لیوڈورہ قاضی گنڈ میں فرقہ وارانہ بھائی چارے کی اعلیٰ مثال قائم

 قاضی گنڈ//گئوکشی ،لو جہاد اور اسی نوعیت کے ایشوز پر جہاں ملک بھر میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو زک پہنچائے جانے کی کوششیں جاری ہیں، وہیں کشمیر میں روایتی بھائی چارہ کی مثالیں قائم کی جارہی ہیں۔ اسکی تازہ مثال لیوڈورہ قاضی گنڈ نامی گائوں ہے ۔یہاں فوت ہوئے کشمیری پنڈت جوڑے کے بچوں کی دیکھ ریکھ مقامی مسلمان کر رہے ہیں ۔ ایک بے سہارامسلم خاتون کو گھر بنانے کیلئے مقامی پنڈت نے مفت زمین فراہم کر کے صدیوں پُرانی رواداری کو  زندہ کردیا ہے۔قاضی گنڈ سے محض 2کلومیٹر دورلیوڈورہ نامی گائوں میں گذشتہ ہفتہ واحد پنڈت خاتون زوجہ مہاراج کرشن کول فوت ہوئیں۔ ایک سال قبل کرشن کول بھی اس دنیا کو چھوڑ گئے تھے ۔جس کے سبب اس کشمیری پنڈت جوڑے کے 4بچے بے سہارا ہوگئے۔مقامی مسلمان آبادی نے یتیم بچوں کی کفالت کی ذمہ داری لینے کا فیصلہ کیا ۔کرشن کول کی وفات کے بعد گھر کی واحد کفیل آنجہانی کی اہلیہ تھی جو دومہینے قبل ہی جموں و کشمیر بنک میں ملازمت اختیار کر چُکی تھی تاہم گھر کی اُمید کا واحد چراغ اُس وقت بجھ گیا جب بے بی کول گذشتہ ہفتہ بیماری کے سبب فوت ہو گئی ۔ایک منزلہ مکان میں دم بخود مہاراج کرشن کول کی بڑی بیٹی15سالہ میناکول نے ایک آہ بھرتے ہوئے کشمیر عظمٰی کو بتایا کہ ماں باپ کے گذر جانے کے بعد وہ بے سہارا ہوگئے ہیں، تاہم مقامی مسلمان آبادی نے اُنہیں ہر ممکن تعاون دینے کا وعدہ کیا ہے ۔اگر چہ کچھ رشتہ دارجموں جانے کی صلاح دے رہے ہیں تاہم ہماری خواہش ہے کہ وہ ماں باپ کے بنائے ہوئے گھر میں ہی اپنی زندگی گذاریں ۔مقامی مسلمان خاتون حمیدہ بیگم کا کہنا ہے کہ وہ لوگ ہر روز رات کے 11بجے تک یتیم بچوں کے درمیان رہتے ہیں جس کے بعد گائوں کی ہی 3خواتین بچوں کے درمیان سوتی ہیں اور یہ سلسلہ جاری و ساری رہے گا ۔اُس کا کہنا تھا کہ یہ بچے ہمارے ہیں جس طرح ہم اپنے بچوں کی دیکھ بال کرتے ہیں اسی طرح انکی دیکھ بھال بھی ہمارا فراض ہے ۔ایک اور خاتون جس نے ان یتیم بچوں کو دودھ بھی پلایا ہے، کا کہنا تھا کہ مسلمانوں نے ہمیشہ اس کنبہ کا خیال رکھا ہے۔ ایک بار انکا گھر آگ کی واردات میں جل کر راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہوا تھا جس کے بعد یہ کنبہ کئی مہینے مسلمان گھروں میں رہائش پذیر رہا اور بعد میںمقامی مسلمانوں نے مل جل کر گھر تعمیر کیا ۔خاتون کا کہنا تھا کہ لڑکیوں کے پیش نظر گائوں کی خواتین ہر وقت انکے درمیان رہتی ہیں اور کھانے پینے کیلئے باری باری گھر جاتی ہے ۔پنڈت گھر سے محض چند گز دور ایک اور کنبہ کی کہانی بھی مختلف نہیں ہے ۔ایک بے سہارا مسلم خاتون جب دو بچوں کے ہمراہ دردر کی ٹھوکریں کھا رہی تھی اور سر چھپانے کے لئے اُس کے پاس گھر نہیں تھا تو ایک کشمیری پنڈت نے اس خاتون کو بیٹی سمجھ کر 5مرلہ زمین بغیر معاوضہ فراہم کی ۔ایک منزلہ کچے گارے مکان میں رہائش پذیر مہ جبین اپنے دو بچوں کے ہمراہ زندگی گذر بسر کر رہی ہے ۔ایک کمرے میں رہائش پذیر اس مسلم خاتون کی بیٹی10ویں جماعت میں زیر تعلیم ہے جبکہ لڑکا چھٹی جماعت میں زیر تعلیم ہے ۔مہ جبین کی شادی اچھ بل میں ہوئی تھی تاہم 12سال قبل مذکورہ خاتون کو شوہر نے طلاق دی جس کے بعد خاتون بچوں کے ہمراہ واپس اپنے میکے آگئی تاہم میکے میں خستہ حال مالی حالت کے سبب مہ جبین کرایہ کے کمرے میں رہنے لگی ۔کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے مہ جبین نے کہا کہ طلاق کے بعد اُنکی زندگی کھٹن گذرنے لگی ایک طرف بچوں کی دیکھ بھال تو دوسری طرف سر چھپانے کے لئے اُنکے پاس گھر نہیں تھا ۔اس دوران ایک مقامی کشمیری پنڈت برج ناتھ کول جو وادی چھوڑ چکا تھا، نے خبر سنتے ہی گائوں پہنچ کرمجھے اپنی 5مرلہ زمین بغیر کسی معاضہ دیدی ۔مہ جبین کا کہنا تھا کہ کرشن کول ،جو کہ پولیس محکمہ میں کام کر رہا ہے، کا کہنا تھا کہ آپ میری بیٹی ہو لہٰذا ایک باپ اپنی بیٹی کو کیسے بے سہارا چھوڑے گا ۔گائوں کے بزرگ شہریوں کا کہنا تھا کہ دونوں کنبوں کی مالی حالت کافی ابتر ہے لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ وہ دونوں گھروں کی مالی حالت سدھارنے میں آگئے آئے ساتھ ہی مرکزی اسکیم اندراآواس یوجنا کے تحت گھر بنانے کے لئے رقومات فراہم کر ے۔