لیہہ معاملے پر بی جے پی کی مشکلیں بڑھیں | ابتدائی تحقیقات میں صحافیوں کو رشوت دینے کی کوشش کی تصدیق

لیہہ// صوبہ لداخ کے ضلع لیہہ میں بی جے پی لیڈروں کی طرف سے صحافیوں کو ایک پریس کانفرنس کے بعد لفافوں میں پیسے دینے کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ کررہی تحقیقاتی ٹیم کو اس معاملے میں ٹھوس شواہد ملے ہیں جس سے بھاجپا کی مشکلیں بڑھنا طے ہے۔ضلع الیکشن افسر اور ضلع مجسٹریٹ لیہہ اونی لواسہ، جنہوں نے اس معاملے میں تحقیقات کے احکامات صادر کئے تھے، نے بتایا 'ہم نے اس معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے لئے پولیس کے ذریعہ ضلع کورٹ کی طرف رجوع کیا ہے تاہم کورٹ نے اس سلسلے میں ابھی کوئی حکم نامہ صادر نہیں کیا ہے'۔بتادیں کہ اونی لواسہ موجودہ الیکشن کمشنر آف انڈیا اشوک لواسہ کی بیٹی ہیں۔اس دوران صحافیوں کو رشوت دینے کے معاملے میں سامنے آنے والی سی سی ٹی وی فوٹیج جس میں بی جے پی ایم ایل سی وکرم رنددھاوا کو پریس کانفرنس کے اختتام پر نامہ نگاروں کو لفافے تھماتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے، پر سابق وزرائے اعلیٰ عمر عبداللہ و محبوبہ مفتی اور سابق آئی اے ایس افسر ڈاکٹر شاہ فیصل نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بی جے پی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ضلع الیکشن افسر لیہہ انوی لواسہ نے بتایا کہ ہم نے اس معاملے میں ایک ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست کی ہے، اس معاملے کے بارے میں اب تین شکایتیں ہیں ایک ہماری طرف سے، دیگر دو شکایتیں پریس کلب کی طرف سے میرے دفتر اور ایس ایچ او کے دفترمیں درج ہیں۔نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے لیہہ کے صحافیوں کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ لیہہ کے صحافیوں کی ایمانداری دیگر صحافیوں کے لئے ایک مثال ہے۔عمرعبداللہ نے اپنے ایک ٹویٹ میں ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا 'لیہہ کے صحافیوں کو مبارک باد، ان کی ایمانداری دیگر صحافیوں کے لئے ایک درخشندہ مثال ہے'۔پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا 'اگر کانگریس، ٹی ایم سی، بی ایس پی، یا ایس پی کے کسی لیڈر کے بارے میں میڈیا کو رشوت دینے کے ٹھوس ثبوت ہوتے تو میڈیا نے اس کے متعلق آسمان سر پر اٹھایا ہوتا، اس پر ریڈیو خاموش کیوں ہے اور کوئی ہیش ٹیگ نہیں ہے، تاہم خوشی اس بات کہ ہے کہ کچھ لوگوں کو رشوت رد کرنے کی جرات ہے، مجھے اونی لواسہ پر فخر ہے جس نے انہیں سبق سکھایا'۔سابق آئی اے ایس افسر اور جموں کشمیر پیپلز موونٹ کے سربراہ ڈاکٹر شاہ فیصل نے  لیہہ پریس کلب کی سراہنا کرتے ہوئے کہا کہ لداخی صحافیوں نے اس وقت اعلیٰ معیار کو بلند رکھا ہے جس وقت لیپ ڈاگ صحافت زمانے میں رائج ہے۔انہوں نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا 'بی جے پی کے ایک لیڈر کی طرف سے صحافیوں کو رشوت دینے کی کوشش کو بے نقاب کرکے لداخی پریس نے ایمانداری کے اعلیٰ معیاروں کا تعین کیا ہے'۔بتادیں کہ صوبہ لداخ کے لیہہ ضلع میں صحافیوں کی ایک انجمن نے 2 مئی کو بی جے پی کے لیڈروں پر انہیں رشوت دینے کا الزام لگایا تھا جس کے حقائق جاننے کے لئے مقامی انتظامیہ نے سی سی ٹی فوٹیج کو اپنی تحویل میں لے کر اس کی جانچ شروع کی تھی۔پریس کلب لیہہ کی طرف سے مقامی پولیس اور ضلع مجسٹریٹ کے دفتر میں 3 مئی کو دائر کی گئی شکایت میں کہا گیا ہے کہ 2 مئی کو لیہہ کے سنگالے ہوٹل میں پریس کانفرنس کے اختتام کے بعد بی جے پی لیڈروں بشمول ریاستی صدر رویندر رینہ اور ایم ایل سی وکرم رنددھاوا نے کچھ صحافیوں کو بند لفافوں میں پیسے دے کر رشوت دینے کی کوشش کی۔شکایت میں کہا گیا کہ صحافیوں نے بی جے پی کے لیڈروں کی اس پیش کش کو مسترد کیا اور اس پر اپنی ناراضگی ظاہر کی۔روزنامہ سٹیٹ ٹائمز کے بیورو چیف لداخ ریگزن کا کہنا ہے کہ جوں ہی پریس کانفرنس اختتام پذیر ہوئی تو ایم ایل سی وکرم رنددھاوا کھڑے ہوئے اور انہوں نے بند لفافے تقسیم کرنا شروع کئے اس وقت وہاں قریب دس صحافی موجود تھے جوں ہی چوتھا صحافی لفافہ پکڑنے کے لئے کھڑا ہوا تو وہاں افراتفری مچ گئی بعد میں ہمیں معلوم ہوا کہ لفافوں میں 5 سو روپئے کے نوٹ بھرے ہوئے تھے۔واضح رہے کہ لداخ پارلیمانی نشست کے لئے پیر کو پارلیمانی انتخابات کے پانچویں مرحلے میں ووٹ ڈالے گئے۔لداخ سے بی جے پی کے جے ٹی نمگیال، کانگریس کے ریگزن سپالبار اور آزاد امیدوار اصغر علی کربلائی و سجاد حسین کرگلی قسمت آزمائی کررہے ہیں۔یو این آئی