ماں ۔عظیم نعمت،بے لوث رشتہ!

عابد شفیع بانڈے،نامبلہ اوڑی
ماں کی تعریف کے لئے الفاظ ناکافی ہیں ،یہ ایک بے لوث رشتہ ہے جس کا کوئی متبادل نہیں۔ دنیا میں جتنے بھی رشتے ہوتے ہیں اور ان میں جتنی بھی محبت ہو ،وہ اپنی محبت کی قیمت مانگتے ہیں۔ شوہر بیوی بچے بہن بھائی جو رشتے بھی دنیا میں ہیں، اگر آپ انہیں پیار دیتے ہیں تو پیار ملتا ہے جتنا آپ دیں گے، اتنا آپ واپس لیں گے۔ مگر ماں کا رشتہ دنیا میں واحد ایک ایسا رشتہ ہے جو صرف آپ کو دیتا ہی دیتا ہے۔ اور اس کے بدلے آپ سے کچھ نہیں مانگتا۔ آپ ماں سے بولیں نہ بولیں اس سے ملیں نہ ملیں مگر اس کی زبان پر ہمیشہ آپ کے لئے دعا ہی رہے گی۔ ماں کا رشتہ ایسا بے لوث رشتہ ہوتا ہے جو آپ سے کبھی بھی اپنی خدمت کی قیمت نہیں مانگتا۔’’ماں‘‘ اس لفظ کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ ماں دنیا کا ایک انمول ستارہ ہے، ماں اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا انمول تحفہ ہے۔ جس نے اس کی قدر کی وہ بہت خوش نصیب انسان ہے، جس نے اس کی خدمت کی اس کو جنت نصیب ہے کیونکہ ماں کے قدموں تلے جنت ہے۔ جس گھر میں ماں ہے، وہ گھر جنت سے کم نہیں اور جس گھر میں ماں نہیں، وہ گھر قبرستان کی مانند ہے۔

 دنیا میں انسان کا سب سے پہلا رشتہ جس سے جڑتا ہے،اولاد کی پہلی حرکت کا جسے احساس ہوتا ہے،اولاد کودنیا میں لانے کی خاطر خوشی خوشی جو تکلیفیں برداشت کرتی ہے،جو اپنے خونِ جگر سے اپنے بچّے کی پر ورش کرتی ہے،جو خود گیلے بستر پر سو کر ، اولاد کو سوکھے بستر میں سُلاتی ہے، جو گندگی کر دینے پر نہلا دُھلا کر پھربچے کو سینے سے لگالیتی ہے، جو تُتلاتی ہوئی زبان میں اس سے باتیں کرتی ہے،جو اولاد کی غَیبت میں بھی طعام و آرام کی فکر کرتی ہے،جو ہر غمی وخوشی میں برابر کی شریک رہتی ہے،جو بسترِ مَرگ پر بھی اپنے بچوں کی فکر کرتی ہے۔۔۔ وہ ماں ہوتی ہے۔

سچ تو یہ ہے کہ دنیا کاسب سے زیادہ اخلاص سے پُر رشتہ جو ایک انسان کا دوسرے انسان سے ہوتا ہے،وہ ماں کا اولاد سے ہے۔ اسی لیے ہر عقل مند انسان، انسانوں میں جس کا سب سے زیادہ احسان مند ہوتا ہے، وہ ماں ہوتی ہے اور تقریباً ہر مذہب کے ماننے والے، دانشوران اور ادبا و شعرا اسی لیے ماں کے گُن گاتے رہے ہیں ۔اس لیے جن کی مائیں زندہ ہیں ، انھیں ان کی قدر کرنی چاہیے اور جن کی مائیں داغِ فراق دے گئیں، انہیں ان کے لیے ایصالِ ثواب کرکے ان کی خوشی کا سامان کرنا چاہیے۔ 

یوں تو ماں باپ ہر دو کے احسانات ایسے ہیں جن کی کوئی حد نہیں البتہ ماں چوں کہ اولاد کی ولادت سے لے کر تعلیم و تربیت تک ہر میدان میں زیادہ مشقت برداشت کرتی ہے، اس لیے بعض احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ ماں کے حقوق باپ سے مقدم اور زیادہ ہیں ۔

