مالوہ بارہمولہ میں گھمسان کی جھڑپ| سرکردہ کمانڈر سمیت 3ملی ٹینٹ جاں بحق

فیاض بخاری +مشتاق الحسن
بارہمولہ+ٹنگمرگ // مالوہ نیو کالونی کنزر ٹنگمرگ میں گھمسان کی جھڑپ کے دوران جمعرات کی رات تک لشکر طیبہ کا سرکاری کمانڈر سمیت 2ملی ٹینٹ جاں بحق جبکہ ایک فوجی افسر سمیت 4فوجی، ایک پولیس کانسٹیبل اور ایک شہری زخمی ہوئے۔مقامی لوگوں کے مطابق جھڑپ کے دوران کئی رہائشی مکان تباہ ہوئے۔پولیس کے مطابق یوسف کانٹرو کی ہلاکت ایک بہت بڑی کامیابی ہے جو ٹاپ 10 انتہائی مطلوب ملی ٹینٹوں کی فہرست میں شامل تھا۔

انکوانٹر کیسے ہوا؟

پولیس کا کہنا ہے کہ بڈگام پولیس کے ذریعہ تیار کردہ مخصوص معلومات پر عمل کرتے ہوئے، بڈگام پولیس کی ایک خصوصی ٹیم نے62آر آر اور 176بٹالین سی آر پی ایف کے ساتھ مل کر بارہمولہ کے مالوہ علاقے میں صبح کے 4بجے ایک مشترکہ محاصرے اور تلاشی کی کارروائی شروع کی۔ سرچ آپریشن کے دوران جب مشترکہ سرچ پارٹی مشتبہ مقام پر پہنچی تو ملی ٹینٹوں نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کردی جس میں ایک افسر سمیت چار (4) فوجی معمولی زخمی ہوئے۔ فورسز نے موثر جوابی کارروائی کی جس کے نتیجے میں تصادم ہوا۔ بعد ازاں ایس ایس پی بارہمولہ کی سربراہی میں بارہمولہ پولیس بھی آپریشن میں شامل ہوئی۔ بارہمولہ ضلع کا ایک پولیس اہلکار مشتاق احمدبھی انکاؤنٹر میں زخمی ہوا جسے بعد میں سری نگر کے آرمی بیس اسپتال منتقل کیا گیا۔ فائرنگ کے تبادلے میں ایک شہری بھی زخمی ہوا۔اس کے بعد ہونے والے تصادم میں، اب تک ایل ای ٹی کے 3ملی ٹینٹ جاں بحق ہوئے جن میں انتہائی مطلوب کمانڈر یوسف کانٹرو بھی شامل ہے۔ جو سب سے زیادہ عرصے تک زندہ رہنے والے ملی ٹینٹوں میں سے ایک تھا، ان کی لاشیں انکاؤنٹر کے مقام سے برآمد کی گئیں۔ یوسف کانٹرو نے پہلے حز ب تنظیم کے OGW کے طور پر شمولیت اختیار کی تھی اور اسے سال 2005 میں گرفتار کیا گیا تھا، بعد میں اسے سال 2008 میں رہا کیا گیا لیکن اس نے پھر سال 2017 میں  ملی ٹینسی میں شمولیت اختیار کی اور معصوم شہریوں، پولیس اہلکاروں اور سیاسی کارکنوں کو قتل کرنا شروع کر دیا۔ بعد میں وہ حزب سے لشکر طیبہ میں شامل ہوا۔پولیس ریکارڈ کے مطابق مارے گئے ملی ٹینٹ درجہ بندی میں تھے اور جرائم کے متعدد واقعات میں ملوث تھے جن میں پولیس/ایس ایف پر حملوں اور شہریوں پر مظالم شامل ہیں۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ یوسف کانٹرو 26مارچ 2022کو ایس پی او محمد اشفاق ڈار اور اس کے بھائی عمر احمد ڈار ساکن چٹہ بگ بڈگام کے قتل سمیت درجنوں شہری مظالم اور SFs اہلکاروں کے قتل میں ملوث تھا۔ 23مارچ 2022 کو BDC چیئرمین سردار بھوپندر سنگھ کا کھاگ میںقتل۔ نٹی پورہ چھانہ پورہ سرینگر میں این سی بلاک کے صدر کا قتل، 2121مارچ 2022کو غوطہ پورہ بڈگام کے تجمل محی الدین ڈار کا قتل، ناربل میں تنویر اور لاوے پورہ کے گلزار احمد کا قتل۔ ورہامہ میں ورہامہ کے رہائشی نذیر احمد ڈار (محکمہ صحت کا ملازم) کا قتل، پٹن کے سرپنچ منظور احمد کا قتل۔ اس کے علاوہ وہ گرینیڈ پھینکنے کے واقعات، پولیس اور SF اہلکاروں کے اغوا اور قتل میں بھی ملوث تھا جس میں CRPF اہلکاروں کے قتل سمیت HC ریاض احمد راتھر ساکن نوگام اننت ناگ، کنیہ ہامہ میں 2017میں گرینیڈ پھینک کر، اغوا اور قتل میں ملوث تھا۔ کانسٹیبل محمد اشرف راتھر @ اشفاق ساکن ارچندرہامہ ماگام، آرمی اہلکار محمد سمیر ملہ ساکن لوکی پورہ کھاگ کا اغوا اور قتل، پیٹھ زنیگام میں ایک مقابلے کے دوران ایس پی او محمد الطاف کا قتل، ایک سابق ایس پی او کی ہلاکت نصیر احمد خان ساکن بچی پورہ کاووسہ خالصہ۔ مزید یہ کہ وہ J-13 جواہر نگر راج باغ میں مقننہ مظفر پرے کی رہائش گاہ سے 4 اے کے رائفلیں چھیننے میں بھی ملوث تھا۔ مزید برآں، ان کی ہدایت پر ابرار ندیم  نے لاوے پورہ سری نگر میں سی آر پی ایف پر حملہ کیا جس میں سی آر پی ایف کے 3 اہلکار ہلاک ہوئے۔اس کے علاوہ وہ  نوجوانوں کو بھرتی کرنے میں بھی ملوث تھا جس میں آری پنتھ ماگام کے فیصل حفیظ ڈار کو بھرتی کرنا بھی شامل تھا۔انکاؤنٹر کے مقام سے مجرمانہ مواد، اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا۔ برآمد ہونے والے تمام سامان کو مزید تفتیش کے لیے کیس ریکارڈ میں لے لیا گیا ہے۔ مزید 2ملی ٹینٹ تاحال محاصرے میں ہیں اور فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔ اس کے مطابق مزید معلومات شیئر کی جائیں گی۔

 

 

۔22سال تک ملی ٹینسی کیساتھ سے منسلک تھا:آئی جی 

سرینگر// کنزر کے مضافاتی گائوں میں مہلوک ملی ٹینٹ کمانڈر محمد یوسف کانٹرو وادی میںسب سے طویل عرصے تک زیادہ زندہ رہنے والا جنگجوتھا۔آئی جی پی کشمیر وجے کمار نے بتایا، “محمد یوسف کانٹرو اس سے قبل متعدد بار محاصرے اور گولیوں کے تبادلے کے دوران فرار ہو گیا تھا”۔انہوں نے کہا کہ کانٹرو متعدد مقدمات میں ملوث تھا اور وہ وادی میں سب سے زیادہ عرصے تک زندہ رہنے والے عسکریت پسندوں میں سے ایک تھا۔ وہ شمالی کشمیر کے بارہمولہ کے ساتھ وسطی کشمیر کے بڈگام اور سرینگر اضلاع میں سرگرم تھا۔