ماہ ربیع الاول کی آمد

سرینگر// ربیع الاول کے متبر ک ایام شروع ہو نے کے باوجودتاریخی جامع مسجد اور درگاہ شریف حضر تبل کے علاوہ دیگر مرکزی مساجد وخانقاہوں میں جمعہ کو ایک مرتبہ پھر محراب و منبر خاموش رہے۔اس دورا ن انجمن اوقاف جامع مسجد سرینگر نے ماہ ربیع الاول کی آمد کے پیش نظر مرکزی جامع مسجد سمیت دیگر تمام مقامات سے عائد کردہ پابندیاں ہٹا کر عوام کو اپنے مذہبی عقائد کے مطابق ایس او پیز کا لحاظ رکھتے ہوئے نمازوں اور عبادات کا موقع فراہم کرنے کا مطالبہ کیاہے ۔ سی این ایس کے مطابق عید میلاد النبی ؐ کے متبرکہ ایام شروع ہو نے کے باوجودجمعہ کو پھر جامع مسجد سرینگر ، درگاہ حضرت بل اور وادی کی دیگر مرکزی جامع مساجد اور درگاہوںو خانقاہوں کے منبرومحراب خامو ش رہے تاہم جنوب و شمال کی مساجد میں جمعہ کی نمازاداکی گئی۔ درگاہ حضرت بل کے علاوہ خانیار شریف، خواجہ نقشبند صاحب غرض دوسری بڑی مساجد و خانقاہوں میں بھی نماز جمعہ ادا نہیں کی گئی۔ امسال صرف6اگست کو ہی جامع مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی کی اجازت دی گئی۔ اس کے بعدجامع مسجد کو جمعہ اجتماعات کیلئے بند رکھا گیا۔جامع مسجد سے ملی اطلاع کے مطابق وہاں کے امام خطیب کو اطلاع دی گئی کہ حکام نے کورونا وائرس کے پیش نظر جامع مسجد کو ایک بار پھر بند کر دیا ہے‘‘۔ادھرانجمن اوقاف جامع مسجد سرینگر نے مقدس اور متبرک ماہ ربیع الاول کی آمد پر اپنے اور غیر قانونی طور پر نظر بند رکھے گئے سربراہ اوقاف میرواعظ  مولوی محمد عمر فاروق کی جانب سے اہلیان وادی کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے  مطالبہ کیا ہے کہ  حکمرانوںکو چاہئے کہ ماہ ربیع الاول کی آمد کے پیش نظر وہ مرکزی جامع مسجد سمیت دیگر تمام مقامات سے عائد پابندیاں ہٹا کر عوام کو اپنے مذہبی عقائد کے مطابق ایس او پیز کا لحاظ رکھتے ہوئے نمازوں اور عبادات کا موقع فراہم کیاجائے۔