متعلقین سے فوری مذاکرات کی وکالت

 سرینگر//سابق صدر ریاست ڈاکٹر کرن سنگھ نے مذاکراتی عمل کی وکالت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس عمل کو شروع کرنے کیلئے فوری طور پر اقدامات کی ضرورت ہے جبکہ کانگریس کے سنیئر لیڈر نے وادی میں4روزہ قیام کے دوران ریاستی گورنر،سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ کانگریس کے سنیئر لیڈران اور اپوزیشن جماعتوں کے سربراہوں سے بھی ملاقات کی،جس کے دوران دفعہ35Aپر سپرئم کورٹ کی لتکتی تلوار اور سیاحوں کی آمد میں کمی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ کانگریس کی کشمیر سے متعلق پالیسی ساز گروپ کے رکن اور سابق ریاستی صدر ڈاکٹر کرن سنگھ گزشتہ روز وادی کے4روزہ دورے پر پہنچے تھے،جس کے دوران انہوں نے سیاسی لیڈروں کے ساتھ تبادلہ خیال کیا۔ذرائع کے مطابق ممبر پارلیمنٹ نے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ کانگریس کے سابق صدور پیرزادہ محمد سعید اور سیف الدین سوز کے علاوہ پی ڈی ایف سربراہ حکیم محمد یاسین،سی پی آئی ایم کے سنیئر لیڈر محمد یوسف تاریگامی،سابق وزیر تاج محی الدین،کانگریس کے نائب صدر حاجی عبدالرشید ڈار سمیت سیول سوسائٹی و مختلف مکاتب فکر سے وابستہ لوگوں سے ریاست کی سیاسی صورتحال اور حالات کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔کانگریس کے سنیئر لیڈر اس بیچ ریاستی گورنر این این وہرا سے بھی ملاقی ہوئے اور ان سے ریاست کے حوالے سے مفصل بات چیت کی۔ ڈاکٹر کرن نے بتایا ” ان ملاقاتوں کے درمیان دفعہ35Aپر سب نے اپنے خدشات ظاہر کیں،جوکہ فی الوقت سپریم کورٹ میں زیر غور ہیں تاہم سرکار نے عوامی سطح پر اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ اس سلسلے میں کشمیری عوام کے جذبات کا احترام کیا جائے گا“۔انہوں نے کہا کہ عدالت عظمیٰ ہی اس حوالے سے حتمی فیصلہ لے گی،اور مرکزی حکومت نے اپنی طرف سے کوئی بھی بیان حلفی ابھی تک سپریم کورٹ میں پیش نہیں کیا۔ڈاکٹر کرن سنگھ نے بتایا کہ سیاست دانوں اور سیول سوسائتی ارکان کا مطالبہ ہے کہ مرکزی حکومت سپریم کورٹ میں اس قانون کو بنائے رکھنے کیلئے مضبوط دفاع پیش کریں۔ سابق صدر ریاست نے کہا کہ ریاست کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کے دوران تمام لوگوں بشمول سیاست دانوں اور سیول سوسائٹی ارکان(جن سے میں ملاقی ہوا) نے حریت لیڈروں سے مذاکراتی عمل شروع کرنے کی تجویز دی،اگرچہ حریت لیڈروں نے ابھی تک عوامی سطح پر حکومت ہند کے نمائندوں سے بات چیت کرنے کی کوئی بھی رضمامندی ظاہر نہیں کی ہے۔کانگریس کے بزرگ لیڈر نے کہا” میرے نقطہ نظر کے مطابق بات چیت کا خیر مقدم کیا جائے گا،چاہے وہ ٹریک فسٹ یا ٹریک اسکینڈ پر ہوہو،جبکہ اس کیلئے فوری طور پر کچھ اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے“۔