ماضی کے سائے تلے

آج بہت دنوں بعد ثریا نے قلم کو اپنے ہاتھ میں لے لیا اوربڑے انہماک سے ایک نئی کہانی لکھنے میں مصروف ہوگئی ،اُس کی قلم میں ایسی روانی دکھ رہی ہے کہ آج  اس کو روک پانا قدرے ناممکن سا لگ رہا ہے۔نہ رُکنے کا نام لیتی ہے اور نہ تھکنے کا ۔۔اُدھر موسم بھی پُر مست تھا اور  لگ بگ ثُریا  کی تحریر کے مترادف بھی!!!! رِم جِم برستی ساون کی ہر ایک بوند ثُریا  کی تحریر میں ساز و سنطور کا کام کررہی تھی۔ وہ اس  پُرشباب سماں میں اپنی تحریر کے زیرو بم کو سجانے میں ایسی مست تھی کہ آج اسے خود بھی نہیں معلوم کہ یہ روانی آئی تو کہاں سے؟؟؟؟’’ شائد خالقِ کائنات کی نظریں آج اُس پر ہی جمی ہیں ‘‘!!!!سوچتے ہوئے ثُریا اپنا قلم چلاتی رہی۔
 ابھی ثُریا کی کہانی ادھوری ہی تھی کہ اچانک  باہر سے آ رہی ایک درد بھری  چیخ نے اُس کو اپنی اور راغب کرلیا۔ اُس کے  ہاتھ سے قلم ایسے گِر پڑا جیسے کہ  پت جڑ میں درختوں سے گرتے پتے۔۔۔کھڑی ہوکر ثُریا کھڑکی سے جھانکتے ہوئے ا س درد بھری آواز کو کھوجنے لگی۔ وہ ایسی بیقرار ہوئی جیسے کہ کوئی اُس کے جگر کو کرید رہا ہو  ۔سامنے والی گلی کی اور جونہی نظر پڑی تو ثُریا کے جسم میں بے حسی سی طاری ہو گئی۔ لوگوں کو زرینہ کے گھر کی اور دوڑتے ہوئے جاتے دیکھ کر اس کے من میں ڈراونے سے خیالات آنے لگے۔ایسے خیا لات جنہوں نے ثُریا کی کہانی کے سبھی کرداروں کو قتل کرکے رکھ دیاتھا۔ اُس کے الفاظ کو چُرایا تھا اوراُس کے اندازِ تحریر میں جنگ چھیڑدی تھی۔ ان خیالوں نے ثُریا کو بے قابو کرلیا اور وہ ھی  بھیگتی ہوئی بھاگی بھاگی ، بارش میں زرینہ کے گھر کی اور چلی۔۔۔۔
زرینہ کے گھر کی بغل سے بہتی ہوئی ندی  کے کنارے لوگوں کے ایک بڑے ہجوم کو دیکھ کر ثُریا کے ڈراونے خیالات میں اضافہ ہوگیا۔ اُس کے ہاتھ پیر بے جان ہوگئے۔ بوجھل قدموں سے وہ  بھیڑ سے آگے نکلتی گئی۔ ایک زور دار چیخ کے ساتھ ہی ثُریا کی زبان کوجیسے لقوہ مار گیا اور وہ آسمان کو تکتے زمین پر آپٹخی۔۔۔۔
اُدھر زرینہ کی چیخ و پکار آسمان کو چھو رہی ہے ۔اُس کی سُرمئی آنکھوں سے بہتے آنسوں بارش کی بوندوں میں ضم ہوتے ہوئے زرینہ کے گالوں کی گلابی کو نچوڑرہے ہیں۔  اس کی بانہوں میںعباس کا خون سے لت پت جسم  ساون میں بھی سرما  کا احساس دلا رہا ہے۔ وہاں جمع لوگوں کے خلیوں میں ٹھنڈ پڑ گئی ہے اور اُن کی سوچ بے جان سی ہوئی ہے۔ساون کی گٹھاوئوں میں اور سیاہی چھا گئی۔بارش کی رفتار ایسی گویا آسمان بھی خونِ ناحق پر رو رہا ہو۔ ہر سمت ہُو کا عالم ہے۔۔۔
