مادہ روسی سفیدوں کی کٹائی کئی اضلاع میں کارروائی کا آغاز

سرینگر // کورونا وائرس کے بڑھتے خدشات کے پیش نظر مادہ روسی سفیدوں کی کٹائی کیلئے عدالتوں نے اپنے تیور سخت کر دئے ہیں متعلقہ محکمہ جات کے علاوہ لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے پانچ سو میٹر کے دائرے میں آنے والے درختوں کو کاٹ دیں اور احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف ضابطہ کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی ۔سوگام کپوارہ کے ایگزیکٹیومجسٹریٹ نے ایک نوٹس جاری کیا ہے جس میں انہوں نے تمام محکمہ جات سمیت لوگوں کو اپنے اپنے حدود میں مادہ روسی سفیدوں کی کٹائی کا حکم صادر کیا ہے۔ ایگزیکٹیو مجسٹریٹ درجہ اول دمحال ہانجی پورہ نے بھی ایک آڈر جاری کیا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ کسی بھی شہری کے رقبہ اراضی ، یا کاہچرائی ، یا ملکیتی، بنڈ کے کنارے پر درختان سفیدے روسی مادہ کو از خود ایک ہفتہ کے اندر اندر کاٹ دینے کے احکامات صادر کئے ہیں۔بڈگام میں مجسٹریٹ کے احکامات کے بعد ایسے درختوں کی کٹائی شروع کردی گئی ہے۔کولگام ،کپوارہ اننت ناگ ، کولگام ، پلوامہ ،شوپیاں اور دیگر اضلاع میں بھی انتظامیہ نے یہ احکامات صادر کئے ہیں ۔معلوم رہے کہ اپریل کے مہینے میں مادہ روسی سفیدوں سے نکلنے والے روئی کے گالے لوگوں کیلئے ایک ماہ تک وبال جان بن جاتے ہیں لیکن رواں برس سب سے بڑی تشویش کی بات یہ ہے کہ کورونا کی علامات کی طرح روئی کے ریشے حلق اور ناک میں جانے سے اس طرح کی علامت ظاہر ہوتی ہیںجس سے زکام ، گلے اور آنکھوں میں خراش پیدا ہوتی ہے ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان درختوں کی کٹائی عمل میں نہ لائی گئی تو اب کی بار یہ پتہ لگانا بھی مشکل ہو جائے گا کہ یہ کرونا ہے یا پھر روئی کے گالوں سے ہونے والی الرجی ہے۔