ماہِ ذی القعدہ کی اہمیت و فضیلت! حُرمت

 مولانا پیر شبیر احمد 
 ماہ ذی قعدہ ان چار مہینوں میں سے ایک ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے حرمت والے مہینے قرار دئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے، حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے نزدیک مہینوں کی تعداد بارہ مہینے ہے، جو اللہ کی کتاب (یعنی لوحِ محفوظ) کے مطابق اْس دن سے نافذ چلی آتی ہے جس دن اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا تھا۔ ان بارہ مہینوںمیں سے چار حرمت والے مہینے ہیں۔ یہی دین کا سیدھا سادہ تقاضا ہے، لہٰذا ان مہینوں کے بارے میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کروقرآن وحدیث کی روشنی میں امت مسلمہ کا اتفاق ہے کہ قرآن فہمی حدیث نبوی کے بغیر ممکن نہیں ہے، یعنی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اور ان کے اعمال کی روشنی میں ہی قرآن کریم کو سمجھا جاسکتا ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قول وعمل حدیث نبوی کے ذخیرہ کی شکل میں آج بھی امت مسلمہ کے پاس موجود ہے۔۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سال بارہ مہینے کا ہوتا ہے۔ ان میں سے چار حرمت والے مہینے ہیں۔تین تو لگاتار، یعنی ذی قعدہ، ذی الحجہ، محرم الحرام اور چوتھا رجب المرجب ہے۔ ان چار مہینوں میں قتل وقتال اور جنگ کے خاص طور پر حرام ہونے کی وجہ سے اِن مہینوں کو اشہر حُرم کہا جاتا ہے۔ زیادہ تر عازمینِ حج ذی قعدہ میں ہی حج کے لئے سفر کرتے ہیں اور حج کا احرام باندھتے ہیں۔ عازمین حج کی بڑی تعداد اس ماہ میں مسجد حرام پہنچ کر عبادتوں میں مصروف ہوجاتی ہے، اس لحاظ سے ماہِ ذی قعدہ کی اہمیت اور فضیلت مسلّم ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام عمرے ذی قعدہ کے مہینے میں ہی ادا ہوئے، سوائے اُس آخری عمرہ کے جو آپ ؐ نے اپنے حج کے ساتھ کیا تھا۔ اس آخری عمرہ کا احرام بھی آپؐ نے ذی قعدہ کے مہینہ میں ہی باندھا تھا۔ بعض لوگ ذی قعدہ کے مہینے میں کسی اہم کام کرنے کو منحوس سمجھتے ہیں، جو قرآن وحدیث کی روشنی میں سراسر غلط ہے کیونکہ ایسی فضیلتوں والے مہینے میں بھلا کوئی کام کیسے منحوس ہوسکتا ہے۔ نیز کسی بھی مہینہ یا دن میں منحوسیت نہیں ہوتی ہے بلکہ ہمارے اعمال کی وجہ سے وقت مقبول یا منحوس بن جاتا ہے۔ حدیث میں وارد ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ابن آدم یعنی انسان مجھے تکلیف پہنچاتا ہے جب وہ زمانہ کو برا بھلا کہتا ہے، حالانکہ میں ہی زمانہ کو پیدا کرنے والا ہوں۔ میرے ہی ہاتھ میں تمام کام ہیں۔میں جس طرح چاہتا ہوں، رات دن کو پھیرتا رہتا ہوں۔ نماز وروزہ کے تعلق سے یہ مہینہ دوسرے مہینوں کی طرح ہے۔ کوئی خاص عبادت اس مہینہ کے لئے مخصوص نہیں ہے۔لہٰذا دیگر مہینوں کی طرح ذی قعدہ کے مہینے میں بھی یہ نفلی روزے رکھنے چاہئیں۔ اسی طرح دیگر مہینوں کی طرح اس ماہ میں بھی نوافل کا اہتمام کرنا چاہئے۔ رسول اللہؐ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بندہ نوافل کے ذریعہ میرے قرب میں ترقی کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اس کو اپنا محبوب بنا لیتا ہوں اور جب میں محبوب بنا لیتا ہوں تو میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنے، اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھے، اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑے، اس کا پا ؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلے، جو وہ مجھ سے مانگتا ہے میں اس کو دیتا ہوں۔ ہاتھ پاؤں بن جانے کا مطلب یہ ہے کہ اس کا ہر کام اللہ کی رضا اور محبت کے ماتحت ہوتا ہے، اس کا کوئی بھی عمل اللہ کی مرضی کے خلاف نہیں ہوتا۔ نبی اکرمؐ نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن آدمی کے اعمال میں سے سب سے پہلے فرض نماز کا حساب لیا جائے گا، اگر نماز درست ہوئی تو وہ کامیاب وکامران ہوگا، اگر نماز درست نہ ہوئی تو وہ ناکام اور خسارہ میں ہوگا اور اگر نماز میں کچھ کمی پائی گئی تو ارشادِ خداوندی ہوگا کہ دیکھو اس بندے کے پاس کچھ نفلیں بھی ہیں جن سے فرضوں کو پورا کردیا جائے، اگر نکل آئیں تو ان سے فرضوں کی تکمیل کردی جائیگی۔ مذکورہ بالا ودیگر احادیث کی روشنی میں ہر مسلمان کو چاہئے کہ پوری زندگی فرض نمازوں کے ساتھ سنن ونوافل کا بھی خاص اہتمام کرے تاکہ اللہ تعالیٰ کا قرب بھی حاصل ہوجائے جیسا کہ مذکورہ بالا حدیث قدسی سے معلوم ہوا کہ بندہ نوافل کے ذریعہ اللہ تعالیٰ سے قریب ہوتا جاتا ہے۔ نیز اگر خدانخواستہ قیامت کے دن فرض نمازوں میں کچھ کمی نکلے تو سنن ونوافل سے اسکی تکمیل کردی جائیگی ۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں پوری زندگی قرآن وحدیث کی روشنی میں زندگی گزارنے والا بنائے اور برکت والے ایام اور مہینوں کی قدر کرنے والا بنائے۔ آمین