لوگ  زرینہ کو تسلی دینا چاہتے ہیں ۔ ایک ایسی تسلی جس میں حرارت ہی نہیں ۔ جس میں اُن سارے لوگوں کی بے بسی واضح جھلک رہی ہے۔  اُن کے چہرے افسردہ ہیں۔ وہ ایک دوسرے سے اس افسردگی کا اظہار کر رہے ہیں۔ حالات نے اُن کے جسم پہ بے حسی طاری کی ہے۔اُن کو اپنی ذرابھی فکر نہیں۔ اُن کا بے جان جسم تیز بارشوں کو بھی محسوس نہیں کر پاتا۔اُن کوبجلی کڑکنے کا بھی ڈر نہیں ۔ وہ تیز آندھیوں میں بے جاں درختوں کی مانند کھڑے ہیں ۔ اُن پہ تو ایک بجلی گری ہے ۔ وہ ان آندھیوں سے ڈریں بھی تو کیوں ڈریں۔۔۔
سبحان چاچا اپنی ریشم جیسی داڑھی سے بارش کا پانی صاف کرتے ہوئے۔۔۔۔
’’ ارے پریم ناتھ!! نا جانے یہ خون خرابہ کب ختم ہوگا۔ کب ہمارے گھر اُجڑنے سے بچے گیں ۔کب ہماری بستیوں میں سکوں آجائے گا۔ میری تو اب روشنی ہی چلی گئی ہے۔۔ آنکھوں کی۔۔۔۔‘‘
ایک لمبی سانس لیتے ہوئے ۔۔۔۔
 ہاں بھائی سبحان، پریم ناتھ اپنی عینک ، جس کی ایک ڈنڈی  ناخیز ہوئی تھی اور سفید دھاگے سے بندھی تھی ،کو بارش کے پانی سے صاف کرتے ہوئے اُس کے خراش زدہ شیشوں کو تسلی دیتے ہوئے۔۔ 
’’ میں بھی یہ سب دیکھ کے زندگی سے تنگ آیا ہوں ۔ ہم تو چلو پچاس ساٹھ سال جیئے ہی ہیں لیکن ہمارے بچے۔۔یہ نوجوان۔دکھی آنکھوں سے پنڈت جی عباس کی اور اشارہ کرتے ہوئے۔۔یہ گلاب پھلنے سے پہلے ہی مُرجھا جاتے ہیں۔۔۔میں تو یہ سب دیکھ کے اب تھک گیا ہوں ۔ میںبھی مرنا چاہتا ہوں اب۔۔۔ اب مجھ سے یہ سب نہیں دکھ پاتا۔۔۔’’ہاں خونِ ناحق!فرشتوں کا خون۔۔ہائے بھگوان تو اپنا ہی کرم کر ہم سب پر ‘‘کہتے ہوئے پریم ناتھ نے اپنی آنکھوں کو آسمان کی اور اُٹھا لیااور اپنے بے بس آنسوئوں کو چُھپاتا رہا۔۔۔
پریم ناتھ ایک مزاحیہ فطرت کا انسان تھا۔ میں نے آج سے پہلے اُس کو کبھی بھی  مایوس نہیں دیکھا تھا۔ ہر محفل میں اُس کے چمکیلے دانت اُس کی مایوسیوں کو چھُپاتے رہتے ۔ لیکن آج کے سانحہ نے  پریم ناتھ کے  فنِ طنز و مزاح کے ہر زاوئیے کو ٹیڑھا کر رکھا تھا۔  اُس کے  سرخ ہونٹوں پر نیلا پن چھایا ہوا تھا اور زبان گلے کے ریگستانوں میں پانی کو ترستی تھی۔ اُس کی سوچ عرشِ اولیٰ کی وادیوں میں خالقِ کائینات کو ڈھونڈ رہی تھی۔ شاید یہ سنانے کی تاک میں ۔۔۔کہ تو نے یہ دنیا بنائی ہی کیوں ؟ وہ اِن وادیوں میں ہمیشہ کے لئے کھونے والا ہی تھا کہ سبحان چاچا نے اُس کی سوچ کے دروازے کو کھٹکھٹایا ۔۔۔
