مبارک ایام میں ہمیں کیا کرنا چاہئے؟

مسلم دنیا میں ہر طرف نیکیوں کاموسم بہار(رمضان )وارد ہوا ہے۔یہ مہینہ اسلامی مہینوں میں گنتی کے اعتبار سے نویں نمبر پر آتا ہے مگر فضیلت کے اعتبار سے پہلے نمبر پرہے۔اس ماہ کی بہت زیادہ فضیلت آئی ہے۔اس ماہ میں سنت کو فرض کا ثواب ملتا ہے اور ایک فرض کو سترفرائض کا۔حضورصلی اللہ ولیہ وسلم ماہ رجب کا چاند دیکھتے ہی یہ دعا فرماتے تھے کہ"اے اللہ ہمارے لئے ماہ رجب اور ماہ شعبان میں برکت عطا فرما اور ہمیں ماہ رمضان تک پہنچا۔اور حضورؐ شعبان کی آخری تاریخ کو صحابہ کو جمع کرتے تھے اور ماہ رمضان کی فضیلت بیان فرماتے تھے۔گویایہ ماہ مسلمانوں کے لئے ایک طرح کی ٹرینگ ہوتی ہے۔
اس ماہ میں کرنے کا کام کیا ہے؟اس کی طرف ہمیں توجہ دینا چاہیے۔تب ہی یہ ہمارے لئے موسم بہار ہے۔اس کی طرف میں تھوڑی سی روشنی ڈالوں گا۔
۱۔اللہ تعالیٰ نے اس ماہ مبارک میں مسلمانوں کے لئے روزے فرض کئے ہیں۔ہر کسی کو چاہئے کہ اس ماہ میں روزے رکھے الّا یہ کہ کوئی شرعی عذر ہو۔اس کے لئے بھی اسلام نے احکام دی ہیں۔ روزوں کا مقصد یہی ہے کہ ایک انسان تقویٰ گزار بنے۔ ہمیں چاہئے کہ ہم متقی بننے کی کوشش کریں۔تقویٰ کا ایک آسان معنیٰ اللہ کی ناراضگی سے بچنا ہے۔قرآن مجید میں بہت سی جگہوں پر تقویٰ اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ایک طویل حدیث شریف کے ایک ٹکڑے کا مفہوم ہے کہ"صحابہ کرامؓ نے نبیؑ سے عرض کیا ،یا رسول اللہؐ!اللہ کے نزدیک سب سے محبوب بندہ کون سا ہے،نبی اکرمؐ سے فرمایا متقی انسان۔
۲۔قرآن مجید میں اللہ کا ارشاد ہے کہ اس ماہ میں ہم نے قرآن کو نازل فرمایا ہے۔ ہمیں چاہئے کہ اس ماہ میں قرآن مجید کی تلاوت عام مہینوں سے زیادہ کریں۔قرآن مجید کے ایک ایک حرف پڑھنے میں دس دس نیکیاں ملتی ہے اور ماہ رمضان میں اس کے ثواب میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔اس ماہ میں قرآن کی خوب تلاوت کرنی چاہئے۔کم سے کم اس ماہ میں ایک بار ختم قرآن کرنا چاہئے۔
۳۔قیام الیل اس ماہ کی ایک اہم ترین عبادت ہے۔اس عبادت میں ضروری شرکت کرنی چاہئے۔اگر ممکن ہوسکے تو اس نماز میں بھی ختم قرآن کرنا چاہئے۔اگر یہ ممکن نہ ہو،تو پھر بھی لمبی قرأت کرنی چاہیے۔یہاں پر یہ بات ذہن میں رکھے کہ اس نماز کے رکعتوں پر بحثیں،مناظرہ بازی سے پرہیز کرنا چاہیے۔
