مجوزہ سرینڈر و بازآبادکاری پالیسی پرتحفظات

جموں// نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفی کمال نے مجوزہ سرینڈر و بازآبادکاری پالیسی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری جنگجوئوں کو پیسوں سے خریدا نہیں جاسکتا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ریاستی اور مرکزی حکومت اس مجوزہ پالیسی کے ذریعے خود میدان میں اتارے گئے ایجنٹوں کی بازآبادکاری کرنا چاہتی ہے۔ ڈاکٹر کمال نے کہا کہ کشمیری نوجوانوں کو بندوق کی طرف دھکیلنے کے لئے نئی دہلی ذمہ دار ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی دہلی کو سرینڈر و بازآبادکاری پالیسی بنانے کے بجائے یہ جاننا چاہیے کہ کشمیری نوجوانوں کے ہاتھوں میں بندوقیں کیوں ہیں۔ مصطفی کمال جو کہ نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے برادر اصغر ہیں، نے پیر کے روز یہاں کہا ’ملی ٹینسی کو آج 30 سال ہوگئے ہیں۔ اب یہ پالیسی بنائیں گے کہ جو خودسپردگی اختیار کرے گا اس کو پیسے دیے جائیں گے۔ ملی ٹینٹوں کو معلوم ہے کہ آج نہیں تو کل انہیں گولی کھانی ہے۔ مجھے نہیں لگتا ہے کہ ان کو پیسوں سے خریدا جائے گا۔ یہ لوگ کس کو بیوقوف بنا رہے ہیں۔ اس پالیسی کے ذریعے یہ اپنے چیلوں کو خریدنے کا کام کریں گے۔ یا ان لوگوں کو خریدا جائے گا جن کو میدان میں اتارا گیا ہے۔ ان کی مدد کے لئے یہ چکر چلایا جارہا ہے‘۔ انہوں نے کہا ’کئی بار ایسا ہوا کہ ماں باپ نے اپنے بچوں سے بندوق چھوڑنے کی اپیل کی مگر انہوں نے اپنے ماں باپ کی نہیں سنی۔ اب ریاستی اور مرکزی حکومت لوگوں کو بیوقوف بنانے والی پالیسی بنا رہی ہے۔ یہ پالیسی کامیاب نہیں ہوگی۔ یہ ملی ٹینسی کی اصل وجہ کو نظرانداز کررہے ہیں۔ غلطی سے بھی یہ جاننے کی کوشش نہیں کرتے کہ نوجوانوں کے ہاتھوں میں بندوقیں کیوں ہیں۔ مرکزی حکومت کو اپنا وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے‘۔ واضح رہے کہ ریاستی گورنر ستیہ پال ملک نے 24 جنوری کو جموں میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ کشمیری جنگجوئوں کو بازآبادکاری کی پیشکش کی جائے گی۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس حوالے سے ایک بازآبادکاری پالیسی ترتیب دینے پر غور وخوض کیا جارہا ہے۔ مصطفی کمال نے کہا کہ حکومت کو سرینڈر و بازآبادکاری پالیسی بنانے سے قبل ریاست کی علاقائی جماعت سے رائے طلب طلب کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا ’حکومت کو کشمیر میں کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے یہاں کی سیاسی جماعتوں سے رائے حاصل کرنی چاہیے۔ گورنر صاحب کو روز فرمان جاری کرنے کا سلسلہ بند کرکے اصل مسئلے کی طرف دیکھنا چاہیے‘۔ ڈاکٹر کمال نے کہا کہ کشمیری نوجوانوں کو بندوق کی طرف دھکیلنے کے لئے نئی دہلی ذمہ دار ہے۔ انہوں نے کہا ’کشمیری نوجوانوں کو بندوق کی طرف دھکیلنے کی ذمہ دار دلی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ سچائی اور مفاہمتی کمیشن قائم کرکے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کیا جائے‘۔ نیشنل کانفرنس معاون جنرل سکریٹری نے کہا کہ 1987 کے اسمبلی انتخابات میں کوئی دھاندلی نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا ’انتخابات الیکشن کمیشن آف انڈیا کراتا ہے۔ ہارنے والے 12 لوگ ہائی کورٹ چلے گئے مگر انہوں نے وہاں اپنا کیس ہارا۔ عدالتوں اور الیکشن کمیشن میں تو کوئی کیس نہیں ہے‘۔ یو این آئی