مالی نظم وضبط اور متوازن اخراجات | محکموں کو کارکردگی متاثر کئے بنا کفایت شعاری یقینی بنانے کی تلقین

سرینگر// حکومت نے جموں کشمیر میںسرکار کی آپریشنل کارکردگی کو محدود کیے بغیر مالیاتی نظم و ضبط کو فروغ دینے اور اخراجات کی متوازن رفتار کو یقینی بنانے کے لیے، تمام سرکاری محکموں اور خود مختار اداروں کو حکومت کی طرف سے مالی امداد فراہم کرنے کے لیے معیشت اور کفایت شعاری کے اقدامات پر عمل کرنے کا حکم دیا جبکہ انتظامی سیکریٹریوں کو ان اقدمات پر عمل آواری کو یقینی بنانے کی تاکید کی گئی۔ محکمہ خزانہ کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری( فائنانشل کمشنر فائنانس) اتل ڈھلو کی جانب سے منگل کو جاری حکم نامہ میں ان اقدمات کی نشاندہی کی گئی جس سے مالیاتی نظم و ضبط کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔ حکم نامہ میں کہا گیا ہے،’’رواں مالی سال کی آخری سہ ماہی کے دوران اخراجات کو مختص بجٹ کے 30 فیصد تک محدود رکھا جائے اور مارچ کے مہینے میں اخراجات کو بجٹ کے تخمینے کے 15 فیصد تک محدود رکھا جائے۔‘‘ آرڈر میں مزید کہا گیا ہے کہ موجودہ مالی سال کے آخری مہینے میں، ادائیگی صرف  پہلے سے کیے گئے اخراجات کی ادائیگی کے لیے کی جائے۔اتل ڈھلو کی طرف سے جاری حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ ٹھیکیداروں کو پیشگی ادائیگیاں درست طریقے سے انجام پانے والے معاہدوں کی شرائط کے تحت کریں تاکہ حکومت اپنی قانونی یا معاہدہ کی ذمہ داریوں سے دورنہ آئے۔ حکم نامہ کے مطابق’’موجودہ مالی سال کے آخری مہینے کے دوران خریداری پر اخراجات کی جلدی سے گریز کیا جانا چاہئے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ تمام طریقہ کار کی تعمیل کی گئی ہے اور کوئی بے کار یا فضول خرچ نہیں ہے جبکہ ڈائریکٹر فنانس ومالیاتی مشیرکو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے متعلقہ محکموں میں اس پہلو کی خصوصی نگرانی کریں۔‘‘آرڈر  میں کہا گیا ہے کہ آپریشنل ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کنڈم شدہ گاڑیوں کے متبادل طور پر نئی گاڑیوں کی خریداری کی اجازت ہے۔سفر کے بارے میں کہا گیا ہے کہ سفری اخراجات کا ضابطہ عمل میں لایا جانا چاہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ ہر محکمہ مختص بجٹ کے حددومیں رہے۔ آرڈر کے مطابق’’ بین الاقوامی سفر کی اجازت نہیں دی جائے گی جب تک کہ ملک کے اندر محکمہ خزانہ کی طرف سے مخصوص اجازت نہ دی جائے، افسران کو صرف اکانومی کلاس کے ذریعے سفر کرنا  ہوگا، قطع نظر اس کے کہ اسکا کوئی بھی استحقاق ہو۔‘‘ مزید کہا گیا ہے کہ ویڈیو کانفرنسنگ کی سہولت کو بروئے کار لایا جاسکتا ہے اور میٹنگوں میں شرکت کے مقصد کے لیے سفر سے حتی الامکان گریز کیا جانا چاہیے۔ حکم نامہ کے مطابق سرکاری عشائیہ اور ظہرانے کے انعقاد پر مکمل پابندی ہوگی، سوائے ان کے جو چیف سکریٹری اور لیفٹیننٹ گورنر کی طرف سے یا لیفٹیننٹ گورنر کی مخصوص منظوری سے ہو۔حکم نامہ کے مطابق’’انتظامی سیکرٹری ان اقدامات کی تعمیل کو یقینی بنانے کے ذمہ دار ہوں گے جبکہ ڈائریکٹر فنانس ومالیاتی مشیر متعلقہ محکموں کی ان اقدامات کی تعمیل میں مدد کریں گے اور محکمہ خزانہ کو مجموعی رپورٹ بھی پیش کریں گے‘‘۔