مانسون اجلاس صحت کو بنیادی حق قرار دینے پر حزب اقتدار اور اپوزیشن کے درمیان اختلافات

نئی دہلی//یو این آئی// راجیہ سبھا میں کل حکمراں پارٹی کے ارکان نے کہا کہ ملک میں صحت کے حق کے بغیر لوگوں کو صحت کی مکمل مناسب سہولتیں فراہم کی جارہی ہیں اور چیچک، پولیو، کالی کھانسی جیسی سنگین بیماریوں کا قہر ختم ہوچکا ہے ۔ کھانسی اور جاپانی بخار ختم ہو گیا ہے ۔جبکہ اپوزیشن ارکان نے صحت کو بنیادی حق قرار دیتے ہوئے صحت مند شہری کو ملک کی ترقی کے لیے ضروری قرار دینے کا مطالبہ کیا۔بھارتیہ جنتا پارٹی کے ڈاکٹر رادھا موہن داس اگروال نے جمعہ کو ایوان میں راشٹریہ جنتا دل کے پروفیسر منوج جھا کے ذاتی بل 2021 پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ ملک میں صحت کے حق کے بغیر چیچک، پولیو، کالی کھانسی اور جاپانی بخار وغیرہ جیسی خطرناک بیماریوں کی وباء ختم ہو چکی ہے اور ملک میں شہریوں کو صحت کی مناسب سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ آیوشمان اسکیم کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک بڑی آبادی کو مفت علاج کی سہولیات مل رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ امریکہ، جرمنی، جاپان، چین اور اسرائیل جیسے بڑے ممالک بھی اپنے شہریوں کو صحت کا حق دینے سے قاصر ہیں۔ کورونا وبا کے دوران امریکہ اور برازیل جیسے ممالک میں اموات کے بڑے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کے مقابلے ہندوستان میں بہت کم لوگ مرے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں 94 فیصد خواتین کی ادارہ جاتی ڈیلیوری ہوتی ہے اور انہیں صحت کی مناسب سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی صورتحال میں صحت کے بنیادی افسر کی ضرورت نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اتنی بڑی آبادی کو یہ حق دینا بھی عملا ممکن نہیں ہے ۔

 

بل کی حمایت کرتے ہوئے ترنمول کانگریس کے جواہر سرکار نے کہا کہ ملک میں صحت پر جی ڈی پی کا صرف ایک سے 1.5 فیصد خرچ کیا جاتا ہے ، جو کہ کم ہے ۔ کورونا ویکسینیشن میں ملک کی کامیابی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب ہمارا ملک اتنا بڑا کام کر سکتا ہے تو صحت کو بھی بنیادی حق بنا سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ صحت کو بنیادی حق بنانے کے معاملے کو کسی مرکزی یا ریاستی موضوع کی الجھن میں الجھنے کے بجائے اسے قومی مقصد بنا کر پورا کیا جانا چاہیے ۔ اس سے ملک کی بین الاقوامی ذمہ داری بھی پوری ہوتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اسے اپنا بل سمجھ کر اس پر عملدرآمد کرے ۔بی جے پی کے ڈاکٹر انیل اگروال نے کہا کہ مودی حکومت کے تحت ملک میں صحت کے بنیادی ڈھانچے اور سہولیات میں اضافہ ہوا ہے اور ہر شہری کو صحت کی مناسب سہولیات فراہم کی جارہی ہیں، اس لیے ضروری نہیں کہ صحت کو بنیادی حق بنایا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ آیوشمان بھارت اسکیم کی وجہ سے بڑی آبادی کو مناسب طبی سہولیات مفت مل رہی ہیں۔بل کی حمایت کرتے ہوئے کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے سنتوش پی کمار نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت بھی صحت کو تمام شہریوں کا بنیادی حق بنانے کے حق میں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں صحت کی سہولتیں تباہ ہو چکی ہیں اس لیے ہیلتھ پالیسی پر نظرثانی کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے صحت سے متعلق توہمات کو ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