مالی میزانیہ

وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے مختلف قسم کی قیاس آرائیوں کے بیچ مالی سال2022-23کیلئے مالی میزانیہ پیش کیا۔اگلے سال کا بجٹ پیش کرتے ہوئے نرملا سیتا رمن نے کہا کہ یہ عام بجٹ اگلے برسوں کے لئے ہندوستان کی معیشت کی بنیاد تیار کرے گا اور معیشت کا بلیو پرنٹ دے گاجسکے ذریعے ہندوستان آزادی کے 75 سال سے 100 سال تک کا سفر طے کرے گا۔انہوںنے کہا کہ جاریہ سال میں بھارت کا شرح نمو 9.2فیصد رہے گا جو پوری دنیا میں سب سے زیادہ شرح نمو ہوگا ۔وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ بجٹ کومجموعی بہبود کے مقاصد کے ساتھ تیار کیا گیا ہے، جس میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور غریبوں کے استعداد کار میں اضافہ کرنے کا بھرپور خیال رکھاگیا ہے ۔ گوکہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے بجٹ تجاویز پر ملا جلا ردعمل سامنے آرہا ہے اور اپوزیشن جماعتوں نے حسب روایت بجٹ کا مایوس کن قرار دیا ہے تاہم عام آدمی سے لیکر کارپورٹ سیکٹر سے وابستہ سبھی لوگوں نے بجٹ کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے عوا م دوست بجٹ قرار دیا ہے کیونکہ جہاں صنعتی سیکٹرکیلئے بجٹ میں بھرپور رعایات موجود ہیں وہیں عام آدمی پر بھی اضافی ٹیکسوں کا کوئی نیا بوجھ نہیں ڈالا گیا ہے جبکہ ملازم پیشہ طبقہ کیلئے بھی سب سے بڑی ٹیکس رعایت دی گئی ہے جس کے نتیجہ میں ریاستوں کے ملازمین تنخواہوںکے اعتبار سے اپنے مرکزی ملازمین کے ہم پلہ ہونگے۔ چمڑا، کپڑا ، زراعتی سامان، پیکیجنگ باکس، موبائل فون چارجرز ، کیمرہ ماڈیول اور جیمس اینڈ جیولری سستے ہوں گے۔ جواہرات اور زیورات پر کسٹم ڈیوٹی کو کم کر کے 5 فیصد کر دیا گیا ہے۔ کٹے ہوئے اور پالش شدہ ہیروں پر کسٹم ڈیوٹی بھی کم کر کے 5 فیصد کر دی گئی ہے ۔چھوٹی اور درمیانہ درجہ کی صنعتوں کو مدد فراہم کرنے کیلئے سٹیل کے سکریپ پر کسٹم ڈیوٹی کی چھوٹ کو ایک سال کے لئے بڑھا دیا گیا ہے۔ مینتھا آئل پر کسٹم ڈیوٹی کم کر دی گئی۔ گھریلو مینوفیکچرنگ کی حوصلہ افزائی کے لئے موبائل فون چارجرز، ٹرانسفارمرز وغیرہ پر کسٹم ڈیوٹی میں چھوٹ دی گئی ہے۔کچھ چیزوں پر درآمدی ڈیوٹی بڑھانے سے یقینی طور پر ان کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا تاہم ایسی چیزوں کا تعلق قطعی عام آدمی سے نہیںہے اور اسے اگر ذرا سا اثر پڑے گا بھی تو وہ صاحب ثروت لوگوں پر ہی پڑے گا جن کا قوت خرید پہلے ہی بہت اچھا ہے ۔ایسے میں شاید ہی ان پر کوئی منفی اثر پڑے گا تاہم عام آدمی کا جہاں تک تعلق ہے تو ان کیلئے بجٹ میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کو عوام دشمن قرار دیا جاسکتا ہے ۔عوامی فلاحی سکیموںکی اگر بات کی جائے تو جل جیون مشن سے لیکر سماجی بہبود سکیموں اور زراعت سے لیکر تعلیم اور صحت تک سبھی شعبوں کو بجٹ تخمینوں کو کچھ اس طرح سے پیش کیاگیا ہے کہ عام آدمی کا بھلا ہو۔