’’ہاں پریم ناتھ یہ سب دیکھ کے کس کو جینے کی چاہ ہوگی۔ میرا تو جگر چھلنی ہو رہا ہے۔ میرا تو من کرتا ہے کہ میں اپنا سینا چاک کر دوں اور اس بارش کے پانی سے اپنے دل کے ہر کونے کو دھو ڈالوں ، تاکہ میں ایک ابدی نیند سو سکوں اور ان مصیبتوں سے چھُٹکارا مل سکے۔ اس طرح میری یہ بنجر آنکھیں کسی اور گُلِ لالہ کو مُرجھا تے ہوئے دیکھنے سے بچ جائیں۔۔۔‘‘ کہتے ہوئے سبحان چاچا اپنا سینہ پیٹتا رہا ۔۔۔
عباس کی آنکھیں زرینہ کی آنکھوں کو تک رہی تھیں۔ وہ اُن گھنے اَبرو کے جنگل کے سائے  تلے چشموں کو سوکھتا ہوا نہیں دیکھ پاتا ۔۔۔ وہ اُن انگوری ہونٹوں پہ خزاں کی روش کو برداشت نہیں کر سکتا ۔۔۔ زرینہ کا وہ گلابی چہرہ جس نے کالج کے دنوں میں شائد ہی کسی کو فریفتہ نا کیا ہو۔۔۔عباس کی تو بات ہی نہیں ۔عباس بھی کچھ کم نہ تھا،لیکن بچپن میں ہی اپنے ابا کا سایہ سرسے اُٹھ جانے کی  وجہ سے حالات کی بے درد ہوائوں نے اُس کی دنیا میں طوفان برپا کردیاتھا۔۔ہاںٓ ایک ایسا طوفان جو ابھی تھما ہی نہیں۔۔۔
وہ زرینہ سے یہ کہنے کی کوشش میں ہے کہ’’ میں تمہیں چھوڑ نا نہیں چاہتا۔۔۔ہاں۔۔زرینہ۔۔۔ میں تم سے الگ نہیں ہونا چاہتا۔۔۔بڑی مشکل سے میری دنیا بسی تھی۔۔۔میرے خوابوں کا محل ابھی ادھورا ہی ہے۔۔۔میں ابھی جینا چاہتا ہوں ، میں تمیں اس بے درد دنیا کے سہارے نہیں چھوڑ سکتا ‘‘ 
لیکن یہ سب خیالی تھا اُس کے پنجرے کا پرندہ اُڑ چکا تھا۔۔۔ہاں اُس نے ایک ابدی اُڑان بھری تھی۔۔۔ایک ایسی  پرواز جہاں سے واپسی محال ہی نہیں نا ممکن تھی۔۔۔
عباس پیشے سے ایک ڈاکٹر تھا۔ لوگوں کی خدمت کرنا وہ عبادت سے زیادہ اہم سمجھتا تھا۔ دن ہو یا رات وہ بلا ججھک کسی کی آواز پر بھی اُٹھ کھڑا ہوتا۔ آج رات آخری پہر میں بھی کسی نے اُس کو علاج کی خاطر بلایا تھا ۔  وہ بھی حسب معمول اُٹھ گیا۔ لیکن اُٹھتے اُٹھتے اُس نے زرینہ کے شعلہ نما چہرے ، جس پر اُس کے گیسئو ں کے ناگ عباس کو اپنی اور کھینچ رہے تھے، کی اور ایک الگ انداز میں نظر ڈالی!!! شاید وہ اٹھنا نہیں چاہتا تھا !!لیکن تبھی اُس کے ضمیر نے عباس پر سے اُن گیسوں کا جادو ئی بندھن کاٹ ڈالا اور اُسے اپنا فرضِ منصبی یاد دلایا ۔۔۔ہاں  وہ نکل پڑا۔۔اپنا فرض نبھانے۔۔۔اپنا قرض ادا کرنے۔۔۔