فقہ کی کتابو ں میں لکھا ہے کہ اولاد پر والدہ کا حق والد کے حق سے بڑاہے اور اُس کے ساتھ سلوک و بھلائی اور اس کی خدمت و دیکھ بھال کرنا زیادہ واجب اور زیادہ ضروری ہے اور اگر ایسی صورت پیش آجاے،جس میں بیک وقت دونوں کے حقوق کی ادائیگی دشوار ہو جائے ؛مثلاً: والدین کے درمیان کسی وجہ سے اَن بَن ہو اور لڑکا اگر ماں کے حقوق کی رعایت کرتا ہے تو باپ ناراض ہوتا ہو اور اگر باپ کے حقوق کا لحاظ کرتا ہے تو ماں آزردہ ہوتی ہو،تو ایسی صورت میں یہ درمیانی راہ نکالی جائے کہ تعظیم واحترام میں تو باپ کے حقوق کو فوقیت دے اور خدمت گزاری نیز مالی امداد وعطا میں ماں کو فوقیت دے۔دنیا میں ماں ایک ایسا رشتہ ہے جس کاکوئی نعم البدل نہیں ہے ۔ ماں خدا کی محبت کا دنیا میں ایک روپ ہے ۔ ماں سے زیادہ اولاد سے محبت کرنے والا کوئی اور نہیں ۔ ماں کی قدموں میں جنت رکھی گئی ہے۔ ماں اپنے بچوں کے لیے جیتی ہے اور بچے اس کی سب سے بڑی دولت ہوتے ہیں۔ کس قدر بد قسمتی ہے کہ جب انسان ستاروں میں آباد ہونے کی تیاریوں میں مصروف ہے ،وہ ایک بوجھ جان کر اپنےبوڑھے ماں باپ کو لاوارث گھروں میں پھینک دیتے ہیں ۔اسی بوڑھی ماں کا بیٹا اس پر اتنا احسان کر دیتا ہے کہ اس کے لیے کچھ رقم لاوارث گھر میں بھیج دیتا ہے۔ایک دفعہ ایک سائل نے ہادی عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ حضور قیامت کب آئے گی؟ آپؐ نے فرمایا کہ مجھے اس کا علم نہیں ہے۔ سائل نے دوبارہ سوال کیا کہ قیامت کے آنے کی کوئی نشانی بتا دیں۔ حضور پاکؐ نے فرمایا ،جب اولاد ماں کو ذلیل کرے گی تو قیامت آنے کے آثار ہونگے ۔ حضورکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت عمر ؓ اور حضرت علی ؓ کو بتایا کہ تمہارے دور میں ایک شخص ہو گا، اس کا نام اویس بن عامر ، رنگ کا لا ، جسم پر سفید داغ ہو گا ، قرن کا رہنے والا اور کرنی قبیلے سے ہو گا ۔ تمہیں اُس سے اُمت کے لیے دعا کرنے کے لیے کہنا ہے ۔ حضرت عمر ؓ حیران ہوئے کہ دعا اور اس شخص سے ! حضورؐ نے فرمایا: ’’ اس شخص نے ماں کی اس حد تک خدمت کی ہے کہ جب دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتا ہے، اللہ تعالیٰ اُس کی دعا کو شرفت قبولیت بخشتے ہیں ۔ حضرت عمر ؓ دس سال خلیفہ رہے اس دوران انھیں اویس قرنیؓ کا کوئی اَتہ پتہ معلوم نہ ہوا تا کہ وہ حضور اکرم ؐ کا پیغام اس کو پہنچائیں ۔ پھرایک دفعہ حضرت عمر ؓ نے سب حاجیوں کو اکٹھا کیا اور کہا سب حاجی کھڑے ہو جائو ۔ جب سب کھڑے ہو گئے تو کہاسب بیٹھ جائو ، صرف یمن والے کھڑے رہیں ۔ اسکے بعد کہا باقی بیٹھ جائو صرف قرن والے کھڑے رہو جب قرن والے کھڑے رہے تو فرمایا: باقی بیٹھ جائو،صرف قرنی قبیلے والے کھڑے رہو ۔ تو صرف ایک آدمی کھڑا رہا ۔ حضرت عمر ؓ نے اس سے پوچھا ۔ تم اویس بن عامر کو جانتے ہو؟ تو وہ کہنے لگامیرے بھائی کا بیٹا ہے ۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا وہ اس وقت کہاں ہے؟ اُس نے بتایا عرفات میں اونٹ چرانے گیا ہوا ہے ۔ حضرت عمر ؓ اور حضرت علی ؓ عرفات میں مقررہ جگہ پر پہنچے تو دیکھا کہ ایک شخص نماز پڑھ رہا ہے، آپ نماز کے ختم ہونے کا انتظار کرنے لگے ۔ نمازی نے محسوس کیا کہ کوئی مہما ن اس کا انتظار کر رہے ہیں ۔ نمازی نے نماز مختصر کی تو حضرت عمر ؓ نے پوچھا کیا تم اویس قرنی ؓؑہو ۔ تو اس نے جواب دیا جی ہاں! میں اویس قرنی ہوں لیکن آپ کون ہیں ۔ حضرت علی ؓ نے بتایا کہ یہ مسلمانوں کے خلیفہ حضرت عمر فاروق ؓ ہیں اور میرا نام مرتضیٰ ہے ۔ اس شخص نے کہا اے سردارو! کیا میرے سے کوئی غلطی سرزد ہو گئی ہے؟ انہوں نے فرمایا نہیں !تم سے کوئی غلطی سرزد نہیں ہوئی ہے، تم تک نبی اکرم ؐکا پیغام پہنچانا ہے جو ہمارےذمہ ہے۔ اویس قرنی نے کہا میرے پیارے شہنشاہ ِکل جہاں صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے کیا حکم فرمایاہے ۔ حضرت علی ؓ نے بتایا کہ نبی کریم ؐ نے فرمایا تھا کہ اویس قرنی میری اُمت کی بخشش کے لیے دعا کرے ۔ اویس قرنی نے حیرت سے پوچھا آپ جیسے صحابہ اکرام ؓ کے ہوتے کیا میں دعا کروں ! حضرت عمر ؓ نے کہا یہ نبی اکرم ؐ کا آپ کے لیے پیغام ہے جو ہم آپ تک پہنچا رہے ہیں ۔اس کے بعد دونوں اپنے فرائض کی ادائیگی کے بعد وہاں سے روانہ ہوگے ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے والدین کو راضی رکھنے اور ہر جائز امر میں ان کی اطاعت کی توفیق مرحمت فرمائے۔ماں ایک قابل ِ اعتماد دوست ہے، ماں کا دِل اُس کی اولاد کے لئے کنواں ہے، جہاں وہ اپنی اولاد کا ہر راز دفن کر لیتی ہے۔ بچے کو زندگی کے ہر شعبے میں ہر وقت ایک سہارے کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ سہارا اللہ تعالیٰ کے بعد صرف ماں ہے۔ ماں ایک دُعا ہے، جو ہر وقت اللہ تعالیٰ کے آگے دامن پھیلائے رکھتی ہے، سربسجود ہو کر، کبھی ہاتھوں کو پھیلا کر، کبھی چلتے پھرتے، اُٹھتے بیٹھتے، ماں کی خاموشی میں بھی دُعا ہے، جو اُس کی اولاد کو ہر کٹھن اور مشکل وقت سے بچائے رکھتی ہے۔ ماں ایک گھنا سایہ ہے، جو چلچلاتی دھوپ میں اپنی اولاد کو اس کی تپش محسوس نہیں ہونے دیتا۔ سردی کے موسم میں ماں کی گود سردی کا احساس نہیں ہونے دیتی، وہ کانٹوں کی سیج پر رہتے ہوئے اپنے بچوں کو پھولوں کی طرح رکھتی ہے۔ ماں خاندان کا مرکز ہوتی ہے۔ ماں کے بغیر گھر قبرستان سے بھی زیادہ ویران ہے۔ میری ماں مجھے بہت اکیلا کر گئی ہیں، ماں کے چلے جانے کے بعد جو خلا زندگی میں آ گیا ہے، وہ کبھی پورا نہیں ہو سکتا۔ اماں جان آپ کی محبت، عظمت اور خلوص کو بہت بہت بہت سلام۔