ماسکو میں راجناتھ سنگھ کی چینی ہم منصب کیساتھ اہم میٹنگ

نئی دہلی+ماسکو// لداخ میں حقیقی کنٹرول لائن پر کشیدہ صورتحال کے بیچ ماسکو میں شنگائی کانفرنس کے موقعہ پر وزیر دفاع راجناتھ سنگھ اور چینی وزیر دفاع کے درمیان بات چیت ہوئی ہے جبکہ لداخ میں سرحدی صورتحال میں ٹھہرائو لانے کیلئے چوتھے روز بھی بریگیڈ کمانڈر سطح کے مذاکرات ہوئے۔ چین کے وزیر دفاع نے ماسکو میں شنگائی کانفرنس کے موقعہ پر راجناتھ سنگھ کیساتھ بات چیت کی خواہش کا اظہار کیا تھا اور اس ضمن میں بھارت کے وزارت خارجہ کو باضابطہ طور پر مطلع کیا گیا تھا۔جمعہ کی شام ماسکو میں دونوں ملکوں کے وزراء دفاع کی وفود کیساتھ میٹنگ منعقد ہوئی جس میں لداخ کی صورتحال پر تفصیل کیساتھ تبادلہ خیال کیا گیا۔بتایا جاتا ہے کہ راجناتھ سنگھ نے چینی ہم منصب کو باور کرایا کہ لداخ میں کسی طرح کی مہم جوئی قابل قبول نہیں ہے حالانکہ بھارت اس طرھ کے کوئی عزائم نہیں رکھتا بلکہ پہلے طے شدہ معاہدوں کی روشنی میں ہی باعث نزاع معاملات حل کرنا کا خواہاں ہے۔میٹنگ مثبت ماحول میں منعقد ہوئی اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ لداخ کی صورتحال کو ٹھیک کیا جائے۔ادھر پیگانگ جھیل میں پیدا ہوئی صورتحال کے بعد چوتھے روز بھی چشول کے مقام پر دونوں ملکوں کے درمیان بریگیڈ کمانڈر سطح کی بات چیت جاری رہی۔پچھلے چار روز کے دوران ہوئی میٹنگوں میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی اور جمعہ کو ایک بار پھر صبح 11بجے سے دوپہر بعد 2بجے تک بات چیت کی گئی۔البتہ چوتھے روز کی میٹنگ میں ہوئی پیش رفت کے بارے میں کوئی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔ادھر لداخ سرحد پر عینات آئی ٹی بی پی کے ڈائریکٹر جنرل نے حقیقی کنٹرول لائن کا دورہ کیا اور اس دوران 290اہلکاروں کو چین کیکلاف بہادری دکھانے پر انہیں تمغات سے نوازا۔
 
 
 
 

فوجی سربراہ کا لیہہ کا دورہ اختتام پذیر |   فوج کو چوکسی اور آپریشنل تیاری کی ہدایت

یو این آئی

لیہہ// فوجی سربراہ جنرل ایم ایم ناروانے نے جمعہ کو لیہہ کے دو روزہ دورے کو سمیٹے ہوئے چین کے ساتھ لگنے والی حقیقی کنٹرول لائن پر تعینات فوجیوں سے کہا کہ وہ چوکسی اور آپریشنل تیاری برقرار رکھیں۔ ایک دفاعی ترجمان نے فوجی سربراہ کے دورے کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا: 'جنرل ایم ایم ناروانے کا لیہہ میں دورہ روزہ جمعے کو اختتام پذیر ہوا ہے۔ موصوف 3 ستمبر کو یہاں پہنچے اور حقیقی کنٹرول لائن کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے فارورڈ علاقوں کے دورے پر نکلے'۔انہوں نے کہا: 'فوجی سربراہ نے انتہائی اونچائی پر تعینات فوجی جوانوں اور مقامی کمانڈروں کے ساتھ بات چیت کی۔ اپنی علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لئے جانفشانی کے ساتھ کام کرنے والے ان فوجیوں کو شاباشی دی۔ نیز تمام فوجیوں سے کہا کہ وہ چوکسی اور آپریشنل تیاری برقرار رکھیں'۔ دفاعی ترجمان کے مطابق فوج کی شمالی کمان کے جی او سی لیفٹیننٹ جنرل وائی کے جوشی اور لیہہ میں قائم فائر اینڈ فیوری کور کے جی او سی لیفٹیننٹ جنرل ہریندر سنگھ نے فوجی سربراہ کو آپریشنل تیاریوں اور موسم سرما کے دوران استعمال کی جانے والی چیزوں کی سٹاکنگ کے بارے میں بریفنگ دی۔واضح رہے کہ 29 اور 30 اگست کو بھارت اور چین کی افواج کے درمیان مشرقی لداخ میں پینگانگ جھیل کے نزدیک مبینہ طور پر ایک بار پھر چھڑپ ہوئی تھی۔