مایوسی کی انتہاخودکشی کا سبب

انسان جب بہت ساری اُمیدیں قائم کرتا ہے تو اُس کی سوچ کا دائرہ محدود ہوجاتا ہے،پھر جلد ہی ان اُمیدوں سے متعلق وَسوسے اور ادہام پیدا ہونے لگتے ہیں جو بالآخر پریشان کُن فکرو غم کا ذریعہ بن جاتے ۔ماضی کی لذتیں گذشتہ کل کے ساتھ چلی گئیں ،کوئی انہیں روک نہیں سکتا ،آنے والا کل پردۂ غیب میں ہے ۔امیر اور فقیر دونوں اس کا صرف انتظار ہی کرسکتے ہیں ۔اب آ ج کا دن بچتا ہے اور عقل والے بس اسی کے حدود میں زندگی گذارتے ہیں تاہم آج کی حدود میں زندگی گذارنے کا یہ مطلب ہے کہ مستقبل کو نظر انداز کردیا جائے یا اُس کے لئے تیاری نہ کی جائے ۔کل کے بارے میں سوچنا اور اہتمام کرنا صحیح فہم و فراست کا تقاضا ہے اور اسلام کرۂ ارض پر وہ واحد مسلک ہے جو آج کی حدود میں اچھی طرح زندگی گذارنے میں مدد دیتا ہے کیونکہ ’’آج‘‘کامیاب ’’کل‘‘ کی ٹھوس بنیاد بنتا ہے۔انسان کو اس بات کی مطلق خبر نہیں رہتی کہ اُس کی عمر کس طرح چُرائی جاتی ہے ،وہ کل کی فکر میں آج سے غافل ہوجاتا ہے اور موت آنے تک یہ حالت برابر جاری رہتی ہے اور اس کا ہاتھ بھلائیوں سے خالی رہتا ہے ۔وقت گذرنے کے بعد ہی انسان جان پاتا ہے کہ زندگی کتنی حیرت انگیز ہے۔بچہ سوچتا ہے کہ میں لڑکا بن جائوں گا ،لڑکا سوچتا ہے کہ میں جوان بن جائوں گا ،جوان سوچتا ہے کہ جب شادی ہوجائے گی تب سکون سے کام کروں گا ،جب شادی ہوجاتی ہے تو سوچتا ہے کہ بوڑھاپے میں فارغ البال ہوجائوں گا اور جب بُڑھاپا آنے پر وہ مُڑ کر اپنی بہتی زندگی پر نگاہ ڈالتا ہے تو ایسا لگتا ہے کہ وہ خالی میدان ہے،جِس پر تیز آندھی نے جھاڑو پھیر دی ہے۔
مؤمن کا یہ احساس کہ دنیا کی باگ ڈور اللہ تعالیٰ کے ہاتھ سے نکل ہی نہیں سکتی ،اُس کے دل میں بے پناہ اطمینان اور سکون پیدا کرتا ہے ۔حالات جتنے بھی خراب اور دِگرگوں ہوجائیں اللہ تعالیٰ کی مثیت الٰہیہ کی کارفرمائی کے دائرے سے نکل نہیں سکتے،اس لئے مسلمان اپنا فرض ادا کرنے کے بعد اپنے پروردِگار پر انحصار کرلیتا ہے اور اُسی پر بھروسہ کرکے اپنے سُپرد کیا گیا کام پوری تیاری ،احتیاط اور تن دہی سے انجام دینے کے بعد نتائج اور مستقبل کے بارے میں حیران و پریشان اور مایوس نہیں ہوتا ۔اگر دل میں اللہ تعالیٰ پر یقین و ایمان نہیں تو انسان پیش آنے والے حادثات کو سمندری موجوں کی طرح سمجھے گا جو جوار بھاٹے کی طرح بڑھ گھٹ رہی ہیں ،کوئی ڈوب جاتا ہے ،کوئی بچ جاتا ہے۔اسی طرح اُس کا دل اُس سوکھے پتے جیسے ہوگا جس سے حادثات اور اوہام کی ہوائیں کھیلا کریں گی ۔ایک مایوس اور بدگمان شخص خود اپنے ذہن میں پیدا کردہ تاریک خیالات کے جال میں پھنسا رہتا ہے اور جب تک اُس کا ایمان کمزور رہے گا وہ بدبختی اور نحوست کو آتا ہوا فرض کرتا رہے گا ،چاہے اُس کا تناسب کتنا ہی کم کیوں نہ ہو۔دل میں ٹھہرا ئو تو تبھی ہوگا ،جب اللہ تعالیٰ پر یقین وایمان ہو اور جو کچھ اُس نے مقدر کررکھا ہے اُس پر راضی ہونے کا مادہ غالب آجائے ،بدترین امکان کو بھی یہ سمجھ کر مان لے کہ اس سے چھٹکارا ناممکن ہے۔
