مالی سال 2023-24؛سکمز انتظامیہ کو بے اختیار کرنے کا نتیجہ ۔ 33کروڑ خرچ نہیں کئے جاسکے،کینسر انسٹی ٹیوٹ نظر انداز، میٹرنٹی سینٹرمیں ایک پیسہ بھی خرچ نہیں کیا گیا

 پرویز احمد

سرینگر //شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز صورہ میں سال 2023-24کے ابتدائی 8ماہ میںصرف1کروڑ 38لاکھ روپے صرف ہوئے ہیں جبکہ انتظامی طوالت کی بنا پر 33کروڑ 42لاکھ روپے خرچ نہیں کئے جاسکے ہیں۔شعبہ نیوکلیئر میڈیسن میں 61.7لاکھ، انجینئرنگ بلاک میں 20لاکھ روپے، کینسر سینٹر پر 30کروڑ 97لاکھ روپے، میٹرنٹی سینٹر پر ایک روپیہ بھی نہیں جبکہ ڈٖرگ اینڈ فارمیسی سینٹر میں 42.07کروڑ روپے صرف کرنا باقی ہے۔ سکمز صورہ کی جانب سے فراہم کی گئی جانکاری میں بتایا گیا ہے کہ سال 2023-24کیلئے شعبہ نیوکلیئر میڈیسن کیلئے 1کروڑ 75لاکھ روپے کا بجٹ آیا تھا جن میں ابتدائی 8ماہ کے دوران 1کروڑ 13لاکھ روپے سے زائد کی رقم صرف ہوچکی جبکہ 61لاکھ 70ہزار روپے صرف کرنا ابھی باقی ہے۔ سکمز کے انجینئر بلاک کیلئے 2کروڑ روپے کا بجٹ آیا تھا جس میں 1کروڑ 82لاکھ روپے صرف ہوچکے اور 20لاکھ روپے ابھی صرف کرنا باقی ہے۔ سکمز کے سب سے انتہائی اہم ادارے ریجنل کینسر انسٹی ٹیوٹ کیلئے 31کروڑ 14لاکھ روپے کا بجٹ آیا ہے جس میں سے صرف 16لاکھ 14ہزار روپے صرف ہوئے ہیں جبکہ 30کروڑ 97لاکھ روپے صرف کرنا باقی ہے۔ سکمز کی پرانی بلڈنگ میں قائم سکمز میٹرنٹی سینٹر کیلئے 1کروڑ 41لاکھ روپے کا بجٹ آیا لیکن اس میںسے ایک پائی بھی خرچ نہیں ہوئی ہے۔سکمز کے ڈرگ اینڈ فارمیسی کیلئے 49کروڑ روپے کا بجٹ آیا لیکن 42کروڑ 7لاکھ روپے صرف نہیں کئے جاسکے۔ سکمز ذرائع نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ سکمز انتظامیہ کے پاس اختیارات نہ ہونے کی وجہ سے رقوم صرف نہیں ہوئے ہیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ اسی طرح سال 2022-23کے دوران بھی 38کروڑ 88لاکھ روپے صرف نہیں ہوئے تھے جن میں نیوکلیئر میڈیسن میں 20لاکھ 6ہزار، کینسر انسٹی ٹیوٹ میں 31کروڑ 13لاکھ، میٹرنیٹی سینٹر میں 3کروڑ 52لاکھ اور نرسنگ کالج پر صرف ہونے والے 2کروڑسے زائد کی رقم بھی تصرف میں نہیں لائی گئی۔ سکمز کا شعبہ ڈرگ اینڈ فارمیسی بھی پچھلے سال 4کروڑ 5لاکھ روپے صرف کرنے میں ناکام رہا تھا ۔