ماہ ِرمضان ۔ بہترین تحفۂ خداوندی

طارق شبنم
      رمظان المبارک کا مقدس اور با برکت مہینہ ہم پر سایہ فگن ہے ۔یہ مبارک مہینہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے امت مسلمہ کے لئے ایک بہترین تحفہ ہے جس میں مسلمان گناہوں سے بچتا ہے اور نیکیوں کے قریب ہوتا ہے جب کہ اللہ کے دربار میں گناہوں کی بخشش کا بھی طلب گار ہوتا ہے ۔اس مہینے میں اللہ تعالیٰ کی بے پناہ رحمتیں اور برکتیں نازل ہورہیں ہیں ۔حضور پر نورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس مہینہ کو نیکیوں کا فصل بہار قرار دیا ہے اور فرمایا کہ جس نے ایمان اور احتساب سے رمضان کے روزے رکھے اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دئے جاتے ہیں ۔اس مہینہ میں ایک نیکی کے بدلے ستر گنا زیادہ ثواب ملتا ہے یعنی اس ماہ میں نفلی عبادتوں پر فرض کا ثواب ملتا ہے جب کہ اللہ تبارک تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے کہ روزہ میرے لئے ہے اور اس کا اجر و ثواب میں خود دوں گا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس با برکت مہینہ کا شدت سے انتظار رہتا تھا، آپ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب ماہ رجب کا چاند دیکھتے تو آمد رمضان کی دعا فرماتے اور پھر جب رمضان کا چاند دیکھتے تو زبان مبارک پر یہ دعا ہوتا ۔ اے اللہ ہم پر یہ چاند امن ،ایمان ،سلامتی اور اسلا م کے ساتھ طلوع فرمااور ساتھ ہی فرماتے اے چاند میرا اور تیرا رب اللہ ہے ۔اس مقدس مہینہ میں شیاطین کو زنجیروں میں جگڑ کر قید کردیا جاتا ہے ،جنت کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کردئے جاتے ہیں ۔ 

    رمضان المبارک کے روزوں کا اصل مقصد تزکیہ نفس ہے اور سال بھر میں ایک مہینہ غیر معمولی نظام تربیت ہے ،غرض یہ مہینہ مسلمانوں کو صبر کا درس دیتا ہے کہ کس طرح صبر کرکے اور اپنی نفسانی خواہشات پہ قابو پا کر اللہ کی خوشنودی حاصل کرسکیں ۔ایک روزہ دار برائیوں کو ترک کر دیتا ہے اور نیکیوں کی طرف راغب ہوتا ہے جس کے سبب اس کے ایمان میں پختگی آتی ہے اسی چیز کا نام تقوٰیٰ ہے ۔روزے کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’اے مومنو تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں ،جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم پرہیز گار بن جائو‘‘۔(البقرہ آیت ۱۸۳)۔

     اس مہینے میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنا پا ک کلام قران مجید نازل فرمایا اور تمام آسمانی کتب بھی اسی مہنے میں نازل ہوئیں۔حضرت وائیلہ بن اسقع سے روایت ہے کہ حضور پرنور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے صحیفے رمضان کی پہلی تاریخ کو نازل ہوئے تورات چھ رمضان ،انجیل تیرہ رمضان اور قران کریم چوبیس رمضان کو نازل ہوا (مسند احمد)۔ رمضان المبارک کے آخری عشرے کی ایک اہم اور خاص فضیلت یہ ہے کہ اس میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے اٖفضل ہے ۔اس مبارک رات یعنی شب قدر کو قران کریم لوح محفوظ سے آسمان دنیا کی طرف نازل ہواپھر رسول رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وقفے وقفے سے ۲۳ برس تک نازل ہو۔اللہ تبارک تعالیٰ نے اس رات کی فضیلت میں ایک پوری سورت نازل فرمائی جس میں ارشاد فرمایا ’’ ہم نے قران کریم کو شب قدر میں نازل کیا ہے ،آپ کو کیا معلوم کہ شب قدر کیا ہے ،شب قدر ہزار مہینوں سے بھی بہتر ہے ۔اس میں ہر کام کے سر انجام دینے کے لئے اپنے رب کے حکم سے فرشتے اور روح ( حضرت جبریل )اترتے ہیں،یہ رات سراسر سلامتی ہے اور فجر کے طلوع ہونے تک رہتی ہے (سورت القدر )رسول محترم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ’’ یہ رمضان کا مہینہ تم کو ملا ہے ،اس میں ایک رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے ۔جو اس سے محروم رہا گویا وہ تمام خیر سے محروم رہا اس کی خیر و برکت سے محروم کوئی بد نصیب ہی رہ سکتا ہے ۔روزہ واحد ایسی عبادت ہے جس میں نمود نمائیش اور ریا کا کوئی امکان نہیں ہے اور یہ بات بغیر کسی تردد کے کہی جاسکتی ہے کہ روزہ تزکیہ نفس کا اہم ذریعہ ہے جب کہ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ سلم کا ارشاد مبارک ہے کہ ’’ ہر گندگی کو دور کرنے والی کوئی نہ کوئی چیز اللہ نے بنائی ہے اور جسم کو امراض سے پاک کرنے والی چیز روزہ ہے اور روزہ آدھا صبر ہے جب کہ جدید تحقیق کی رو سے بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ اسلامی طرز پر روزہ رکھنے سے انسان کو بہت سی مہلک بیماریوں سے نجات مل جاتی ہے ۔سائینس دانوں نے ثابت کردیا ہے کہ روزہ رکھنا انسان کے لئے ہر طرح سے مفید ہے اور جو لوگ روزہ رکھتے ہیں ان پر ہاٹ اٹیک، مختلف قسم کے کینسر اور دماغی امراض لاحق ہونے کے خطرے کم ہوجاتے ہیں ۔اس ضمن میں حال ہی میں ایک مشہورجاپانی عالم و ماہر طب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے کینسر کا علاج ڈھونڈ لیا ہے ۔اس کا کہنا ہے کہ جو لوگ روزہ رکھتے ہیں ان میں کینسر کم ہی پایا جاتا ہے ،اس نے تجویز دی ہے کہ کینسر کا موذی مرض ختم کرنے کے لئے لوگوں کو ہر سال بیس سے پچیس دن تک بھوکا رہنا چاہیے ۔اسلام نے مسلمانوں پر روزے فرض کرکے کتنا بڑا احسان کیا ہے ۔یہ اللہ تبارک تعالیٰ کا کتنا بڑا کرم ہے کہ اس نے اپنی عبادات میں بھی بیماریوں کا علاج پوشیدہ رکھا ہے ۔ خوش قسمت ہیں وہ مسلمان جن کی زندگی میں یہ با برکت مہینہ آیا اور وہ صدق دلی سے اپنی تمام تر توانائیاںصرف کرتے ہوئے اللہ پاک کی رحمتیںسمیٹنے میں جھٹ گئے ۔اللہ تبارک تعالیٰ تمام مسلمانوں کو اس مبارک مہینہ کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اپنی بے پناہ رحمتوں،عنائیتوںاور فضیلتوںسے نوازے ۔ آمین 

(  رابطہ۔ [email protected] gmail.com )