میں ذرہؔ حیدرآبادی ( حال امریکہ)نے تحقیق سے یہ بات ثابت کیا ہے کہ یہ شعر بہادر شاہ ظفرؔ کا نہیں بلکہ سیمابؔ اکبر آبادی کا ہے، چونکہ مجنور ؔسعدی نے بھی کچھ عرصہ تک استاد سیمابؔ سے کسب ِفیض کیا تھا تو انہوں نے بھی اس بات کی تصدیق کی بلکہ مصرعہ اولیٰ میں صحیح ہونے کی یوں دُرستی فرمائی     ع
عمر دراز مانگ کے لائی تھی چار دن 
سیماب ؔ اکبرآبادی کی تحریر کردہ کتاب کلیم عجم  ؔصفحہ نمبر 372؍کی نو اشعار کی غزل کا یہ آٹھواں شعر ہے ۔تو عرض کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ایک خدا ترس سنت عارف باللہ صوفی جو اس طرح کے اُپدیش دیتاتھا اور وعظ ونصیحت والی باتیں بتایا کرتا تھا    ؎
کبیراؔ تیری جھونپڑی گل کٹین کے پاس 
کرن سو بھرن گے تُو کیوں بھیا اداس 
یا دوسری ایک جگہ کتنی خوبصورت بات بتائی ہے    ؎ 
بُرا دیکھن میں چلا بُرا نہ ملیا کوئے
بیر اپنے جھانکیا تومجھ سے بُرا نہ کوئے
اسی طرح دنیا کی بے ثباتی کا کس طرح موثر اور دل کو چھونے والے الفاظ کے ساتھ ذکر کرتے ہیں    ؎
چلتی چکی دیکھ کے دیا کبیراؔ روئے 
دو پاٹن کے بیج میں ثابت بچا نہ کوئے
اور یہی خدا ترس ،دنیا و مافیہا سے دور سادھو جب یہ کہے      ؎
کنکر پتھر جوڑ کے مسجد بنائے 
تاچڑھ ملا بانگ دے کیا بہر ہوا خدائے
جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ مٹی گارے اور پتھر وغیرہ سے لوگوں نے مسجد کھڑی کردی اور ملا مینار پر چڑھ کر خدا کو پکارنے کے لئے اذان دیتا ہے ،تو کیا (نعوذباللہ)خدا بہرا ہوگیا ہے جو اُس کو سنانے کے لئے اونچی جگہ پر کھڑے ہوکر پکاراجاتا ہے ؟اب یہ ایک سیدھی بات ہے کہ جب اذان دی جاتی ہے پھر مسجد کے اندر سے دیں یا مینار سے ،اذان کا مطلب خدا کو پکارنا یا اسے سنانا نہیں ہوتا بلکہ موذن اولاً خدا کی کبریائی اور عظمت بیان کرتا ہے پھر حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے پیغمبر ہونے کی شہادت دیتا ہے اور اُس کے بعد تمام لوگوں جن کے کانوں تک اُس کی آواز جاتی ہے اُنہیں نماز میں آنے کی دعوت دیتا ہے بلکہ یہ بھی کہتا ہے کہ نماز فلاح اور کامیابی کا راستہ ہے ،بہتر راستہ ہے اور اس راستے پر ہی چل کر کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے ۔
تو عرض کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ایک خدا ترس صوفی منش بزرگ کو کیا یہ بات معلوم نہیں تھی کہ اذان خدا کو پکارنے،سنانے یا اسے کوئی عرضداشت کرنے کے لئے نہیں دی جاتی ہے بلکہ یہ صرف لوگوں کو بلانے کے لئے دی جاتی ہے ۔تو کیا یہ ممکن ہے کہ وہ ایسی بے تکی بات کرسکتے تھے؟اُن کا جنم کہاں بھی ،کیسے بھی ہوا ،اُس موضوع کو صرفِ نظر کرکے یہ بات بہر حال قابل غور اور باعث دلچسپی ہے کہ اُن کی پرورش بالکل پیدا ہونے کے دن سے ہی ایک مسلمان جولاہے کے گھر میں ہوئی۔اول تو پرانے وقتوں کے بزرگ خدا ترس اور خدا پرست ہوتے ہی تھے اور اُس کے باوجود بھی فی المثل اگر جولا ہا دین سے دور بھی رہا ہوگا تو بھی مسلمان گھروں میں کسی نہ کسی صورت سے نماز ،روزہ ،اذان ،خیرات ،تلاوت ،اذکار کھانے پینے کے دوران حمد وثنا ،شکر و سپاس وغیرہ کا ذکر اور عمل آوری ہوتی رہتی ہے ۔اس لئے ان باتوں کی روشنی میں،میں سمجھتا ہوں کہ اس دوہا یا بانی کو سنت جی کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے ۔اُن کی حیات اور بے داغ کردار کی روشنی میں یہ بات سدھ ہوجاتی ہے کہ سنت جی کا اس بانی کے ساتھ دور کا بھی واسطہ نہیںہوسکتا ۔ایک مسلمان کے گھر میں اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارنے والے کو کم از کم اتنا تو گیان ہوگا ہی کہ اذان کیوں اور کس لئے دی جاتی ہے ۔یہ درویش ،سادھو منش دراصل لوبھ لابھ لالچ اور چھل کپٹ سے پرے ،بے لوث اور اس طرح کے لوگ ہوتے ہیں    ؎
رحیما ؔدھاگا پریم کا مت توڑو چٹکائے 
توڑے سے پھرنا جُڑے ،جُڑے تو گانٹھ پڑجائے
  (سنت رحیمؔ)
رابطہ:- پوسٹ باکس :691جی پی او سرینگر-190001،کشمیر،
  موبائل نمبر:-9419475995