اسی طرح سڑکوں اور شاہراہوں کی توسیع سے لیکر ریلوے نیٹ ور ک کی وسعت کاری کے ضمن میں جو اعلانات کئے گئے ہیں ،اُن سے یقینی طور پر نقل و حمل اور آمدورفت آسان ہوجائے گی جس سے ترقی کا سفر آسان ہوجائے گا۔اسی طرح بجٹ میں اقلیتوں کا بھی بھرپور خیال رکھاگیا ہے اور اقلیتوں کی فلاح وبہود کیلئے الگ سے بجٹ میں5ہزار سے زائد کروڑ دستیاب رکھے گئے ہیں تاکہ اقلیتی طبقہ کیلئے مخصوص سکیموں کی عمل آوری میں رقوم کی کمی یا عدم دستیابی کسی بھی طرح آڑے نہ آئے ۔
جہاں تک جموں وکشمیر کی بات ہے تو اگر چہ جموںوکشمیر کا اپنا علیحدہ بجٹ ابھی پارلیمنٹ میں پیش ہونا باقی ہے اور اس میں جموںوکشمیر کیلئے مکمل مالی میزانیہ پیش ہوگا تاہم موجودہ عام بجٹ میںبھی جموںوکشمیر کو چھوڑا نہیں گیا ہے اور اس بجٹ میں بھی جموںوکشمیر کیلئے35581کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیںجس میں سے 33923کروڑ روپے یوٹی کے ریونیو خسارے/وسائل کے فرق کو پورا کرنے کے لئے مختص کیے گئے ہیں جبکہ یوٹی کے ڈیزاسٹر رسپانس فنڈ کے طور پر 279کروڑ روپے ،ڈل ونگین جھیلوں کی بحالی کیلئے 273 کروڑ روپے، 130کروڑ روپے اور 476.44کروڑ روپے گرانٹ 624میگاواٹ کیرو کے لئے ایکویٹی کا حصہ اور اثاثوں کی تشکیل پر ہونے والے اخراجات کے لئے 500کروڑ روپے مختص رکھے گئے ہیں۔اس بات سے انکار کی قطعی گنجائش نہیں کہ جموںوکشمیر کا بجٹ ہمیشہ خسارے سے دوچار رہا ہے اور یہاں ریونیو خسارہ ہمیشہ بلندیوںپر رہا ہے کیونکہ آمدنی کے ذرائع محدود ہیںا ور محصولات اتنے کم ہیں کہ ہم اپنے اخراجات خود برداشت نہیں کرپاتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ جموںوکشمیر کی حکومتوں نے ہمیشہ اپنے اخراجات پورا کرنے کیلئے مرکزی سرکار پر اکتفا کیا اور ہمیشہ ریونیو خسارہ اور وسائل کے درمیان تفاوت کو دور کرنے کیلئے مرکز ی امدا دکی ضرورت پڑی ہے ۔آج اگر چہ ابھی جموںوکشمیر کا اپنا بجٹ آنا باقی ہے تاہم جس طر ح عام بجٹ میں ہی جموں وکشمیر کے ریونیو خسارہ کو پاٹنے کیلئے 33923کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں،اُس سے واضح ہوجاتا ہے کہ مرکزی حکومت کو جموںوکشمیر کی مالی حالت کا بخوبی ادراک ہے اور وہ جموںوکشمیر کی معیشت کو سہارا دینے میں بخل سے کا م نہیں لے رہی ہے ۔یہ الگ بات ہے کہ جموںوکشمیر کے عوام کی کچھ زیادہ ہی امیدیں اس بجٹ سے وابستہ تھیں اور انہیں لگ رہا تھا کہ اُن کی تقدیر سازی کیلئے کچھ اہم اعلانات ہونگے تاہم ایسا کچھ نہیںہوا لیکن اس کے باوجود جس طرح ساڑھے 35ہزار کروڑ روپے کی گرانٹس دستیاب رکھے گئے ہیں ،اُس سے یقینی طو ر پر جموںوکشمیر کی معیشت کو سہارا ملے گا اور جموںوکشمیر کے بجٹ پر اضافی بوجھ نہیں پڑے گا ۔امید کی جاسکتی ہے کہ اب عام بجٹ کی طرح ہی جموںوکشمیر کا علیحدہ بجٹ بھی عوام دوست ہی ہوگا اور عوام کی مکمل راحت رسانی کا بندو بست کیاجائے گا۔