ماہِ مبارک کا ایک ایک لمحہ قیمتی ہے !

سجاد احمد خان
الحمد للہ تعالیٰ! زندگی میں ایک مرتبہ پھر ہم رمضان المبارک کے مقدس لمحات اور پر نور بہاروں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ کتنے مسلمان ایسے تھے، جو گزشتہ سال کے ماہِ مبارک میں ہمارے ساتھ روزوں اور تراویح میں شریک تھے لیکن آج اپنی قبروں میں پہنچ چکے ہیں۔ اُن کے اعمال نامے بند ہو چکے ہیں اور مہلت ِ زندگی ختم ہو چکی ہے۔

اللہ تعالیٰ کا شکر ہے جس نے ہمیں سلامتی، عافیت اور صحت کے ساتھ یہ مقدس شب و روز ایک مرتبہ پھر عطا فرما دئیے لیکن کیا معلوم کہ اگلے رمضان تک ہم میں سے کون پہنچے گا اور کس کے لمحات ِ زندگی اس سے پہلے ہی مکمل ہو جائیں گے۔ اس لیے اس ماہِ مبارک کو زندگی کا آخری رمضان سمجھ کر بڑے اہتمام سے حاصل کرنا چاہیے اور اس کے ایک ایک لمحے کو ضائع ہونے سے بچا کر قیمتی بنانا چاہیے۔

ظاہر ہے کہ اس ماہِ مبارک میں کچھ توبات تھی کہ ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم دو ماہ پہلے یعنی رجب میں ہی اِس ماہ کو پانے کیلئے دعا مانگتے اور پھر مسلسل مانگتے ہی رہتے۔ پیارے  نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرات ِ صحابہ کرامؓکو بار بار، مختلف انداز اور تعبیر سے اس مہینے کی عظمت ذہن نشین کر وائی۔ ایک مرتبہ جب شعبان کی آخری تاریخ تھی اور رمضان شروع ہونے میں بظاہر چند گھنٹے تھے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کی عظمت اور قدر و قیمت پر ایک خطبہ ارشاد فرمایا۔ یہ خطبہ اس قابل ہے کہ ہر مسلمان اس کو ماہِ مبارک میں بار بار خود پڑھے، اپنے گھروں میں اس کی تعلیم کروائے اور اس کے ایک ایک جملے کو دل و دماغ میں بٹھائے۔

حضرت سلمان فارسی ؓ سے روایت ہے کہ ماہ شعبان کی آخری تاریخ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو ایک خطبہ دیا۔اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’اے لوگو! تم پر ایک عظمت اور برکت والا مہینہ سایہ افگن ہورہا ہے، اس مبارک مہینہ کی ایک رات (شب قدر) ہزار مہینوں سے بہتر ہے، اس مہینے کے روزے اللہ تعالیٰ نے فرض کیے ہیں اور اس کی راتوں میں بارگاہ خداوندی میں کھڑا ہونے (یعنی نماز تراویح پڑھنے کو) نفل عبادت مقرر کیا ہے (جس کا بہت بڑا ثواب رکھا ہے) جو شخص اس مہینے میں اللہ کی رضا اور اس کا قرب حاصل کرنے کیلئے کوئی غیر فرض عبادت (یعنی سنت یا نفل) ادا کرے گا تو اس کو دوسرے زمانہ کے فرضوں کے برابر اس کا ثواب ملے گا اور اس مہینے میں فرض ادا کرنے کا ثواب دوسرے زمانے کے ستر فرضوں کے برابر ہے۔‘‘

’’یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے۔ یہ ہمدردی اور غمخواری کا مہینہ ہے اور یہی وہ مہینہ ہے جس میں مومن بندوں کے رزق میں اضافہ کیا جاتا ہے۔ جس نے اس مہینے میں کسی روزہ دار کو افطار کرایا تو اس کے لئے گناہوں کی مغفرت اور آتش دوزخ سے آزادی کا ذریعہ ہوگا اور اس کو روزہ دار کے برابر ثواب دیا جائے گا۔ بغیر اس کے کہ روزہ دار کے ثواب میں کوئی کمی کی جائے۔‘‘

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان ہی ارشادات کا اثر تھا کہ چودہ سو سال سے اولیاء اللہ اس ماہِ مبارک کو بہت ہی اہتمام سے گزارتے آئے ہیں اور اس مہینے کی تمام روحانی سوغات روزہ، تراویح، تلاوت، استغفار، افطار کروانے کا اجرو ثواب اور غزوئہ بدر و فتح مکہ کی یادوںسے مستفید ہوتے رہے ہیں۔

اس لیے اگر ہمارے دل و دماغ میں بھی وہ ارشادات ِ نبوت تازہ رہیں گے، جن میں ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے فضائل بیان فرمائے ہیں تو ہمارے لیے   طویل روزے، پر سکون اور لمبی تروایح اور دن رات غلبۂ دین کی محنت کرنا نہ صرف آسان ہو جائے گا بلکہ ہمیں اس میں ایسا لطف اور مزہ آئے گا کہ جسے الفاظ میں بیان کرنا ممکن ہی نہیں ہے۔

