مابعد کووِڈ- 19کے مریضوں کیلئے خصوصی کلنکوں کی ضرورت:ڈاک

سرینگر//کووِڈمریضوں کی تعداد میں کمی ہونے کے باوجودکشمیرکے اسپتالوں میں مابعد کووِڈ کے شدید پیچیدگیوں کاشکار مریضوں کی تعدادمیں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیرکے بیان کے مطابق،’’ہم کووِڈ سے صحت یاب ہوئے متعدد مریض روزانہ دیکھتے ہیں جن میں شدیداعصابی پیچیدگیاں پائی جاتی ہیں۔ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر نثارالحسن نے کہا،کووِڈ کے مریضوںمیں جی بی ایس(Guillain-Barre syndrome) نامی بیماری پائی جاتی ہے،جوجسم کے اعصابی نظام میں خرابی پیدا کرتی ہے اور سادہ لفظوں میں جسم کامدافعتی نظام صحت منداعصابی خلیوں پر حملہ کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس بیماری کا شکار مریض بازوں اور ٹانگوں میں کمزوری کی شکایت کرتے ہیں،جو کئی معاملوں میں بڑھ کر نظام تنفس کوبھی متاثر کرتا ہے اور ایسے مریضوں کو وینٹی لیٹرکے سہارے کی ضرورت پڑتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کچھ مریضوں میں کووِڈ- 19کی مستند علامات  نہیں پائی جاتی ہیں ،اورموجودہ وبائی صورتحال کے پس منظر میںجس کی وجہ سے GBSکے تمام مریضوں کوکووِڈ کا شکار تصور کرناپڑتا ہے۔ انہوں نے مزیدکہا کہ کووِڈ سے صحتیاب ہوئے مریضو ں میں ہم اسٹروک یعنی دماغ کی نس پھٹ جانے کے واقعات میں اضافہ دیکھ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کووِڈ کی دوسری لہر میں ہم نے جوانوں کو اس سے متاثر ہوتے پایا اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ صحت یاب ہونے کے ہفتوں اور مہینوں بعد ان میں اسٹروک  ہوتاہے جسے دماغ کی نس پھٹ جانا بھی کہتے ہے۔انہوں نے مزیدکہا کہ کووِڈ- 19سے خون جمنے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں جس کی وجہ سے دماغ کی نسوں میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے جو دماغ کی نس پھٹ جانے کاسبب بن جاتا ہے۔ڈاک صدر نے کہا کہ وہ مریض کوکووِڈ سے صحتیاب ہوچکے ہیں ،اسپتال واپس آتے ہیں اور ا ن میں امراض قلب کی پیچیدگیاں (دل کے پٹھوں میں درد) کی شکایت لیکر آتے ہیں حتی کہ انہیں دل کا دورہ بھی پڑچکا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امراض قلب کی پیچیدگیاں اُن مریضوں میں بھی دیکھی جاتی ہیں جنہیں پہلے سے کوئی دل کی بیماری نہیں تھی اور انہیں کووِڈ –  19کی ہلکی سی بیماری ہوئی تھی۔ڈاکٹر نثار نے کہا کہ اس کے علاوہ مابعد کووِڈ کے مریض پھیپھڑوں میں پیچیدگیاں پیداہونے کے آتے ہیں اور ان کے پھیپھڑوں میں مستقل داغ پڑ جاتے ہیں۔ان مریضوں کو دوبارہ داخل کیا جاتا ہے اور انہیں کافی وقت تک آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ مابعد کووِڈ کے  معاملات کے مریضوں کی تعدادبہت زیادہ ہوسکتی ہے کیوں کہ بہت سے مریض جنہیں تھکاوٹ،کمزوری،سردرد،بدن درد،جوڑوں میں درد ہوتا ہے ،وہ اسپتال نہیں آتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مابعد کووِڈ کت مریضوں میں متعددصحت کے مسائل پائے جانے کی وجہ سے بڑے اسپتالوں میں خصوصی کووِڈ کلنکس قائم کئے جانے کی اشدضرورت ہے تاکہ مابعدکووِڈ کے مسائل کوسمجھا جائے