صبح کی ہلکی ہلکی کرنوں نے زرینہ کی مست نیند کو آخر توڑ ہی ڈالا۔۔  وہ ابھی سونا چاہتی تھی لیکن عباس کو بستر میں نا پاکر وہ بے قرار ہو گئی۔کچھ وقت تک وہ ساون کی ہوائوں کا مزا لیتی رہی اور کچھ دیر بعد یہ مستی مصیبت میں بدل گئی۔۔۔ وہ اب زار و قطار رو رہی ہے۔۔۔ اُس کا دل یہ ماننے کو تیار ہی نہیں کہ لوگوں کی خدمت کرنے والا کسی کا دشمن بھی ہو سکتا ہے۔ وہ چیختی رہی، چلاتی رہی ۔۔وہ اپنے شوہر کا قصور جاننا چاہتی ہے۔۔۔وہ اپنے ہمسفر کے قاتل کو جاننا چاہتی ہے۔۔۔وہ اُس سے بدلہ نہیں لے گی۔۔۔ہاں ہر گز  نہیں ۔۔۔وہ تو صرف عباس کا قصور جاننا چاہتی ہے۔۔۔اپنی پسند کو پرکھنا چاہتی ہے۔۔۔اُس کی پسند کھری نہیں ہوسکتی۔۔۔۔’’ میری پسند کھوٹی نہیں ہو سکتی۔۔ میرا عباس ۔۔۔میرا ہمراز کسی کو تکلیف نہیں پہنچا سکتا۔۔۔کس بے رحم نے میرا گھر اُجاڑا ہے؟؟؟سبحان چاچا !!!مجھے بھی عباس کے ساتھ ہی بھیج دو۔۔۔ میں نہیں رہ سکتی۔۔۔میں نہیں رہوں گی۔۔۔ہاں نہیں رہوں گی۔۔۔عباس کے بنا‘‘ چلاتے ہوئے زرینہ کا سر عباس کے سینے پہ آ پڑا اور اُس کے کھُلے بالوں نے اُن تمام زخموں پر پردہ ڈال دیا جو کسی بے رحم بندوق نے عباس کے معصوم جسم پر دئے تھے۔۔۔۔
ابھی زرینہ کا دل عباس کی موت کو حقیقت سمجھنے سے قاصر ہی تھا کہ عباس کی ماں ہاجرہ حرکتِ قلب بند ہونے سے دم توڑ بیٹھی۔ہاجرہ عباس کے جسم پر ایک خراش تک بھی برداشت نہیں کرتی تھی۔۔۔ کرتی بھی کیسے۔۔۔اُس کو بچپن سے اکیلے جو پالا تھا۔۔۔ عباس کے ابا کی بے وقت موت نے ہاجرہ کو اکیلا چھوڑدیا تھا۔۔۔اُس نے اپنی خواہشوں کو قربان کیا تھا!! تب جا کے۔۔۔ہاں تب جاکے عباس ڈاکٹری پڑھ پایا تھا۔۔۔ زرینہ اب بے بس ہوگئی۔ اپنا دکھڑا سنانے کی خاطر اب کوئی بچا ہی نہیں۔ ۔۔
بہت دفعہ زرینہ بھی اپنے مردہ جسم کو بھسم کرنے کے لئے تیار ہو گئی تھی لیکن کوکھ میں پل رہی عباس کی نشانی اور ثُریا کے دلاسے نے اُسے آج تک زندہ رکھا۔ہاں ہاں ثُریا۔۔۔ثُریاجو کہ عباس اور زرینہ کے محبت کی واحد شاہد تھی۔۔۔
  تین مہینے چودہ دن کے لمبے انتظار کے بعد زرینہ نے ایک پھول جیسے بچے کو جنم دیا۔ نرس نے مسکراتے مسکراتے بچے کو  زرینہ کے بغل میں رکھتے ہوئے ان الفاظ سے مبارکبادی دی:
’’ بالکل ڈاکٹر صاحب کی شکل پر گیا ہے۔ناک تو بالکل۔۔۔‘‘ کہتے ہوئے نرس کی آنکھوں سے جذبات کا سمندر امڈ آیا اور وہ  دوسرے مریض کا ملاحظہ کرنے کے بہانے وہاں سے چلی گئی۔۔۔شائد اپنے آنسئوں کو چھُپانے کی خاطر۔۔۔
