لیفٹیننٹ گورنر 5سال بعد بخشی سٹیڈیم میں قومی پرچم لہرائیں گے اور مارچ پاسٹ پر سلامی لیں گے | 77واں یومِ آزادی آج ۔1990کے بعد پہلی بار بغیر پاس لوگوں کوشامل ہونے کی دعوت، بندشیں نہ لگانے کا فیصلہ

SRINAGAR, AUG 14 (UNI):- Security personnel keeping vigil on the eve of Independence Day celebration at outside the Bakshi Stadium in Srinagar on Monday . UNI PHOTO-58U

عظمیٰ نیوز سروس

سرینگر// آج 15اگست،77ویں یوم آزادی کے سلسلے میں جموں وکشمیر میں کڑے سیکورٹی انتظامات کے بیچ تقریبات کا انعقاد کیا جارہا ہے۔جموں کشمیر کی سب سے بڑی تقریب سرینگر بخشی سٹیڈیم میں ہونے جارہی ہے۔ بخشی سٹیڈیم نے کئی دہائیوں سے جموں و کشمیر کے یوم آزادی کی مرکزی تقریب کی میزبانی کی ہے لیکن اسے اپ گریڈیشن اور تزئین و آرائش کے لیے 2018 میں بند کرنا پڑا۔یہاں کا ایک تجدید شدہ بخشی سٹیڈیم پانچ سال کے وقفے کے بعد جموں و کشمیر کے یوم آزادی کی مرکزی تقریب کی میزبانی کرے گا کیونکہ سول انتظامیہ نے اتوار کو لوگوں سے منگل کو ہونے والی تقریبات میں شرکت کی اپیل کی ہے۔پچھلے 5برسوں سے یوم آزادی کی تقریبات کرکٹ سٹیڈیم سونہ وار میں ہورہی تھیں۔ڈویژنل کمشنر کشمیر وی کے بدھوری نے چند روز قبل کہا تھا”یہ تقریب یہاں منعقد کی جا رہی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ شرکت کے لیے آ سکیں، اس کے لیے مناسب انتظامات کیے گئے ہیں۔ یہاں کوئی پابندیاں نہیں ہیں، اسٹیڈیم میں داخلے کے لیے پاس کی ضرورت نہیں ہے‘‘۔آج لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا قومی پرچم لہرائیں گے ،مارچ پاسٹ پرسلامی لیں گے اور خطاب کریں گے ۔

یوم آزادی کی پُرامن اور خوشگوار انعقاد کویقینی بنانے کیلئے سیکورٹی کے خاطر خواہ انتظامات کئے گئے ہیں ۔قابل ذکر ہے کہ سرکاری ملازمین کیلئے بطورڈیوٹی یوم آزادی کی تقریبات میں شرکت کولازمی قرار دیاگیا ہے ۔پولیس و سیکورٹی فورسز کی بھاری تعداد لالچوک، بڈشاہ چوک، ڈلگیٹ، راجباغ، جواہر نگر،ہری سنگھ ہائی سٹریٹ، جہانگیر چوک، بٹہ مالو، رام باغ اور گوگجی باغ کے علاوہ سیول لائنز کے بیشتر علاقوں کیساتھ ساتھ سونہ وار میں تعینات کی گئی ہے۔ایک روز قبل ہی سیول لائنز کے علاقوں میں سی آر پی ایف اور پولیس کے جوان لوگوں کی تلاشیاں لیتے رہے اور ہر ایک جگہ پر ان کی تعیناتی عمل میں لائی گئی۔بھاری سیکورٹی بندو بست کی وجہ سے پیر کو ٹریفک کی نقل و حمل بھی متاثر رہی۔لیکن پہلی بار شہر سرینگر میں دن بھر جامہ تلاشیوں یا بھاری سیکورٹی بندوبست کی وجہ سے کاروباری سرگرمیوں میں کوئی خلل نہیں پڑا۔بخشی سٹیڈیم کے ارد گرد سہ رخی حفاظتی حصار قائم کیا گیا ہے اور یہاں سے گذرنے والیگاڑیوں کی چیکنگ کی جاتی رہی۔ بخشی سٹیڈیم میں یوم آزادی کی تقریب کے دوران پولیس اور دوسری سیکورٹی ایجنسیاں مارچ پوسٹ میں شامل ہونگیں۔اسکے علاوہ این سی سی اور سکولی بچوں کی بڑی تعداد بھی شامل رہے گی۔تقریب کے دوران کرتب بازی کامظاہرہ کیا جائیگا، جبکہ سکولی بچوں کی جانب سے رنگا رنگ ثقافتی اور کلچرل پروگرام پیش کئے جائیں گے ۔ ۔اُدھر جموں میں یوم آزادی کی سب سے بڑی تقریب مولاناآزاداسٹیڈیم جموں میں ہوگی ،جہاں مشیرآر کے بھٹناگرقومی پرچم لہرائیں گے ۔جموں وکشمیرکے باقی تمام 18اضلاع کے ضلعی ،سب ضلعی ،تحاصیل اوربلاک صدر مقامات پر بھی یوم آزادی کی تقریبات کاانعقاد کیاجائے گا۔