ہماری اس بستی کی نوجوان نسل اکثر اللہ تعالیٰ کے بارے میں ٹھیک سے جانتی بھی نہیں اور اُس پر پختہ ایمان بھی نہیں رکھتی ،اس لئے حد سے زیادہ مایوس ہونے پر وہ یا تو اپنے آپ کو فنا کے گھاٹ اُتار لیتے ہیں یا اپنے امراض کا علاج گھٹیا دوائوں سے کرتے ہیں ۔خود کشی کا بڑھتا ہوا رجحان اور نشیلی دوائوں کا لگاتا استعمال اس بات کی علامت ہے کہ یہاں کی نوجوان پود پوری طرح مایوسی کا شکار ہوچکی ہے۔حق تو یہ ہے ان کی یہ مایوسی دین سے دوری اور اللہ تعالیٰ سے لاتعلقی ہی کا نتیجہ ہے ورنہ جس مذہب کے وہ پیرکار ہیں اور جس عقیدے کا اُنہیں اقرار ہے اُس میں مایوسی کو کفُر کا درجہ حاصل ہے ۔اگر چہ تلخ ہی صحیح لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ اپنی نوجوان نسل کی اس حد سے زیادہ مایوسی کے کافی حد تک ہم بھی ذمہ دار ہیں ۔کئی ایسی باتیں ہیں جنہیں ہم بچوں کی پرورش کے دوران معمولی سمجھ کر بالکل نظر انداز کرلیتے ہیں اور پھر اُن کے جوان ہونے پر ہمیں ہاتھ مَلنے اور پچھتاوے کے سوا کچھ بھی نہیں ملتا ۔بچپن میں اولاد کے تئیں والدین کا بے جا لاڈو پیار بچے کے ساتھ سب سے بڑی دشمنی ہے کیونکہ بالغ ہوکر ایسی ہی اولاد نافرمانی کی ساری حدیں عبور کرکے نہ صرف والدین بلکہ پورے معاشرے کے لئے وبال جان بن جاتی ہے۔
تین دہائیوں سے غلاموں کی اس بستی پر غالب نامساعد اور غیر یقینی حالات ،روز بروز بڑھتی ہوئی بے روزگاری ،کمر توڑ مہنگائی ،رشوت خوری کی لاعلاج بیماری ،چور دروازوں سے محکموں میں سرکاری نوکریوں کی بندر بانٹ ،بے ضمیر اعلیٰ افسروں کی من مانیاں ،اشیائے خورد و نوش کی آسمان سے چھوتی ہوئی قیمتیں ،نئی نویلی دُلہنوں پر سسرال والوں کا بے جا ظلم و ستم،جہیز کی نہ مٹنے والی بھوک اور نہ بُجھنے والی پیاس اور حس سے بڑھی ہوئی بے راہ روی اور اخلاقی گراوٹ بھی کچھ ایسی وجوہات ہیں ،جن کے کارن ہماری نوجوان نسل دن بہ دن مایوسی کا شکار ہوکر خود کشی کا سہارا لینے پر مجبور ہوجاتی ہے۔جب وہ دکھ درد اور رنج و الم سے تکلیف محسوس کرکے مایوس ہوجاتے ہیں تو اُن پر یہی احساس غالب رہتا ہے کہ موت انہیں ہر تکلیف سے نجات دے دے گی لیکن انہیں یہ تلخ حقیقت معلوم نہیں کہ زندگی تو باقی رہے گی ،صرف اس کا موجودہ ڈھانچہ بدل جائے گا ۔موت کے بعد تو انسانی وجود کا دسرا مرحلہ شروع ہوتا ہے جس میں اسے زیادہ شعور و احساس ہوگا۔
بہر حال !یہ سب دین سے بیگانگی ہی کا نتیجہ ہے کہ ہمارے نوجوان مایوسی کا شکار ہوکر غلط راستوں کا نتخاب کرلیتے ہیں ۔دینی بے داری اُجاگر کرنے کے لئے ہم نہ تو یہاں کے علماء پر ہی ساری ذمہ داری ڈال سکتے ہیںاور نہ معاشرے کے سدھار کے لئے یہاں کے اصلاح کاروں کوہی مورد الزام ٹھہراسکتے ہیں۔صدیوں سے ہماری بستی کے علماء اور اصلاح کار اپنی ذمہ داریوں کو نبھاتے چلے آرہے ہیں اور آج بھی وہ پوری طرح اپنے فرائض انجام دینے میں مصروف ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ موجودہ نوجوان نسل اور آنے والی پود کو مایوسی سے بچانے کے لئے اس بستی کے ایک ایک فرد کو اپنے آپ میں بدلائو لانا ہوگا ورنہ آنے والی مصیبتوں اور آفتوں کا مقابلہ کرنا ہمارے بَس کی بات نہیں ہوگی اور ہم غلاموں کی اس پوری بستی کو صفحہ ٔ ہستی سے مِٹ جانے میں بھی دیر نہیں لگے گی۔!!!
احمد نگر، سرینگر
رابطہ:9697334305