مالیگاﺅں 2008 بم دھماکہ کیس: تین بھگوا ملزمین مقدمہ سے ڈسچارج، کرنل پروہت اور سادھوی پرگیہ سے مکوکا ہٹایا گیا

 ممبئی// بالآخیر وہی ہوا جس کا ڈر مالیگا¶ں 2008 بم دھماکوں کے متاثرین سمیت ہندوستان کے کروڑوں انصاف پسند عوام کو لگا ہوا تھا – قومی تفتیشی ایجنسی NIAکی تازہ تحقیقات کی بنیاد پر خصوصی سیشن عدالت نے بھگوا ملزمین شیو نارائن کالسانگرا، شیام لال شاہو اور پروین ٹکلی کو مقدمہ سے ڈسچارج کردیا نیز ملزمین پر سے مکوکا قانون کو بھی ہٹا لیا گیا ، حالانکہ مہاراشٹر انسداد دہشت گرد دستہ ATSنے ان ملزمین کے خلاف پختہ ثبوت وشواہد آنجہانی ہیمنت کرکرے کی سربراہی میں اکھٹا کئے تھے لیکن عدالت نے اسے ماننے سے انکار کرتے ہوئے اپنا فیصلہ سنایا۔ممبئی کی خصوصی این آئی اے مکوکا عدالت کے جج ایس ڈی ٹیکولے نے متذکرہ ملزمین کوایک جانب جہاں راحت دی وہیں اس معاملے کے کلیدی ملزمین سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکر کرنل پروہیت سمیت دیگر ملزمین کے خلاف یو اے پی اے اور دیگر قانون کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ چلائے جانے کے احکامات جاری کئے ۔ملزمین پرگیا سنگھ ٹھاکر، رمیش اپادھیائے ، سمیر کلکرنی، کرنل پروہیت، سدھاکر دویدی اور راکیش دھا¶ڑے کے خلاف یو اے پی اے ، آرمس ایکٹ، تعزیرات ہند اور دیگر قوانین کے تحت مقدمہ قائم کیا گیا ہے اور اب کے خلاف باقاعدہ مقدمہ کا آغاز کیا جائے گا۔آج کی عدالتی کارروائی کے بعد متاثرین کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیة علماءمہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے ممبئی میں اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے این آئی اے کی تفتیش کی بنیاد پر فیصلہ صادر کیا ہے لہذا ریاستی حکومت کو بم دھماکوں کے متاثرین کا خیال رکھتے ہوئے نچلی عدالت کے فیصلہ کو ممبئی ہائی کورٹ میں چیلنج کرنا چاہئے جس طرح اس نے مالیگا¶ں 2006 بم دھماکہ معاملہ میں کیا ہے ….گلزار اعظمی نے کہا کہ مرکز اور ریاست میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد سے ہی مالیگا¶ں 2008بم دھماکہ معاملے کے ملزمین کو راحتیں حاصل ہونا شروع ہوگئیں تھیں جو اس بات کی جانب اشارہ کرتی ہیں کہ ایک منصوبہ بند ایجنڈے کے تحت ان بم دھماکہ معاملے کی تفتیش این آئی اے سے کرائی گئی تاکہ بھگوا ملزمین کو راحت حاصل ہوسکے ۔گلزار اعظمی نے کہا کہ جمعیة علماءنے بھگواءملزمین کی ضمانت عرضداشتوں اور ڈسچارج کی نچلی عدالت سے لیکر سپریم کورٹ تک مخالفت کی ہے جس کاخاطر خواہ نتیجہ بھی حاصل ہوا ہے ورنہ ریاستی حکومت نے تو ملزمین کے خلاف عدالت میں بولنا ہی بند کردیا ہے ۔گلزار اعظمی نے کہا کہ وہ سینئر وکلاءسے صلاح ومشورہ کرنے کے بعد مقدمہ سے ڈسچارج کئے گئے ملزمین کے خلاف ہائی کورٹ سے رجوع ہونے کے تعلق سے لائحہ عمل تیار کریں گے نیز بم دھماکوں کے متاثرین کو انصاف دلانے میں جمعیة علماءحسب سابق میدان میں ڈٹے رہے گی۔اس موقع پر ایڈوکیٹ شاہد ندیم نے کہا کہ حالانکہ عدالت نے سپریم کورٹ کے فیصلہ کی روشنی میں ملزمین پر سے مکوکا قانون ہٹا دیا لیکن یہ اطمنان بخش ہیکہ ملزمین پر یو اے پی اے قانون کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا جو مکوکا قانون سے کسی بھی طرح سے کم نہیں ہے بشرط کہ استغاثہ ایمانداری سے اپنی ذمہ داری نبھائے اورسرکاری گواہان کو تحفظ فراہم کرکے عدالت میں ان کی گواہی کو ان کے ذریعہ دیئے گئے بیانات کے مطابق درج کرانے میں کامیاب ہوجائے ۔واضح رہے کہ 29 ستمبر 2008 کو ہونے والے اس سلسلہ واربم دھماکہ معاملے میں ۶ مسلم نوجوان شہید جبکہ سیکڑوں زخمی ہوئے تھے ، مقدمہ کی ابتدائی تفتیش انسداد دہشت گرد دستہ (اے ٹی ایس) نے آنجہانی ہیمنت کرکرے کی سربراہی میں کی تھی اور پہلی بار بھگوا دہشت گردی پر پڑے پردے کو بے نقاب کیا تھا لیکن مرکز میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت بننے کے بعد سے اس معاملے کی بلا وجہ تازہ تحقیقات کرنے والی قومی تفتیشی ایجنسی NIA نے بھگوا ملزمین کو فائدہ پہنچانے کا کام شروع کردیا اور اضافی فرد جرم داخل کرتے ہوئے سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکر سمیت دیگر بھگوا ملزمین کو راحت پہنچائی تھی جس کی تصدیق آج خصوصی عدالت نے بھی کردی ۔یو این آئی۔