ماہِ رمضان ۔اللہ کی رحمت کا عظیم مظہر

محمد طفیل ندوی
اللہ تبارک وتعالیٰ کی مہربانی ورحمت کاکیا پوچھنا وہ تو اپنے بندوں پر سترمائوں سے بھی زیادہ مہربان ہے ،وہ توبہ واستغفارکوپسندکرتاہے اورگناہوں میں سرتاپا ڈوبے ہوئے لوگوں کوبھی اپنی رحمت سےمایوس نہ ہونےکی ہدایت کرتاہے۔رمضان المبارک اللہ تعالی کی رحمت کاعظیم مظہرہے،جس میں اس کی رحمت کا دریا سمندرکی شکل اختیار کرلیتاہے ،رحمت باری جوش میں ہوتی ہے ،چھوٹی چھوٹی نیکیوں کی بھی وہ قدرافزائی اوربدلہ کہ ہم تصور نہیں کرسکتے اورپھررمضان المبارک کی برکتوں سے ایساخوشگوارماحول جوخودبخود خیرکی طرف متوجہ کرتاہے اوربرائیوں سے وحشت محسوس ہونےلگتی ہے، خیروبرکت کے اس ماحول میں اگر تھوڑی سی بھی کوشش کی جائے توہم میں سے ہرفرد اپنے نفس کی تربیت وتزکیہ کرکے ایک پاکیزہ زندگی کاآغازکرسکتاہے،ایک ایسی زندگی جو ہمارے رب کو مطلوب ہے اورجس کے نتیجےمیں ہم تمام ابدی ودائمی مسرتوں کےحقدار بن سکتےہیں۔ یہ کام مشکل توہےمگرناممکن نہیں ہمت اورکوشش سے کیا نہیں ہوسکتا ۔اللہ تعالی خودفرماتا ہے’’اگر ہم اس کی طرف ایک بالشت بڑھیں گے تووہ ہماری طرف دوبالشت بڑھےگا ،ہم اس کی طرف چلناشروع کریں گے تووہ ہماری طرف دوڑتاہواآئیگا اوریقیناًاس میں کوئی شک نہیں کہ اصل چیز عزم اورارادہ ہے۔ یہ رمضان کی شکل میں ہمارےسامنے ایک سنہرا موقع ہے، جس میں ہم اہم فیصلے کرسکتےہیں اوربہت کچھ حاصل کرسکتےہیں۔رمضان المبارک کویہ فضیلت واہمیت حاصل ہےکہ یہ روزوں کابھی مہینہ ہے اور قرآن کابھی ،جولوگوں کیلئے ذریعہ ہدایت ہے۔روزےکامقصد اللہ تعالیٰ کی عظمت کااظہار اوراس کی شکرگذاری ہے۔روزےدارکیلئے یہ چیزضروری ہےکہ وہ روزےکی شکل میں ملنےوالی نعمت اورفضل خداوندی کویادکریں اوراس کاشکراداکریں اورہرآن یہ احساس رکھےکہ روزہ اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے،اس کاحق اداکرنا میری سب سےپہلی ذمہ داری ہے۔

ان تمام فرائض کیساتھ پیارےنبی حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رمضان کوہمدردی وغمگساری کامہینہ بھی قراردیاہے،یعنی اس ماہ میں روزہ رکھ کر بھوک وپیاس اورتکلیف کاجو احساس ہوتاہے، اس سے انسان دوسرےانسانوں کے دردوکرب اورتکلیف کومحسوس کرتاہے۔ رمضان میں کثرت سے صدقہ وخیرات کرکے ہم ووسروں کی بھوک و پیاس اور تکلیف کو کم کرسکتے ہیں۔ ویسےبھی ایک پیسہ یاایک دانہ جواللہ تعالی کی راہ میں خرچ کیاجاتاہے،اس پر دس گناسےلےکرسات سوگناتک اجرکاوعدہ ہے۔رمضان میں کتنا اجرملےگااس کااندازہ بھی نہیں کیاجاسکتا۔ اس مہینہ میں مومن کے رزق میں اضافہ کردیاجاتاہے،جوشخص اس ماہ مبارک میں کسی روزےدارکوافطارکراتاہےتواس کے گناہوں کی بخشش ہوجاتی ہے۔صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، اگرہم میں سے کسی کےپاس افطارکرانےکیلئے کوئی چیزموجودنہ ہوتو وہ کیاکریں توآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جوشخص کسی روزےدارکوایک کھجور،ایک قطرہ پانی یادودھ سے بھی افطارکرائیگاتواللہ تعالی اسےبھی اس کے ثواب سے محروم نہیں فرمائے گا۔ پس رمضان میں ہم اپنی مٹھی کھولیں،اللہ تعالیٰ کے دین کے غلبہ کیلئے ،غریب رشتہ داروں،پڑوسیوں ،یتیموں ،بیوائوںاورضرورت مندوں کیلئے جتنا مال ہم خرچ کرسکتےہیں،خرچ کریں۔بھوکوں کوکھانا کھلائیں، مریضوں کیلئے علاج کابندوبست کریں،غریب طلباءکی مدد اورمساجدومدارس کی تعمیر وترقی میں حصہ لیں، تمام انسانوں کیساتھ پیار،محبت، عفوودرگذر اوراحسان کی عادت ہم بنالیںاوراس کو ضروری سمجھیں۔

ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کافرمان ہےکہ میری امت کو ماہ رمضان میں پانچ چیزیں ایسی عطاکی گئیں جواس سےپہلے کسی امت کو نہ ملی ،پہلی یہ کہ جب رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تواللہ تعالی ان کی طرف رحمت کی نظرفرماتا ہے،دوسری یہ کہ روزےدارکی منہ کی بدبو جوبھوک کی وجہ سے ہوتی ہے، اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی بہترہوتی ہے،تیسری یہ کہ فرشتے ہررات ودن ان کیلئے مغفرت کی دعائیں کرتےرہتےہیں،چوتھی یہ کہ اللہ تعالی جنت کو حکم دیتےہیںکہ میرےبندوں کیلئے مزین ہوجا ،عنقریب وہ دنیا کی مشقت سے میرے گھر اورکرم میں راحت پائیں گے،پانچویں یہ کہ جب ماہ رمضان کی آخری رات آتی ہے تواللہ تعالی سب کی مغفرت فرمادیتاہے۔یہی وجہ ہےکہ رمضان المبارک میں ہماری زندگیوں کانقشہ بہت حدتک تبدیل ہوجاتاہے۔پابندی سے روزےجوبہت بڑی نیکی ہے، جس کے بارےمیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث میں اللہ تعالی کافرمان ہے کہ’’ روزہ میرےلئےہےاورمیں ہی اسکابدلہ دونگا‘‘۔نمازوں کااہتمام،صدقہ وخیرات کی ادائیگی،زبان کی حفاظت،صبح وشام تلاوت قرآن ،راتوں میں اللہ کے حضورکھڑاہونا،توبہ واستغفارسے رغبت اورنہ جانے کتنےہی اعمال خیر ہماری زندگیوں کاحصہ بن جاتےہیں۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دعاکریں کہ اللہ رب العزت ہمارے لئے اس رمضان کو ہماری زندگی کیلئےایک نئی زندگی کا آغازبنادیں اوراس رمضان سے خوب فائدہ اٹھانےکا شوق اورہمت عطافرمائے ۔

 روزے کا اصل مقصد تقویٰ ہے اور جس طرح نیکیوں اور عبادات سے زندگی کاپُر ہونا ضروری ہے، اسی طرح کامل ایمانی زندگی اور تقویٰ وطہارت کا حصول بھی گناہوں سے اجتناب کئے بغیر ناممکن ہے ۔چنانچہ اسی عظیم مقصد کی طرف اس آیت مبارکہ میں صراحتاً بیان کیا گیا’’اے ایمان والوں تم پر روزے کو فرض کیا گیا ہے جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیا گیا تاکہ تم پرہیز گار ہوجاؤ‘‘اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ ماہ رمضان کے علاوہ مہینوں میں گناہ کرنے کی گنجائش ہے بلکہ اس کا اثر عملی طور پر پوری زندگی پر ہونا چاہیے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ انسان رمضان میں دوسرے کیساتھ تعلقات اور معاشرتی روابط کے معاملے میں خاص توجہ نہیں دیتا اور اپنے ماتحتوں اور غیروں کیساتھ غیر منصفانہ رویہ رکھتا ہے اور ان کے حقوق کی پامالی کرتا ہے جس کیوجہ سے اسکا روزہ بیکار اور ضائع ہوجاتا ہے۔ لہٰذا دوسروں کے حقوق کی پامالی کئے بغیر عادلانہ زندگی گزاریں تاکہ ہمارا بھوکا اور پیاسا رہنا ذخیرہ آخرت بنے اور جنت میں جانے کا ذریعہ۔ اسی طرح ہم قرآن مقدس کی تلاوت سےاپنے دل کومنورکریں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دیگر مہینوں کے مقابلہ رمضان المبارک میں طویل قرأت فرماتے تھے۔ حضرت حذیفہ ؓ فرماتے ہیں کہ ایک رات رمضان المبارک میں ،میں نے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیسا تھ نیت باندھ لی ،آپ ؐنے سورہ بقرہ پڑھی ، پھر سورہ آل عمران ،دوہی رکعت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ پڑھا تھا ۔ حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسی اہتمام کو دیکھ کر بعض اسلاف رمضان کی تین راتوں میں ایک قرآن بعض ہر ہفتہ اور بعض اکابر ہر دس دن میں ایک قرآن ختم کرنے کا اہتمام کرتے تھے۔

