’’ لہوبولتا بھی ہے‘‘

لہو  بولتا بھی ہے‘‘ عنوان سے نئی دلی میں اجراء شدہ کتاب جنگ آزادی ٔ ہند میں مسلمانوں کے کردار اور قربانیوں کی مکمل عکاس ہے ۔ تاریخی اہمیت کی اس کتاب کا اردو ایڈیشن اس کے ہندی ایڈیشن کے مقابلے ہر لحاظ سے بڑھ کر ہے۔ اردوایڈیشن کارسم اجراء ہفتہ 5؍جنوری 2019کونئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا میںدلی حکومت کے نائب وزیراعلیٰ اوروزیرتعلیم منیش سسودیا کے ہاتھوں ہوا۔ ا س موقع پرانہوںنے بجاطورکہاکہ ہندوستان کی جدوجہد آزادی اورآزاد ہندو ستان کے استحکام میں مسلمانوں کے نمایاں کردار کی نفی کی جاری ہے ۔ مسلمانوں کے خلاف تاریخ کی گواہیاںمٹانے کے لئے مہم جاری ہے۔ تاریخ پہلے مورخین لکھاکر تے تھے ،پھر فاتحین نے لکھنا یالکھوانا شروع کیا اوراب یہاں تاریخ انتخابی ایجنڈے کے تحت لکھوائی جارہی ہے۔ بزرگ سماجوادی رہنما سید شاہ نواز احمد قادری اورسینئر فلمسازا ورمصنف کرشن کلکی کی کتاب ’’لہو بولتا بھی ہے‘‘ کے اردو ایڈیشن کااجراء کرتے ہوئے مسٹر سسودیا نے کہاکہ تاریخ کے ساتھ کھلواڑ کے اس رجحان کوبدلنا وقت کاتقاضا ہے۔ تقریب کی صدارت ملک کے مشہور سماج وادی دانش وراورسماجی رہنما رگھو ٹھاکر نے کی۔ تقریب کاافتتاح راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ سنجے سنگھ کے ہاتھوں ہوا۔ تقریب میں مشہور ومعروف اسلامی اسکالراورسابق ممبر پارلیمنٹ مولانا عبیداللہ خاں اعظمی،سینئر سماج وادی لیڈر پروفیسر راج کمارجین،رساز ایجوکیشنل اینڈ میڈیکل چیئریٹبل ٹرسٹ ممبئی، سماجی کارکن رئیس احمد وغیرہ نے کتاب پرروشنی ڈالی۔شہید اشفاق اللہ خاں کے پوتے شاداب اللہ خاں تقریب میں مہمان ِخصوصی تھے۔کتاب کے مصنفین سینئر سماج وادی رہنما سید شاہ نواز احمد قادری اورسینئر فلم کاراور مصنف کرشن کلکی ہیں۔اس کتاب میں پہلی بار ہندوستان کی جنگ آزادی کے دوران انگریزوں کے خلاف کی گئی جدوجہد کے ہراہم واقعہ کواختصاراً موثر اسلوب تحریر میں پیش کیاگیا ہے۔ہندوستان کے مسلم مجاہدین پر لکھی گئی کتاب جنگ آزادی ٔ ہند میں مسلم کردارکی آئینہ دار ہے۔سماج وادی فکر کے لئے سرگرم چیئریٹبل ٹرسٹ (لوک بندھو راج نرائن ) کے بینر تلے2017میں شائع یہ کتاب نہ صرف ہندی بلکہ دنیا کی کسی بھی زبان میں لکھی گئی یہ پہلی کتاب ہے جس میں ہندوستان کی جنگ آزادی میں مسلمانوں کی حصے داری اورقربانی پربہت تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔ 560صفحات پر مشتمل کتاب (ہندی ایڈیشن ) میں پہلی بار تمام مسلم مجاہدین سمیت کل 1233؍شخصیات کی تفصیلات درج ہیں۔ کتاب کی زبان عام فہم ہے ۔ اس میں جنگ آزادی کے دوران انگریزوں کے خلاف مسلمانوں کی جدوجہد کے ہراہم واقعے کو حوالوں سمیت مختصراً پیش کیاگیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کتاب کو ہاتھوں ہاتھ لیاگیا ۔تاریخ دان ،ادباء اوردیگر اہل علم کتاب کی مندرجات کے ا ستناد پر اطمینان ظاہر کر چکے ہیں ۔پڑوسی ملکوں میں بھی کتاب کی مانگ برابر بڑھ رہی ہے۔ہندی میںہونے کی وجہ سے کتاب کو کافی پڑھنے والے ملے تھے لیکن ارود دان طبقہ ا س سے استفادے کا بے تابانہ منتظر تھا۔ تاریخی اہمیت کی اس کتاب میں بیان سچ کو ان لوگوںتک پہنچانے کی غرض سے محولہ بالا ٹرسٹ نے اسے اردو میں بھی شائع کیا۔ کتاب کے اردو ایڈیشن میں یہ اہتمام کیا گیا کہ یہ ہندی ایڈیشن ایڈیشن کامحض ترجمہ بن کر نہ رہ جائے بلکہ اس میں ہرلحاظ سے اضافہ جات بھی کئے گئے ۔ لہٰذا کتاب کا ہندی ایڈیشن  کل 560 جب کہ اردو ایڈیشن 628 صفحات پر مشتمل ہے ۔ جنگ آزادی سے متعلق 1233؍شخصیات کی تفصیلات کو ہندی ایڈیشن میں جگہ ملی جب کہ اردو میں یہ تعداد 1768تک بڑھادی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اس میں 113؍مسلم مجاہدین کی تصاویر بھی شامل ہیں۔ اس کتاب کے ہندی ایڈیشن اوراردو ایڈیشن دونوں کی تواریخی تفصیلات کے حوالوں کے پیچھے سید شاہ نوازاحمد قادری کی برسوں کی لگن اورمحنت کا رفرما رہی ہے ۔اس طرح تاریخی اہمیت کی اس کتاب کا اردو ایڈیشن اس کے ہندی ایڈیشن کے مقابلے ہر لحاظ سے بڑھ کر ہے۔
واضح رہے کہ تاریخ کے موضوع پر اس اہم کتاب کے ہندی ایڈیشن کا رسم اجراء 29؍جنوری 2017کوراجدھانی کے رائے اوما ناتھ بلی آڈیٹوریم میںدہلی کے سابق چیف جسٹس اورسچر کمیٹی کے چیئرمین راجندر سچر کے ہاتھوں ہواتھا۔ انہوںنے اس موقع پر کہاتھا ’’قادری صاحب کی اس کتاب نے فرقہ پرستی کی بنیاد پر تاریخ بدلنے کی سازش کا پردہ فاش کیاہے جوقابل تعریف ہے۔ یقینا یہ کتاب تاریخی کتابوں میں میل کاپتھر ثابت ہوگی‘‘۔ سابق ممبر پارلیمنٹ مولانا عبیداللہ خاں اعظمی نے اس کتاب کو ’’ہندی کے خزانۂ کتب میں ایک بیش قیمتی اضافہ قراردیاتھا‘‘۔ ہندی ایڈیشن کی تقریب رونمائی میں دانشور اورسماجی کارکن  رگھو ٹھاکر نے اپنے خیالات کااظہار کرتے ہوئے کہا تھاکہ’’ تاریخ کی ناانصافی کو درست کرنا وقت کی مانگ تھی۔ مسٹر قادری نے وراثت( بمعنی صداقت) بچاکر قابل تعریف کام کیاہے‘‘۔ سینئر سماج وادی لیڈر پروفیسر راج کمار جین کے مطابق یہ کتاب ’’جنگ آزادی کے غداروں کا معقول جواب ‘‘ ہے۔تاریخ نویس مصنف سید نصیر احمد نے’’ اس کتاب کو تاریخ بچائے رکھنے کی ایک مکمل کوشش قرار دیاہے‘‘۔ تاریخی اہمیت کی حامل اس کتاب کے ہندی ایڈیشن کی طرح اس کا اردو ایڈیشن بھی کامیابی اورمقبولیت میںاپنی مثال آپ ہے۔ 
