’ماجہِ نہ لچکہ تہ سیتارس غِلاف…‘!

 
سرینگر//سرکاری راشن گھاٹو ں پر صارفین کی تفصیل آدھار کاڑڈ پر درج نمبر کے ذریعہ پوٹل پر دستیاب رکھنے کے سرکاری فرمان کے بعد ایسے ہزاروں لوگ پریشانیوں میں مبتلا ہو گئے ہیں جن کے آدھار کارڈ ہی نہیں بنائے گئے ہیں ۔کیونکہ جنوبی کشمیر کے پلوامہ ضلع میں سٹور کیپروں نے بغیر آدھار کارڈ نمبر فروری کے مہینے سے ہی صارفین کو راشن دینا بند کردیا ہے۔حالانکہ ریاستی حکومت نے اس سلسلے میں جون مہینے کی ڈیڈ لائن مقرر کی ہے لیکن پلوامہ ضلع کے بیشتر علاقوں میں سٹور کیپروں نے فروری کے مہینے سے ہی اس حکم نامے پر عمل در آمد شروع کردیا ہے۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ ریاستی حکومت نے اس بات کا خود اعتراف کیا ہے کہ وادی میں ابھی50فیصد لوگوں کے پاس آدھار کارڈ نہیں ہیں۔ایک طرف فاش غلطیوں سے پُر ڈیجیٹائزیشن کے دو سرکاری پروجیکٹوں ،آدھار اور راشن کارڑ ،کو سدھارنے اور نئے اندراجی عمل شروع کرنے میں سرکار نامعلوم وجوہات کی بنا پر لیت ولعل کررہی ہے ،دوسری طرف صارفین کو ملنے والی کئی سہولیات اور خدمات و مراعات سے انہیں محروم رکھنے پر بضد ہے ۔واضح رہے کہ ریاستی وزارت خزانہ نے حال ہی میں یہ حکمنامہ جاری کردیا کہ آدھار نمبر کے انسلاک کے بغیر صارفین کو اب سرکاری گھاٹوں سے راشن نہیں ملے گی جبکہ دوسری سہولیات کے حصول کیلئے بھی آدھار کارڑ کو لازم قرار دیا جارہا ہے ۔عام صارفین کا کہنا ہے کہ اگر سرکار یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ ریاست کے سرکاری راشن گھاٹوں پر صارفین کی تفصیل نیشنل پورٹل پر دستیاب رکھی جائے گی اور ساتھ ہی آ دھار کارڈ نمبر راشن کارڈوں پر درج ہونے کے بعد لوگوں کو راشن الیکٹرانک ووٹنگ مشین کی طرز پربنائی گئی مشین ( پی اوایس)پر انگوٹھا لگا کر حاصل ہوگا، وہیںایسے میں ہزاروں کی تعد ادمیں لوگ آدھار کارڈوں سے محروم ہیں جبکہ سینکڑوں لوگوں کے آدھار کارڈوں میں فاش غلطیا ں بھی پائی جا رہی ہیں اتنا ہی نہیں راشن کارڈ بنانے کیلئے 2011کی مردم شماری کے تحت بنائی گئی فہرستوں میں پائی جانے والی غلطیوں کو بھی ابھی تک سدھارا نہیں گیا ہے اور ایسے میں سرکار کا یہ فرمان انتہائی پریشان کن ہے ۔تاہم ڈائریکٹر محکمہ خوراک کشمیر نے کہا کہ لوگوں میں غلط فہمی پیدا ہو گئی ہے کہ انہیں راشن نہیں ملے گا بلکہ جون 2017تک سب لوگوں کو راشن دیا جائے گا ،اور اگر راشن کاڈوں میں کسی جگہ پر غلطیاں ہیں تو وہ ضلع ترقیاتی کمشنر وں اور محکمہ کے افیسران کے ساتھ رابطہ قائم کر سکتے ہیں ۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر سرکار واقعتاصارفین کی تفصیل محکمہ امورصارفین کے پورٹل پر دستیاب رکھنے میں سنجیدہ ہے تو پہلے لوگوں کے آدھار کارڈ بنانے کے عمل کو مکمل کرے۔کیونکہ وادی میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ آدھار کارڈوں سے محروم ہیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ ٓادھار کارڈ تقریباسبھی محکمہ جات میں لازمی قرار دیا گیاہے ۔بنک کھاتہ کھولنا،ڈاک خانہ میں لین دین،موبائل سم کارڈ کا حصول ،گیس کنکشن ، پاسپورٹیااولڈ ایج پنشن اور مختلف اسکالرشپ حاصل کرنے والے طالب علم، راشن کی حصول یابی ،بجلی فیس کے علاوہ دیگر سرکاری مراعات شامل ہیں،آدھار کے بغیر اب ملنا ممکن نہیں ہے۔لیکن ریاست میں تقریبا ایک برس سے آدھار کا اندراجی عمل بند ہے ۔اسکی وجوہات کے بارے میں سرکار کھل کر کچھ نہیں کہتی ہے ۔کشمیر عظمیٰ نے آدھار کارڈ بنانے والی ایک کمپنی کے مقامی سربراہ سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ ابھی بہت سے لوگ آدھار کارڈ بنانے سے رہ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دوبارہ آدھار کارڈ بنانے کیلئے محکمہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جانب سے کوئی بھی نوٹفکیشن جاری نہیں کی گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اپریل 2016میں آدھار کارڈ بنانے والے سینٹروں کو بند کیا گیاتھا جس کے بعد اپریل 2016سے لیکر نومبر2016تک عارضی طور پر ہمارا عملہ کارڈ بناتارہا اور پھر نومبر سے آج تک کارڈ نہیں بنائے گئے ۔اس دوران جہاں محکمہ خواک سرکاری راشن گھاٹوں پر صارفین کی تفصیل پورٹل پر دستیاب رکھنے کے دعویٰ کر رہا ہے، وہیں اگر محکمہ کے ویب سائٹ پر نظر دوڑائی جائے تو2011کی مردم شماری کے تحت راشن کارڈوں کی اجرائی کیلئے مرتب کی گئی فہرستوں میں جو سنگین غلطیاں پائی جا رہی تھیں ،ان کو بھی ٹھیک نہیں کیا گیا ہے ۔اس سلسلے میں ڈائریکٹر فوڈ سپلائیز کشمیر تصدق جیلانی نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ آدھار کارڈ اس لئے لے رہے ہیں تاکہ ہم اپنے محکمہ کے ساتھ آدھار نمبر کو اپ لوڈ کریں ۔انہوں نے کہا کہ لوگوں میں یہ غلط فہمی پیدا ہو گئی ہے کہ انہیں راشن نہیں ملے گا لیکن ایسا نہیں ہے بلکہ جون2017تک سب کو راشن ملے گا اور اس کے بعد کسی کو راشن نہیں ملے گا ۔ جیلانی نے مزید کہا کہ جن لوگوں کے پاس آدھار کارڈ دستیاب ہیں وہ محکمہ کو دیں تاکہ ان کو محکمہ کے ساتھ لنک کیا جا سکے ۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ابھی بہت سے لوگ آدھار کارڈوں سے محروم ہیںتا ہم ہماری کوشش ہے کہ جون 2017تک ہم لوگ آدھار کارڈ وں کو محکمہ کے ساتھ لنک کر سکیں ۔