ماضی کی الیکشن بائیکاٹ سیاست عوام کو بے اختیار بنایا ،تعمیرو ترقی کا عمل متاثر کیا:الطاف بخاری

نیوز ڈیسک

سرینگر// اپنی پارٹی صدر سید الطاف بخاری نے کہا ہے کہ جموں کشمیر کی روایتی سیاسی جماعتوں نے ہمیشہ اپنے نجی اور سیاسی مفادات کے حصول کے لئے تقسیم کرو، حکومت کرو کی پالیسی اپنائی ۔ بخاری جمعہ کو پٹن تحصیل کے اگر علاقے میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کررہے تھے۔ الطاف بخاری نے کہا، یہاں کے لوگ امن و سلامتی ، تعمیر و ترقی اور خوشحالی چاہتے ہیں، تاہم جن سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں کو ماضی میں آپ لوگوں نے اپنی نمائندگی کرنے کیلئے چنا، انہوں نے ہمیشہ اپنے سیاسی مفادات کی خاطر آپ کے ووٹ کا استحصال کیا ہے۔ یہ سیاست دان ہمیشہ تقسیم کرو اور حکومت کرو کی پالیسی پر گامزن رہے ہیں۔ یہاں تک کہ ان سیاسی جماعتوں نے انتخابات میں اپنے لوگوں کا انتخاب یقینی بنانے کے لئے انتخابی بائیکاٹ کرایا تاکہ عام لوگ اپنے آزادانہ حق رائے دہی کا استعمال نہ کرسکیں۔

 

لیکن اپنی پارٹی اس طرح کی سیاسی چالبازیوں میں یقین نہیں رکھتی ۔ روایتی سیاسی جماعتوں کے برعکس ہم لوگوں کو مذہب، فرقوں، نسل اور جغرافیائی حدود میں بانٹ کر انہیں تقسیم در تقسیم کرنے کی سیاست سے ناواقف نہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ آنے والے اسمبلی انتخابات میں آپ آزادانہ طور پر اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کریں۔عوام کو کسی الیکشن بائیکاٹ کی کال پر توجہ نہ دینے کی تلقین کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماضی کی انتخابی بائیکاٹ کی سیاست نے عوام کو بے اختیار بنایا اور وادی میں تعمیر و ترقی کے عمل میں رکاوٹ ڈال دی ہے۔انہوں نے کہا، ہم ایک ایسے جمہوری نظام میں رہ رہے ہیں، جس میں لوگوں کو امیدواروں کو منتخب کرنے یا مسترد کرنے کا اختیار ہے۔ اس لئے اب کی بار آپ کو بہت سوچ سمجھ کر اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کرنا چاہیے۔ ایک جانب آپ کے پاس روایتی سیاسی جماعتیں ہیں، جو ہمیشہ آپ کو دھوکہ دیتی آئی ہیں اور دوسری جانب آپ کے پاس اپنی پارٹی ہے جو ایک واضح ایجنڈے کے ساتھ حکومت میں اور جمہوری اداروں میں آپ کی نمائندگی کرسکتی ہے۔ اپنی پارٹی کا ایجنڈا بالکل واضح ہے۔ ہم جموں کشمیر میں امن، خوشحالی اور ترقی چاہتے ہیں اور ساتھ ہی یہاں کے عوام کو سیاسی اور معاشی لحاظ سے بااختیار دیکھنا چاہتے ہیں۔

 

اپنی پارٹی کے صدر نے یہ بات دہرائی کہ روایتی سیاسی جماعتوں نے اپنے سیاسی مفادات ہمیشہ کشمیری نوجوانوں کو ناقابلِ حصول اہداف اور جذباتی نعروں کی طرف راغب کیا، جس کے نتیجے میں ہمارے لاتعداد نوجوان نصیب میں قبرستان یا جیلیں آگئیں۔ انہوں نے کہا، ناقابلِ حصول اہداف کو متعارف کراکے روایتی سیاسی جماعتوں نے عوام کو بے حد نقصان پہنچایا ۔