  ۴۔حدیث شریف کا مفہوم ہے کی "جس نے ایمان اور احتساب کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے،اس کے سب گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ہمیں چاہیے کہ ان روزوں سے ہم میں ایک انقلاب رونما ہوجائے۔روزے کی حالت میں اگر ہم کسی غلط کام کی طرف راغب ہوجائے،تو ہمیں اس وقت اپنا احتساب کرنا چاہیے کہ میں کس حالت میں ہوں؟اور میں کس کام کی طرف راغب ہوا؟ان روزوں سے ایک انسان کو اپنا احتساب کرنا چاہیے تاکہ باقی مہینوں میں ہم اسی طرح زندگی گزاریں۔ٹریننگ کا مقصد ہی یہی ہوتا ہے کہ بعد کے مراحل میں ہم اس طرح زندگی گزاریں جس طرح ہمیں ٹریننگ دی گئی ہے۔جیسے سویرے اٹھنا،تہجد کا اہتمام،فرض نمازوں کے ساتھ ساتھ نوافل کا اہتمام وغیرہ۔
۵۔حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ جس نے روزے کی حالت میں بھی جھوٹ بولنا نہیں چھوڑا۔ہمیں اس کے ساتھ کچھ نہیں ہے کہ وہ بھوکا رہے یا پیاسا۔اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ صرف روزے کی حالت میں جھوٹ بولنا گناہ ہے بلکہ اگر کبھی سہواً ہماری زبان سے جھوٹ نکلے بھی مگر روزے کی حالت میں اس طرح بھی نہیں ہونا چاہئے۔جھوٹے کے متعلق اللہ تعالیٰ نے لعنت فرمائی ہے۔ہمیں غور کرنا چاہیے کہ جس غلط کام پر اللہ نے لعنت فرمائی،اس سے ہمارے روزوں کا کیا حال ہوگا۔
۶۔ ماہ رمضان میں زیادہ سے زیادہ عبادت کرنی چاہیے۔ اس ماہ میں نفل کو فرض کا ثواب ہے اور ایک فرض کو ستر فرائض کا۔اسی لئے ہمیں زیادہ وقت عبادات میں گزارنا چاہیے۔میرے کہنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہمیں کام کاج چھوڑنا چاہئےبلکہ جب بھی فرصت ملے تو وہ فرصت کے اوقات عبادات میں گزارنے چاہیے۔جو کہ انسان اور جنات کی تخلیق کا مقصد ہی ہے۔سید مودودی علیہ رحمہ فرماتے ہیں کہ "عبادت کا یہ مطلب نہیں ہے کہ دنیا سے بے رخی اختیا کی جائے بلکہ دنیا کے دھندوں میں پھنس کر خدا کو یاد کرنا ہی اصل عبادت ہے"۔فرائض کے ساتھ ساتھ نوافل کا اہتمام بھی کرنا چاہیے۔عبادات میں یہ چیز بھی شامل ہے کہ کاروبار اور اپنے اپنے پیشہ میں انصاف کرنا۔ جو لوگ عام مہینوں میں تہجد نہیں پڑھتے ہیں،ان کو چاہئے کہ اس ماہ میں تہجد کا اہتمام کرے۔کچھ اشخاص میں عام مہینوں میں ایک بہترین عادت مطالعہ کی ہوتی ہے،مگر اس ماہ میں مطالعہ کا وقت بھی عبادات میں صرف کرنا چاہئے(ہوسکتا ہے کہ کچھ اشخاص میری اس بات سے متفق نہیں ہونگے۔البتہ یہ میری ذاتی رائے ہے۔)
۷۔اس ماہ مبارک میں لایعنی چیزوں سے اجتناب کرنا چاہیے۔روزے کا مطلب ہی ہے کہ کسی چیز سے رُکنا۔اس ماہ میں سوشل میڈیا کا استعمال بہت کم کرنا چاہیے۔میں یہ بھی کہوں گا کہ بالکل ہی استعمال نہیں کرنا چاہیے،ا ِلّا یہ کہ کوئی مجبوری ہو۔فضول بیٹھنے سے پرہیز کرنا چاہئے۔ہنسی مذاق ترک کرنی چاہیے۔زیادہ سونا نہیں چاہیے۔مگر دوپہر کے وقت ضرور سونا چاہیے،جو کہ ایک بہترین عمل ہے۔
   اللہ ہمیں اس ماہ میں روزے رکھنے اور باقی عبادات کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
(ایسو شانگس،فون9149897428)