نرس کی باتوں سے زرینہ نا جانے کن خیالوں میں گُم ہو گئی اور اُس کی آنکھوں سے آنسئوں کے ریلے نکلنے لگے۔یہ تو ثُریا تھی جس کی وجہ سے وہ اُس نو زائد فرشتے کو دودھ پلا پائی۔ نہیں تو عباس۔۔۔عباس کی یادوں میں کچھ سُن پانا اُس کے لئے مُحال ہی تھا۔۔۔
اب زرینہ کو جینے کی وجہ مل گئی۔۔۔  مصیبتوں کے کالے بادلوں کے بعد خوشیوں کی کرنوں کا گذر زرینہ کے آنگن بھی ہونے لگا۔۔۔ وہ اب اسد کی بیساکھی کے سہارے اپنی سانسیں لے رہی ہیں۔  وہ جوان ہے۔۔۔ جسمانی لحاظ سے !!!لیکن آج اس کے چہرے پر سجے شعلوں میں حرارت ہی نہیں ۔ اُس کے گیسئو ں کی مقناطیسی قوت اب پہلے جیسی نہیں رہی ۔۔۔اُس کی نیندوں کی وہ مستی عباس کے پرندے کے ساتھ ہی اُڑی تھی۔۔۔لیکن وہ آج بھی جوان ہے۔۔۔ہاں جوان۔۔۔لیکن اُس کی جوانی بے سود ۔۔۔یہ جوانی کبھی بھی اب عباس کے سایے کومحسوس نہیں کر پائے گی۔اس میں اگر اب جذبات بچے بھی ہیں تو صرف اور صرف اسد کے لئے۔۔۔ہاں اسد کے لئے۔۔۔جو عباس کی آخری نشانی بھی ہے اور زرینہ کی پہچان بھی۔۔۔ہاں ایک ایسی پہچان جِسے وہ کھونا نہیں چاہتی۔۔۔وہ اُس کے لئے ایک سایہ ہے ۔۔۔ایک ایسا سایہ جس کی چھائوں تلے زرینہ کو اب اپنی ساری عمر بتانی ہے۔وہ اُس کے خوابوں کی تعبیر ہے۔۔۔اُن خوابوں کی جن کو زرینہ اور عباس نے کالج کے دنوں سے ہی پالا تھا۔۔ہاں وہ زرینہ کے لئے عباس کی محبت ہے۔۔۔نہیں نہیں !!!وہ تو عباس ہی ہے۔۔۔نہیں !! وہ تو اُسکا مستقبل ہے۔۔۔اُس کی بچی دنیا۔۔۔
زرینہ اپنا خون پسینہ ایک کر کے اسد کی پرورش میں لگی رہی۔۔وہ اپنی جوانی اب اسد پہ ہی لُٹاتی رہی۔سرکار نے اُس کو عباس کے عوض اب ایک چھوٹی ملازمت بھی دی ہے۔ ہاں عباس کے بدلے۔۔۔ایک نوکری بھی!!!اُس کی معصوم  جوانی کے بدلے۔۔۔اُس کے خدمتِ خلق کے جذبے کے بدلے!!!لیکن زرینہ کو آج تک عباس کے قاتلوں کا پتا نہیں۔۔۔وہ تو آزاد پھِر رہے ہوں گے۔۔۔ہاں زرینہ کی جوانی اور جذبات کو ضبط کرکے۔۔۔وہ تو آزاد ہونگے۔۔۔ہاں آزاد ۔۔۔عباس اور زرینہ کے خوابوں کو قید کرکے۔۔۔اُنہیں کون سزا دے پائے گا؟؟؟رات کا اندھیرا تو اُن کا ساتھی ہے۔۔۔ہاں کالی رات کا سایہ تو اُن کی کرتوتوں پر پردہ ڈالے ہوئے ہے۔۔۔وہ تو نامعلوم ہیں ۔۔۔ہاں نا معلوم۔۔۔اُن کو کوئی جانتا ہی نہیں۔۔۔ہاں کوئی نہیں۔۔۔۔سرکار بھی نہیں۔۔۔ ہاںشائد خالقِ کائنات بھی۔۔۔۔!!
