متعدد نوجوانوں کی پی ڈی پی میں شمولیت کا دعویٰ

 ڈوڈہ //ڈوڈہ حلقۂ انتخاب کے علاقہ طرون اور بون جوئی سے تعلق رکھنے والے متعدد نوجوان سیاسی کارکنان نے پی ڈی پی میں شمولیت اختیار کی ہے۔ پارٹی کے ضلعی دفتر سے جاری ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ پارٹی کے ضلع صدر شہاب الحق بٹ اور دیگر پارٹی عہدیداران اور کارکنان کی موجودگی میں پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے والوں کا ہار پہنا کا خیر مقدم کیا گیا۔پی ڈی پی میں شمولیت اختیار کرنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے ان لوگوں نے کہا کہ وہ مرحوم مفتی محمد سعید کے نظریے اور پارٹی کے ضلع صدر شہاب الحق بٹ کی عوامی خدمات اور اُن کے طریقۂ کار سے متاثر ہو کر پارٹی میںشامل ہوئے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ مرحوم مفتی محمد سعید کا نظریے کو اپنا کر ہی جموں و کشمیر میں امن قائم ہو سکتا ہے اور اُنہیں یقین ہے کہ محترمہ محبوبہ مفتی کی قیادت میںریاست ترقی کی نئی منازل طے کرے گی۔اس موقع پر شہاب الحق بٹ نے پارٹی میں شمولیت کرنے والوں کو خوش آمد ید کہااور مبارک بادپیش کی کہ وہ صیح منزل پر آپہنچے ہیں کیوںکہ پی ڈی پی ہی واحد جماعت ہے جو ریاست کی خوشحالی تینوں خطوں کی ترقی اور ہندو ،مسلم، سکھ اتحاد کی قائل ہے۔اُنہوں نے کہا کہ جو لوگ ہمارے ساتھ شامل ہو رہے ہیں وہ محفوظ ہاتھوں میں ہیں اور جو توقعات اُنہوں نے پارٹی سے وابستہ کی ہیں پارٹی اُن پر پورا اُترنے کی پوری کوشش کرے گی۔اُنہوں نے کہا کہ پی ڈی پی محض ایک پارٹی ہی نہیں بلکہ ایک تحریک ہے جس کا مقصد ریاستی عوام کو مالی، تعلیمی، معاشی اور معاشرتی لحاظ سے خود کفیل بنانا اور مسئلہ کشمیر کا ایک قابلِ قبول اور پائدار حل نکالنا ہے۔ انہوں نے پارٹی کارکنان پر زور دیا کہ وہ عوام کے ساتھ نزدیکی رابطہ رکھیں اور آنے والے پنچایتی چنائو کے لئے کمر کس لیں اور بھر پور طریقے سے الیکشن میں حصہ لے کر پارٹی کو مضبوط سے مضبوط تر بنائیں ۔ شہاب الحق بٹ نے مزید کہا کہ وہ ڈوڈہ  میں تعلیمی انقلاب لانا چاہتے ہیں جس کے لئے وہ RUSA کے تحت کلسٹر یونیورسٹی کے قیام،خواتین کالج اور ڈوڈہ خطہ کے لئے خود مختار JKBOSE ڈوڈہ کے قیام کے لئے جدوجہد کریں گے۔پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے والوں میں وکرم سنگھ، اشونی سنگھ، پرتاپ سنگھ، اشونی سنگھ، ویکی رانا، سنجیو پریہار، گویند کمار، سونو کمار  غیرہ شامل ہیں۔اِس موقعع پر حسام الدین، راشد زرگر، فرید احمد خان سٹی پریذیڈینٹ،سجاد حسین کھوکھر، عبدالغنی رشووغیرہ بھی موجود تھے۔