متوازی اقوام متحدہ قائم کرنے کی ضرورت:اعظم انقلابی

 سرینگر// جموں کشمیر قومی محاذِ آزادی کے سینئر رُکن اعظم انقلابی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اُمّتِ مسلمہ کے عروج و زوال اور رَنج وَمحَنْ کی داستان کا ہی حصّہ ہے کہ 1917 ء؁ میں برطانیہ کے وزیر خارجہ لارڈ بلغور نے اعلان کیا کہ برطانیہ فلسطین میں یہودی ریاست کے قایم کی حمایت کرتا ہے۔ یوں صیہونی تحریک کے لیڈروں کی حوصلہ افزائی ہوئی۔ اِس تحریک کے کارکن اور رضا کار فلسطین میں آباد ہوتے رہے، اور وہ دن بھی آیا جب 1947 ء؁ میں اقوام متحدہ نے ایک قرار داد کے ذریعے فلستین کی سرزمین کا 56فیصدی  علاقہ یہودیوں کے سپرد کیا۔ امریکہ اور برطانیہ کی ہی ریشہ دوانیوں کی وجہ سے یہودی فلسطین کے ایک حصّے میں ایک قوّت بن کر اُبھر ے اور مئی 1948 ء؁ میں صیہونی تحریک کے رضا کاروں نے اسرائیل کے نام سے ایک ریاست قائم کی۔ اعظم انقلابی نے روسی صدر پوتین سے اپیل کر رہے کہ آپ چین، پاکستان، ایران، ترکی، سعودی عربیہ، مصر، انڈونیشیا، ملیشیا اور دیگر اہم ممالک کو اعتماد میں لے کر ایک متوازی اقوام متحدہ کے قیام کے لیے جدوجہد کریں۔ اگر اِس مرحلے پر تیسری دنیا کے چھوٹے بڑے ملک امریکی brinkmanship کے خلاف صف آرا نہیں ہوں گے تو پوری دنیا کا امن و سکون درہم برہم ہوگا۔