اسد کی بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ زرینہ کی فکر بھی اب بڑھتی گئی ۔ کبھی کبھی تو ثریا کے گھر جاکے گھنٹوں باتیں کرکے اپنے من کا بوجھ ہلکا کردیتی ہے۔ توکبھی بہتی ندی کے کنارے بیٹھ کے پانی کی نالی میں پھنسے گھاس پھوس کوصاف کرتی ۔۔ اپنے شوہر کے بغیر ایک ایک لمحہ کیسے گذر رہا ہے اس کے سوا کون جانتا۔
 وقت گذرتا گیا اسد نے بارہویں جماعت بھی پاس کرلی۔ اگلے ہی ہفتے مزید تعلیم کے لئے اسد کو شہر بیجھنے کی تیاری ہوئی۔ ۔زرینہ کے لیے یہ مشکل ضرور تھا لیکن ثریا  کے مشورے اور  اسد کی سلامتی کی خاطر اسے یہ سب برداشت کرنا پڑا ۔ اسد کے بغیر تو اب زرینہ بالکل اکیلی ہوگئی ۔ ہاں اپنا اکیلا پن دور کرنے کے لیے ثریا سے پہروں باتیں کرکے خود کو ہلکا محسوس کررتی ہے۔۔۔اور روز ندی کے کنارے جا کر عباس کے سائے کا دیدار کرتی ۔۔۔ 
 اگلی شکر وار سے اب سرمائی تعطیلات کا بھی اعلان ہوا ۔ زرینہ کو اب اسد کا بے صبری سے انتظار ہے۔اُس نے اسد کے لئے کئی ساری ترکاریاں بنانے کا بھی اعادہ کیا ہے۔ وہ خوشی سے جھوم رہی ہے۔ ہاں وہ دیوانی ہوئی ہے ۔۔وہ ثریا کو زور زور سے بلا رہی ہے ۔ وہ اس سے اپنی بے چینی کا اظہار کرنا چاہتی ہے۔ ایسی بے چینی جس کو وہ بہت وقت سے سہہ رہی ہے۔ وہ اس سے کہنا چاہتی ہے کہ اب اس کی بے چینی ختم ہونے والی ہے۔ وہ اپنی خوشی کا اظہار کررہی ہے ۔۔ ثُریا کے ساتھ۔۔۔ہاں اپنی ہمراز کے ساتھ۔۔۔
زرینہ جمعرات کو صبح سویرے اُٹھ گئی۔ اُس نے آج  اسد کے لئے اُس کی من پسند ترکاریاں بنانی تھیں۔ صبح کی چائے جلدی جلدی پی کر اب اخبار پڑھنا شروع کیا، اخبار کے دوسرے صفحے پر اسد کا فوٹو چھپا  دیکھ کر زرینہ آپے سے باہر ہوگئی  وہ زور زور سے چلانے لگی۔ وہ اپنا سر پیٹتی رہی۔۔۔لیکن آج اُس کے پاس اُس کو سنبھالنے والا کوئی نہ تھا۔۔ہاں ثُریا بھی۔۔۔وہ شائد ابھی سوئی ہی تھی۔
 اخبار میں چھپے فوٹو کے نیچے بڑے الفاظ میں لکھا تھاکہ
’’  نا معلوم افراد نے شہر خاص میں دو طلباء کا قتل کیا‘‘
اور یوں ندی کے کنارے ڈوبتے پتوں کے ساتھ ساتھ زرینہ کے ارمان بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بہہ گئے۔اب  زرینہ کے گیسو چمکتے نہیں ہیں۔ اُس کے چہرے کے شعلوں کو ندی کا ٹھنڈا پانی یخ کرچکا ہے اور وہ پریشان بال لئے اپنی دنیا کو ندی کے کنارے تلاش رہی ہے۔۔۔ہاں ندی کے کنارے۔۔۔ ماضی کے سائے تلے!!!
���
برنٹی اننت ناگ کشمیر، [email protected]