ماڈل ولیج بدھن کا پرائمری ہیلتھ سنٹر برائے نام

گول//ضلع ریاسی کے پسماندہ علاقہ بدھن کے پرائمری ہیلتھ سنٹر میں بنیادی سہولیات کے فقدان اور ملازمین کی غفلت شعاری کی وجہ سے عام لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پررہا ہے ۔مقامی لوگوں کے مطابق 2002میں یہاںپر ایک پی ایچ سی کا قیام عمل میں لایا گیا لیکن آج تک نہ ہی یہاں سے عوام کو کوئی سہولیات میسر ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی عملہ تعینات ہے جبکہ ایک عمارت برائے نام رکھی گئی ہے ۔تالا بند سینٹر کی حالت نہایت ہی ابتر ہے اور یہ ایک ایسی عمارت سرکار نے کھڑی کر رکھی ہے جس سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہے اور نہ ہی کوئی سائن بورڈ یہاں پر لگا ہے جس سے یہ پہنچان ہوتی کہ طبی سینٹر ہے۔ چھوٹی سی بیماری کی خاطر یہاں سے لوگوں کو ریاسی یا گول کا رُخ کرنا پڑتا ہے ۔یہاں پر مقامی لوگوں نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ سرکار صحت محکمہ کو موثر بنانے کے بڑے بڑے دعوے کرتی ہے لیکن زمینی سطح پر کچھ نہیں ہے ۔ یہاں 2002میں قائم کی گئی پی ایچ سی میں ابھی تک بنیادی سہولیات بھی میسر نہیں ہے اور لوگوں کو یہاں اس سینٹر سے کوئی فائدہ نہیں ہے ۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہاں پر کاغذوں میں تمام کچھ دستیاب ہے یہاں تک ایمبولینس بھی لیکن زمینی سطح پر کچھ موجود نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہاں ایک فارمسیسٹ اور ایک چپراسی تعینات ہیں لیکن وہ بھی مرضی سے ڈیوٹی آتے ہیں اکثر یہ سینٹر بند رہتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ علاقہ پچھڑا ہوا ہے اور نمائندوں نے بھی علاقے کو نظر انداز کیا ہے ۔ مقامی لوگوں نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ افسوس کا مقام ہے کہ اس علاقے کو ماڈل ولیج کا درجہ بھی دیا گیا ہے اور کروڑوں روپے خزانہ عامرہ سے نکالا گیا لیکن اگر دیکھا جائے تو کام کچھ بھی نہیں ہوا ہے علاقے میں ابھی بھی وہی پرانی سڑکیں موجود ہیں اور باقی جو چیزیں ماڈل ولیج میں ہوتی ہیں وہ بھی نہیں ہیں ۔ انہوں نے گورنر انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ علاقے کے مسائل کی طرف توجہ دی جائے اور طبی سینٹر میں بنیادی سہولیات بہم پہنچایا جائے ساتھ ساتھ ماڈل ولیج میں جو بے ضابطگیاں ہوئی ہیں ان کی تحقیقات کرائی جائے تو کہ علاقے کے غریب لوگوں کے ساتھ انصاف ہو سکے۔