  رمضان المبارک کے دن و رات میں عاجزی و محتاجگی کے اظہار کے ساتھ خوب دعائیں کرنی چاہئیں۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے’’اور جب آپ سے میرے بندے میرے متعلق پوچھیںتو میں قریب ہوں، دعا کرنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں، جب بھی وہ مجھے پکاریں، انھیں چاہیے کہ میرے احکام مانیں اور مجھ پر بھروسہ رکھیں، تا کہ وہ رشد و ہدایت پائیں۔‘‘علامہ ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ وہ اپنے بندوں کے قریب ہے اوردعا کرنے والے کی دعاء کوسنتا ہے، وہ جب بھی پکارے اللہ تعالیٰ اسے قبول کرتا ہے، اس میں اللہ تعالی اپنے بندوں کو ربوبیت کی خبردے رہا ہے اورانھیں اس کا سوال اوران کی دعا ءکی قبولیت کا شرف بخش رہا ہے کیوں کہ جب بندے اپنے رب سے دعا کرتے ہیں تو وہ اس کی ربوبیت پر ایمان لا کرایسا کرتے ہیں۔اس آیت میں پہلی بات یہ ہے کہ اللہ تعالی نے عبادت واستعانت میں جس چیز کا حکم دیا ہے ، وہ اس میں اس کی اطاعت کرتے ہوئے اس کی بات تسلیم کریں ،دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت اوراس کی الوہیت پر ایمان، اوریہ ایمان رکھنا کہ وہ ان کا رب معبودہے ، اوراسی لیے کہا جاتا ہے کہ دعا اس وقت قبول ہوتی ہے ، جب اعتقاد صحیح ہو اوراطاعت بھی مکمل پائی جاتی ہو ، اس لیے کہ اللہ تعالی نے دعاء کی آیت کے آخر میں اسے اپنے اس فرمان میں کچھ اس طرح بیان کیا ہےلہٰذاانہیں چاہیے کہ وہ میری بات تسلیم کریں اورمجھ پر ایمان رکھیں۔

اللہ تعالیٰ نے یہ مبارک مہینہ اس لیے عطا فرمایا کہ گیارہ مہینے انسان دنیا کے دھندوں میں منہمک رہتا ہے، جس کی وجہ سے دلوں میں غفلت پیدا ہوجاتی ہے، روحانیت اور اللہ تعالیٰ کے قرب میں کمی واقع ہوجاتی ہے، تو رمضان المبارک میںآ دمی اللہ کی عبادت کرکے اس کمی کو دور کرسکتا ہے۔ دلوں کی غفلت اور زنگ کو ختم کرسکتا ہے، تاکہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرکے زندگی کا ایک نیادور شروع ہوجائے۔ جس طرح کسی مشین کو کچھ عرصہ استعمال کرنے کے بعداس کی سروس اور صفائی کرانی پڑتی ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے انسان کی صفائی اور سروس کے لیے یہ مبارک مہینہ مقرر فرمایا۔رمضان المبارک میں خاص طور پر گناہوں سے پرہیز کرنا نہایت ضروری ہے، ہر مومن کو یہ طے کرلینا چاہیے کہ اس برکت ورحمت اورمغفرت کے مہینے میں آنکھ، کان ،اور زبان غلط طریقےپر استعمال نہیں ہوگی۔ جھوٹ، غیبت، چغل خوری اور فضول باتوں سے مکمل پرہیز کریںگے۔ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’جو آدمی روزہ رکھتے ہوئے باطل کام اور باطل کلام نہ چھوڑے تو اللہ تعالیٰ کو اس کے بھوکا پیاسا رہنے کی کوئی ضرورت نہیں‘‘ یعنی روزے کے مقبول ہونے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی کھانا پینا چھوڑنے کے علاوہ معصیات ومنکرات سے بھی زبان ودہن اور دوسرے اعضاء کی حفاظت کرے۔ اگر کوئی شخص روزہ رکھے اور گناہ کی باتیں اور گناہ والے اعمال کرتا رہے تو اللہ تعالیٰ کو اس کے روزے کی کوئی پروا نہیں۔ایک اور حدیث شریف میں حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’بہت سے روزہ رکھنے والے ایسے ہیں کہ ان کو روزے کے ثمرات میں سے بھوکا رہنے کے علاوہ کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا اور بہت سے شب بیدار ایسے ہیں کہ ان کو رات کے جاگنے کی مشقت کے سوا کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا‘‘۔

[email protected]