ایک اللہ والے عالم مفتی جمیل احمد تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے ہم جیسے کمزور لوگوں کے شوق کو دوبالا کرنے اور ہمارے دلوں میں رمضان کے ایک ایک لمحے کی قدر وقیمت کا نقشہ اتنے پیارے انداز سے کھینچا ہے کہ کوئی مسلمان اس کا اثر لیے بغیر نہیں رہ سکتا۔  انہوں نے ’’مفت کے خزانے‘‘ کے عنوان سے تحریر فرمایا ہے:

٭ رمضان المبارک کا ایک ایک روزہ سال بھر کے تین سو چوّن مسلسل روزوں سے زیادہ ثواب رکھتا ہے٭ بلا عذر اگر اس کا ایک روزہ بھی نہ رکھا گیا تو عمر بھر کے روزے بھی اس کی جگہ کافی نہیں ہونگے٭ رمضان میں ہر فرض کا ثواب ستر گنا، ہر نفل، اعتکاف و ذکر اور ہرنیک کام کا ثواب ستر گنا ہو کر فرض کے برابر ہو جاتا ہے ٭ نماز کا ثواب گھر پر ایک کا، مسجد میں پچیس کا، جامع مسجد میں پچاس کا تھا، لیکن رمضان میں ستر گنا اور زائد ہو گا اس لئے رمضان میں گھر پر ستر، مسجد میں سترہ سو پچاس، جامع مسجد میں تین ہزار پانچ سو ہو جاتا ہے٭ جماعت کا ستائیس گنا، پنج وقتہ ایک سو پینتیس اور رمضان کا ستر گنا نو ہزار چار سو پچاس ثواب ہو گا٭ قرآن مجید کے ہر حرف پر دس نیکیاں تو رمضان میں سات سو ہونگی قرآن کے کل حروف تین لاکھ تیس ہزار چھ سو اکہتر، اس طرح پورے قرآن مجید کا ثواب رمضان میں بائیس کروڑ پینسٹھ لاکھ انہتر ہزار سات سو بنتا ہے۔ سننے والے کو بھی اتنا ہی ثواب اور جو سمجھ کر پڑھے یا سنے اسے اتنا ہی مزید ثواب اور جو پڑھے بھی، خود سنے بھی اور سمجھے بھی اسے اس ثواب کا تین گنا یعنی سڑسٹھ کروڑ چھیانوے لاکھ نو ہزار ایک سو ثواب ملےگا٭قرآن مجید پڑھنے کا یہ عظیم الشان ثواب شبینہ کی رات میں حاصل ہو سکتا ہے، بشرطیکہ کسی مکروہ یا خلاف شرع یا ریاء و نمود سے اس شبینہ کو ملوث نہ کیا جائے٭بسم اللہ الرحمن الرحیم جو سب کو یاد ہے اس کے انیس حرف ہیں اور رمضان میں تیرہ ہزار تین سو نیکیاں صرف بسم اللہ کے پڑھنے پر ملیں گی اور جو جو سورتیں حفظ ہوں، وضو یا بے وضو چلتے پھرتے ہر حرف پر اتنی ہی نیکیاں مفت ملیں گی٭ ایک بار درود شریف پر دس نیکیاں اوردس رحمتیں جو رمضان میں سات سو ہوتی ہیں۔سب سے مختصر درودصلی اللہ علیہ وسلم ہے، جو ایک منٹ میں سو بار ہو سکتا ہے ٭ شب قدر ہزار ماہ یعنی تیس ہزار دن اور تیس ہزار رات کے برابر یعنی ساٹھ ہزار گنا ثواب ہے۔ غروب شمس سے صبح صادق تک ہر منٹ کا ثواب ساٹھ ہزار منٹ کے برابر ہے۔ ایک منٹ کا ضائع کرنا بھی کس قدر خسارہ کی بات ہے٭نیکی کی ترغیب پر اتنا ہی ثواب ہے جتنا کرنے والے کو ہے ،اس لئے ہر وقت ہر نیک کام کی ترغیب دی جائے تا کہ ا سکے برابر ثواب ملتا رہے اور ہربرے کام سے روکنے کی تدبیر بھی تا کہ اس سے بچنے کے برابر بھی ثواب حاصل ہو٭ اعتکاف پر انسان اور دوزخ کے درمیان تین خندق کا فاصلہ ہو جاتا ہے۔ مسجد میں قدم رکھتے ہی واپسی تک کے نفلی اعتکاف کی نیت سے مفت کا یہ ثواب حاصل ہو گا٭ زکوٰۃ و عشر میں اور صدقہ و خیرات میں رمضان کی وجہ سے ستر گنا ثواب زائد ہو گا۔ اللہ کی راہ میں دیئے ہوئے کا ثواب رمضان میں انچاس ہزار ہے٭ ان سب کاموں میں ایصال ثواب کی بھی نیت کی جا سکتی ہے۔ خواہ مردہ کو خواہ زندہ کو خواہ ان لوگوں کو جو ابھی پیدا بھی نہیں ہوئے۔ فقہاء نے لکھا ہے کہ ایصال ثواب میں سب مسلمانوں کی نیت کرنی چاہئے کیونکہ ثواب تقسیم نہیں ہو سکتا بلکہ پورے کا پورا ہر ایک کو ملتا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب!اللہ تعالیٰ ہم سب کو یہ ماہِ مبارک اپنی پوری برکتوں اور رحمتوں کے ساتھ نصیب فرمائے اور امت ِ مسلمہ کو اس میں حقیقی خوشیاں عطا فرمائے۔ آمین 

(ریپورہ لار گاندربل کشمیر)