ماہِ رمضان کی آمد آمد کیوں نہ خدا سے تجارت کی جائے!

قیصر محمود عراقی
دنیا بھر میں مسلمانوں کیلئے بخشش اور رحمت سے بھرے ماہِ صیام یعنی رمضان المبارک کی آمد آمد ہے۔ ہر سال یہ ماہِ مبارک امتِ مسلمہ کیلئے اللہ کی راہ میں اپنی خواہشات کو قربان کرنے کا پیغام لاتا ہے، یہ ماہِ مبارک ایثار، صلہ رحمی، کم وسیلہ لوگوں کی مدد ، اپنے نفس اور خواہشات پر قابو پانے کا درس دیتا ہے۔ بے شک یہ ماہ روح اور جسم کی بالیدگی کا بہترین ذریعہ ہے، یہ واحد رازہے جو بندے اور رب کے درمیان مخفی ہوتا ہے، نماز ادا کریں پتہ چلتا ہے، نہ کریں تب بھی پتہ چلتا ہے، زکوۃ ادا کریں سب کو خبر ہوتی ہے ،نہ ادا کریں اس کی خبر بھی ہوتی ہے، حج ادا کریںدور دور تک شحرا ہوتا ہے نہ ادا کریں وہ بھی نظر آتا ہے۔ مگر یہ حکم الٰہی کے تحت فجر تامغرب اپنے وجود کو نفس کو اس شئے سے روکنا جس کا حکم خدا اور اس کے رسولؐنے دیا ہے اس کا علم صرف بندے اور رب کو ہوتا ہے ۔ اس لئے رب نے اس کی جزاسب سے جدا رکھی ہے، کوئی نہیں جانتا کس کا روزہ ہے کس نہیں یہ صرف رب جانتا ہے۔
ایک بندہ جب رضائے الٰہی کیلئے بھوکا پیاسا پورا دن بسر کرتا ہے، نماز ادا کرتا ہے، اسی حالت میں دنیاوی امور بھی سر انجام دیتا ہے، ساتھ ہی برے کاموں سے اور باتوں سے اجتناب کرتا ہے، اپنی بھوک پیاس سے بے پرواہ دفتر یا دکان میں خندہ پیشانی سے مصروف رہتا ہے، افطار کے وقت اپنے گھر والوں کے ساتھ صبر وشکر کے جذبات سے لبریز لمحات میں روزہ افطار کرتا ہے، ہمت والے عشاء کے بعد تراویح کا اہتمام کرتے ہیں، باقی لوگ گھروں میں قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہیں۔ یہ نیکیوں کی بہار کا مہینہ ہے، اسے رحمت کا بخشش کا مہینہ کہا جاتاہے۔ ہر ایک نیک عمل پر ستر(۷۰)گنازیادہ اجر ملتا ہے تو پھر کیوں نہ ہم اس بھرپور منافع والے مہینہ میں اپنے رب سے تجارت کریں، ہر نیک اور اچھے کام پر ستر گنا زیادہ اجر پائیں۔ اگر ہم صرف اس بات کو مدِ نظر رکھیں گے کہ ہمارا جینا ،مرنا ،نماز ، روزہ ، زکوۃ ، حج، تمام مالی وبدنی عبادت اللہ کیلئے ہے اور وہی ہمیں اس کا بہترین اجر دیگا تو یہ ماہ زیادہ سے زیادہ نیکیاںکمانے کا متقاضی ہے۔ مگر افسوس کی بات ہے کہ نماز کے وقت دوڑتے ہوئے مسجد کی پہلی صف میں زیادہ ثواب کمانے کی نیت سے جانے والے ہمارے تاجر بھائی ، دکاندار بھائی ، چاہے وہ پھل فروش ہو ںیا دودھ فروش، کریانہ والے ہوںیا سپر اسٹور والے، گوشت والے ہوں یا سبزی والے ہوںیا پکوڑے والے یہ سب نہ جانے کیوں بھول جاتے ہیں کہ جو شخص خدا کے بندوں کیلئے زندگی دوبھر کرتا ہے انہیں اذیت اور تکلیف مبتلا کرتا ہے اس مقدس ماہ کا آغاز ہوتے ہی ہر چیز کا نرخ بڑھا دیتا ہے۔
