مارتنڈ مٹن اننت ناگ میں پنڈتوں کا ’ میلہ | سینکڑوں کشمیری پنڈتوں کی شرکت، مسلمانوں کا بھر پور استقبال

عظمیٰ نیوز سروس

سرینگر //جموں و کشمیر میں اتوار کو سینکڑوں کشمیری پنڈتوں نے بنمس میلے کے ایک حصے کے طور پر “پنڈ دان” کرنے کے لیے یہاں مارٹنڈ سورج مندر کا دورہ کیا اور اپنے مرحوم آبا اجداد کی روح کے لیے سکون کی دعا کی۔میلہ کی انتظامی کمیٹی کے صدر اشوک سدھا نے کہا کہ وہ مقامی مسلمانوں اور اننت ناگ ضلع انتظامیہ کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے اس تقریب کے انعقاد کے لیے مکمل تعاون کیا۔سدھا نے کہا”میں مقامی لوگوں کا شکر گزار ہوں، مسلمان بھائیوں نے ہمارا ساتھ دیا، میں پچھلے چار سالوں سے اس میں مصروف ہوں اور میں مسلم کمیونٹی کا شکر گزار ہوں، میں ضلع انتظامیہ کا بھی شکر گزار ہوں۔انہوں نے کہا کہ کشمیری ہندو برادری بھی ہر سال مندر میں کرشنا جھولا مناتی ہے، اس دوران مسلم برادری دل سے حمایت کرتی ہے۔انہوں نے کہا”ہم کرشنا جھولا بھی مناتے ہیں اور مسلم کمیونٹی بھی اس تہوار کی بھرپور حمایت کرتی ہے،وہ یہاں پھل تقسیم کرتے ہیں،یہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور امن کی ایک مثال ہے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ یہ تہوار ہر تین سال بعد منایا جاتا ہے لیکن انہوں نے 1990 کے بعد اتنا رش نہیں دیکھا۔سدھا نے مزید کہا”ہم یہ ہر تین سال بعد مناتے ہیں، لیکن میں نے 1990 کے بعد سے اتنے لوگوں کو یہاں آتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا، ہم نے ایک گھاٹ (پوجا کے لیے)قائم کیا ہے اور عقیدت مندوں کے لیے بیت الخلا کی سہولیات بھی تعمیر کی ہیں،” ۔، انہوں نے کہا’’میناکشی، ان عقیدت مندوں میں سے ایک تھی، جنہوں نے “پنڈ دان” پیش کیا،نے کہاہم اپنے آبا اجداد کے لیے پنڈ دان کرتے ہیں تاکہ ان کی روحوں کو برکت ملے۔ مقامی لوگ اچھے ہیں، ہمارے ان کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔ایک بزرگ کشمیری پنڈت جواہر لال پنڈتا نے کہا کہ “مقامی لوگوں نے اقلیتی برادری کے ساتھ تعاون کیا ہے”۔مٹن کے ایک مقامی مسلمان نے کہا کہ جنوبی کشمیر کا قصبہ “امن اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا گڑھ رہا ہے اور رہے گا۔