ماہ رمضان مسلمان عالم کیلئے ایک تربیتی کورس

سرینگر// حریت(گ) چیرمین سید علی گیلانی نے آمدِ رمضان پر عالم اسلام کو عمومی اور مسلمانانِ جموں کشمیر کو خصوصی طور مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ صیام کا یہ مقدس مہینہ جہاں عبادات اور تزکیہ نفس کی ایک اعلیٰ ترین مشق ہے وہیں یہ امت کو اپنے گردونواح میں مستحق افراد کی خبرگیری اور معاونت کی تلقین بھی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے اور زندگی کے ہر شعبے کیلئے اس میں رہنمائی موجود ہے۔ سیاست ہو یا معیشت، انفرادی زندگی ہو یا اجتماعی ، جنگ ہو یا صلح، تعلیم ہو یا تعمیر، خانوں میں بٹنے کے بجائے یہ ایک مربوط عمل ہے۔ امت مسلمہ نے خود ہی اس عظیم طریقۂ زندگی کو ٹکڑوں میں تقسیم کرکے دشمنوں کے لیے خود کو ترنوالہ بننے کی راہ ہموار کی ہے۔ دنیا بھر میں آج مسلمانوں کی جو حالت ہے وہ پریشان کُن ہی نہیں، بلکہ تشویش ناک بھی ہے۔ دشمنان اسلام نے ہر محاذ پر آگ وآہن کی بھٹی گرم کر رکھی ہے۔ مسلمانوں کو انتہا پسندی کے نام پر مذہبی جنون کے نام پر، دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر اس بھٹی میں ایندھن کی طرح جھونک کر تہہ تیغ کیا جارہا ہے۔ معصوم بچوں کے نازک جسموں کو بموں سے ریزہ ریزہ کیا جاتا ہے، بزرگوں اور عورتوں کو یا تو عمر بھر کے لیے اپاہج بنادیا جاتا ہے یا پھر قبرستانوں میں سلادیا جاتا ہے۔ مسلم ممالک کے سربراہوں کی ناعاقبت اندیشی اور دین بیزاری سے فائدہ اٹھاکر انہیں اپنے ذاتی خواہشات، اقتدار، عیش وعشرت اور جاہ وحشمت کا دلدادہ بناکر اُن ممالک کی قومی دولت کو اسلحہ اور گولی بارود کے بدلے ہتھیالیا جارہا ہے۔ کلمہ گو ایک دوسرے کا گلہ کاٹ کر نعرہ تکبیر بلند کرتے ہیں تو دور بیٹھا دشمن شاباشی دینے کے لیے تیار ہوتا ہے۔ ایسے ہی دورِ پُرآشوب میں رمضان المبارک کا مقدس مہینہ سایہ فگن ہورہا ہے۔ ماحول میں پاکیزگی اور خوشگوار تبدیلی دیدنی ہوتی ہے۔ منبرومحراب گرج رہے ہوتے ہیں۔ رمضان المبارک کا یہ ظاہری حسن وجمال دلکش ہوتا ہے، لیکن یہ مختصر عرصہ ایک مسلمان کی عملی تربیت کے لیے کریش کورس کی حیثیت رکھتا ہے جو اس کے ماننے والوں کو زندگی کے نشیب وفراز اور کٹھن ادوار کے مقابلے کے لیے ذہنی اور فکری تربیت کے لیے تیار کرتا ہے۔ گیلانی نے کہاکہ رمضان المبارک کے مہینے میں روزے رکھ کر، تراویح پڑھ کر، تلاوت قرآن اور اضافی عبادات، صدقۂ خیرات اور باقی نیکی کے کام کرنے کے باوجود اگر ہم حق وباطل کے درمیان فرق کرنے اور انہیں پرکھنے کی صلاحیت سے اسی طرح محروم رہے جس طرح رمضان سے پہلے تھے تو اس بابرکت مہینے کا مقصد اور اس کو حاصل کرنے کی سعادت اور افادیت سے ہم اپنی زندگی کی تاریکیوں کو روشن کرنے میں ناکام ہوجائیں گے اور اس ماہ کی ظاہری عبادات سے قرب ہونے کے باوجود ہم بحیثیت ملّت اپنا وجود منوانے میں کامیاب نہیں ہوسکیں گے۔ حق پرستوں کو زمانے کے ہر دور میں طویل مدتوں تک آزمائشوں کی بھٹی میں تپایا گیا ہے۔ انہیں اپنے صبر کا، اپنی راستبازی کا، اپنے ایثارووفاداری کا، اپنے ایمان کی بختگی اور اپنے توکل علی اللہ کے اعصاب شکن امتحان سے گزرنا پڑا ہے۔ جو قوم مصائب اور تکالیف کے ان کٹھن مراحل سے گزر کر اپنے اندر وہ صفات پیدا کریں جو صرف اسی دشوار گزار کھائی میں ہی پنپ سکتی ہیں، وہیں لوگ اور وہی قوم ابتلاء خالص اخلاق فاضلہ اور سیرت صالحہ کے ہتھیاروں سے لیس ہوکر جاہلیت لادینیت اور ظالموں پر فتح پانے میں کامیاب ہوسکیں گے۔ یہی ماہ صیام کی اصل روح اور اس کا عبدی پیغام ہے جس کو سمجھنے اور عملانے کی آج کے دور میں سب سے زیادہ ضرورت ہے۔