قارئین حضرات ان کے روزے کی حالت میں اس بے ایمانی پر اس بے ایمانی سے حاصل شدہ مال سے روزہ افطار کرنے کا معاملہ بھی اللہ تعالیٰ کے پاس ہے جو ان کی اس منافقانہ چالوں سے بخوبی با خبر ہے، لاکھوں کروڑوں بندگانِ خدا کو کھانے پینے کی نعمتوں سے دور کرنے والے ان لوگوں کے اپنے روزے اور نماز کی اس مالک کے دربار میں کیا حیثیت ہوگی جو ہمہ وقت غریبوں ، ناداروں، بے قصوں کے مدد کا چارہ گری کا حکم دیتا ہے۔ کیا ایسے لوگوں کی یہ عبادت قبول ہونگی جو غریب روزے داروں کے منھ سے نوالا چھین رہے ہیں۔ دس روپے کی چیز رمضان مبارک کے ماہ میں بیس روپے کی فروخت کرتے ہیں کیا یہی مہینہ رہ گیا تھا ناجائز طریقوں سے منافع کمانے کا۔ یہ تو اللہ کے خزانوں سے منافع لینے کا مہینہ ہے، اس ماہ اگر ایک نیکی پر ستر گنا زیادہ اجر ملتا ہے تو سوچ لیں گناہ پر ،زیادتی پر ، سزا کتنی سخت اور زیادہ ہوگی۔ اس لئے اگر ہمارے تاجر ، دکاندار ، سپراسٹور کے مالکان ، ملز مالکان، خدا کا خوف کریں یا خدا کی محبت سے سرشار ہوکر خدا کے بندوںکیلئے نرمی ، آسانی اور ارزانی کی راہ اختیار کرے تو ملک بھر کے کروڑوں غریب لوگوں کو اس کا فائدہ ہوگا اور انہیں روزہ رکھنے میں سہولت ملے گی، یو ںافطار کے وقت ان کے اجر وثواب میں یہ تاجر اور دکاندار بھی خودبخود شریک ہوجائینگے۔ عوام کے ارزاںنرخوں پر کھانے پینے کی اشیاء خاص طور پر روز مرہ استعمال ہونے والے کچن ایٹمز کی فراہمی حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ خدا کرے آنے والے رمضان میں حکومت اس ذمہ داری کو احسن طریقے سے نبھانے میں کامیاب رہے، حکومت کے پاس بے شمار لامحدود اختیارات ہوتے ہیںاگر نیت ٹھیک ہو تو یہ کام مشکل نہیں ہے، عارضی ہی سہی ایک ماہ تک سستے رمضان بازاروں میں حقیقت میں میعاری سامان سبزیاں، پھل ، آٹا، دال، چینی، گھی، سرکاری نرخوں پر فراہمی ممکن بنائی جاسکتی ہے۔
اسی طرح خود تاجر بھی خوف خدا کے تحت بہترین اجر وثواب کی نیت سے بازاروں اور گرانی اور مہنگائی کو ختم کرکے سرکاری نرخوں پر یا معمولی منافع پر اشیاء کی فراہمی یقینی بنائیں،پوری دنیا میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ بڑے دنوں یا مقدس ایام میں ہرچیز پر چالیس سے پچاس فیصد تک رعایت ملتی ہے تاکہ غریب غربا بھی فائدہ اٹھائیں تو کیا ہمارے مسلمان بھائی ایسا نہیں کرسکتے؟ کیا ہم کفار سے بھی گئے گذرے ہیں؟۔ لہٰذا قیمتیں کم کریںتاکہ غریب مسلمان بھی اس مقدس ماہ کی برکات سے فیضیاب ہوںاور بازار میں انہیں ہر چیز آدھی قیمت پر ملے۔ گیارہ مہینہ کمانے کیلئے ہوتے ہیں یہ ایک ماہ راہِ خدا میں لٹانے کا درس دیتا ہے تو کیوں نہ راہِ خدا میں لٹانے کا مزہ لیا جائے۔ خدا سے تجارت کی جائے ، ایک ماہ ہی سہی اور ستر فیصد زیادہ منافع کمایا جائے۔
رابطہ ۔6291697668