ماہ صیام کی آمد کے ساتھ ہی سوپورمیں مہنگائی عروج پر

غلام محمد
 سوپور//ماہ صیام کی آمد کے ساتھ ہی شمالی کشمیر کے اہم قصبے سوپورمیں اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں جس کی وجہ سے قصبے کے عوام میں زبردست غم وغصہ پیداہواہے۔اس دوران انتظامیہ نے منگل کو بازاروں کا معائنہ کرکے دکانداروں کو اشیائے ضروریہ مقررہ نرخوں پر فروخت کرنے کی تلقین کی۔سوپور کے عوامی حلقوں نے بتایاکہ ماہ مقدس شروع ہوتے ہی دکانداروں نے سبزی، میوہ، مرغ اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتوں میں بلاوجہ اضافہ کیا ہے۔سوپور اور اس سے دیگر ملحقہ علاقوں کے اکثر صارفین نے سبزیوں اور پھلوں کی قیمتوں میں کئے گئے اضافے پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ امور صارفین و عوامی تقسیم کاری کے نرخ ناموں کو بالائے طاق رکھ کر دکانداروں نے از خود تمام قیمتیں مقرر کرلی ہیں۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ ضروری غذائی اجناس کی قیمتوں میں اضافے کے علاوہ سبزی اور میوہ وغیرہ کی قیمتوں میں بھی اضافہ کیاگیا اورمن مانی قیمتوں پر سبزیوں کو فروخت کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔عوامی حلقوں کی شکایات پر آج تحصیلدار سوپور کی سربراہی میں محکمہ امور صارفین اور پولیس کی ٹیم نے قصبہ کے مختلف بازاروں کا معائنہ کیا اوردکانداروں کو موقع پر ہدایت دیں کہ وہ حکومت کی طرف سے  مقررکئے گئے  نرخوں کے مطابق اشیا ء کی فروخت عمل میں لائے۔ انہوں نے مرغ فروشوں اور قصابوں کو  ہدایت دی کہ وہ اس مقدس ماہ رمضان کے دوران مقررہ  نرخ ناموں کے مطابق مرغ اور گوشت فروخت کریں اور کہا اگر کسی بھی دکاندار کو خلاف ورزی کرتے ہوئے پایا گیا تو اس کے خلاف سخت کاروائی ہوگی۔