ماسکاور بھیڑ بھاڑ سے بچائو لازمی : ڈائریکٹر سکمز

A view of Sher-I-Kashmir Institute of Medical Sciences (SKIMS) at Soura in Srinagar on Saturday. Excelsior/ Mohd Amin War With Farhat Story

پرویزاحمد

سرینگر // جموں و کشمیر میں بھی پچھلے2 ہفتوں سے اومیکرون کی نئی ہیتوں XBB.1.16 اورXBB.1.15کی وجہ سے کورونا معاملات میں اضافہ ہوا ہے اور گذشتہ23دنوں کے دوران 1164 افراد وائرس سے متاثر ہوئے ہیں جبکہ 3افراد کی جان گئی ہے۔ وادی میں متعدی بیماریوں کے ماہرین کا کہنا ہے کہ نیا وائرس اومیکرون کی ہی ایک نئی ہیت ہے اور اس لئے متاثرین میں اُمیکرون جیسے ہی علامات پائے جاتے ہیں۔ میڈیکل سائنسز صورہ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر پرویز کول کہتے ہیں کہ ٹیسٹوں کی شرح بڑھے گی تو زیادہ کیس سامنے آئیں گے جو ایک معمول کی بات ہے۔ انہوں نے کہا ’’ اومیکرون کے جن ہیتوں کی وجہ سے کیسوں میں اضافہ ہورہا ہے ، یہ زیادہ جارحانہ نہیں ہیںکیونکہ اس سے متاثر ہونے والے افراد کے اسپتالوں میں داخلہ کی شرح کافی کم ہے۔‘‘ ڈاکٹرکول نے بتایا کہ لوگوں کو صرف احتیاط برتنے کی ضرورت ہے اور بلاوجہ اسپتالوں کے چکر کاٹنے سے پرہیز کرنا ہے۔ڈاکٹر کول نے بتایا کہ جو اومیکرون کی نئی ہیت سے متاثر ہورہے ہیں ، یہ جلد صحت یاب ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نئی ہیت کی علامتوں میں بخار، کھانسی، گلے میں خراش، بہتی ناک، جسمانی تھکاوٹ،پٹھوں میں درد اور دست شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ماسک، سماجی دوری اور دیگر سرگرمیوں کے دوران لوگوں کو احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