ماں کی عظمت کو سلام حق نوائی

انجینئرمشتاق تعظیم کشمیری

اللہ بارک وتعالیٰ قران مجید میں سورۃ البقرہ میں ارشاد فرماتے ہیں’’اور یاد کرو جب ہم نے بنی اسرائیل سے پختہ وعدہ لیا تھا اس بات کا کہ عبادت نہ کرنا اللہ کے سوا کسی کی اور ماں باپ سے اچھا سلوک کرنا‘‘۔ اسی طرع قران کریم میں اور ایک آیت میں ارشاد فرماتے ہیں’’اور اللہ کی بندگی کرو اور اس کا شریک کسی کو نہ ٹھہرائو اور ماں باپ سے بھلائی کرو۔‘‘(سورۃالنساء)ماں کی عظمت کا درس پیارے نبیؐ نے جس طرح پڑھایا، اس کی مثال کہیں نہیں ملتی۔اس قیمتی درس کو آپ ؐکے چاہنے والے کس حد تک یاد رکھے ہیں، یہ تو آج کی مائیں زیادہ بہتر بتائیں گی۔
ماں،اللہ ربّ العزت کا ایک ایسا قیمتی تحفہ ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ کے بعد اپنی اولاد کے دلوں کا حال خود بخود جان جاتی ہے۔ ماں شفقت ، خلوص ، بے لوث محبت اور قربانی کا دوسرا نام ہے۔ ماں دْنیا کا وہ پیارا لفظ ہے جس کو سوچتے ہی ایک محبت ، ٹھنڈک ، پیار اور سکون کا احساس ہوتا ہے۔ اس کا سایہ ہمارے لئے ٹھنڈی چھائوں کی مانند ہے۔ چلچلاتی دھوپ میں اس کا دستِ شفقت شجرِسایہ دار کی طرح سائبان بن کر اولاد کو سکون کا احساس دلاتا ہے۔ اس کی گرم گود سردی کااحساس نہیں ہونے دیتی۔ خود بے شک کانٹوں پر چلتی رہے ، مگر اولاد کو ہمیشہ پھولوں کے بستر پرسْلاتی ہے اور دْنیا جہاں کے دکھوں کو اپنے آنچل میں سمیٹے لبوں پر مسکراہٹ سجائے رواں دواں رہتی ہے، اِس سے زیادہ محبت کرنے والی ہستی دْنیا میں پیدا نہیں ہوئی ،آندھی چلے یا طوفان آئے، اْس کی محبت میں کبھی کمی نہیں آتی اور نہ ہی ماں کبھی احسان جتاتی ہے اور نہ ہی اپنی محبتوں کا صلہ مانگتی ہے بلکہ بے غرض ہو کر اپنی محبت اولاد پر نچھاورکرتی رہتی ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ ماں کی محبت ایک بحر بیکراں کی طرح ہے۔ ماں کی بے پایاں محبت کو الفاظ میں نہیں پْرویا جا سکتا۔خلوص و ایثار کے اس سمندر کی حدود کا اندازہ لگانا ممکن نہیں ، ہر مذہب اور ہر تہذیب نے ماں کو عظیم اور مقدس قرار دیا ہے۔ ماں ایک دْعا ہے جو ہر وقت ربّ رحیم کے آگے دامن پھیلائے رکھتی ہے اور قدم قدم پر اْن کی حفاظت کرتی ہے۔ خْدا نے اس کے عظیم تر ہونے کی پہچان اس طرح کرائی کہ اس عظیم ہستی کے قدموں تلے جنت رکھ دیا۔اللہ رب العزت نے اس پاک ہستی کو یہ سوچ کر بنایا کہ جب انسان کو دنیا میں کہیں سکون کی دولت نہ ملے گی تو اپنی ماں کی آغوش میں آکر اپنی سوچوں ،آہوں اور دْکھوں کو نثار کرے گا اور ایسی راحت محسوس کرے گا جو اسے کہیں نہ ملی ہو گی۔
ماں جیسی ہستی اس کائنات میں اس کائنات کا ایک جز ہے یہ ہستی اپنے اندر ایک محبت کا سمندر لیئے ہوئے ہے۔اگر اولاد کو ذرا سا دْکھ میں دیکھا فوراً محبت کا سمندر ٹھاٹھیں مارنے لگا اور اس دکھ کو اپنی لہروں میں بہا کر محبت کا سکھ لے آئی اور پھر سے جینے کی کرن اْبھار دی۔ اگر تاریخ میں جھانکا جائے تو چاہے ماں جتنا ہی اولاد سے خفا ہو، مگر دل سے نہیں ہوتی مگر مجھے تو اس ہستی کے ڈانٹ میں بھی محبت کا اظہار نظر آتا ہے۔
خوش نصیب ہیں وہ جن کی ماں زندہ ہے میرا ایمان ہے کہ کبھی ماں کسی کو دل سے بدعا نہیں دیتی اور اگر کسی نے اس ہستی کو دکھ دیا اور وہ ناراض ہو گئی تو سمجھ لو کہ دنیا سے بھی وہ شخص نامراد گیا اور آخرت میں بھی نامراد رہا۔اس لیے اس ہستی کا مقام اس کائنات سے بھی بڑا ہے اور محبت کی انتہا بھی اسی ہستی میں ہی ہے۔ ماںکے بغیر اس دنیا میں کچھ بھی نہیںہے۔ ماںکائنات میںانسانیت کی سب سے قیمتی متاع اور عظیم سرمایہ ہے۔ اسلام میںاولاد کی پوری زندگی ماں کے تقدس، اس کی عظمت کے اظہار اور خدمت واطاعت کے لیے مخصوص ہے۔ اس کے لئے کسی دن کو مخصوص کرنا اس کی روح کے منافی ہے۔ اسلام میںہر سال ، ہر مہینہ ، ہر دن اور ہر لمحہ ماں کی خدمت اور اطاعت کے لئے وقف ہے۔‘‘مقصود کائناتؐ نے فرمایا’’ماں کے قدموں تلے جنت ہے‘‘۔اللہ تعالیٰ ہمیں ماں باپ کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
موبائل۔7006105720
(مضمون میں ظاہر کی گئی آراء مضمون نگار کی خالصتاً اپنی ہیں اور انہیں کسی بھی طور کشمیر عظمیٰ سے منسوب نہیں کیاجاناچاہئے۔)