لگن اور محنت سے سب کچھ ممکن !

سرینگر // جسمانی طور ناخیز بچوں کیلئے چلائے جانے والے 2 اسکولوں سے وابستہ 17بچوں نے دسویں جماعت کا امتحان اعلیٰ نمبرات کیساتھ پاس کر لیا ۔ابھینندن سکول سولنہ سرینگر اور زیبہ آپا انسٹی چیوٹ بجبہاڑہ کے 17بچوں نے 400سے زائد نمبرات حاصل کر کے کامیابی حاصل کی ہے ۔ابھینندن سولنہ میں زیر تعلیم بینائی اور کے10 ایسے بچوں نے اعلیٰ نمبرات حاصل کر کے کامیابی حاصل کی ہے جو بینائی اور سماعت گوہی سے محروم ہیں۔ سکول کے سربراہ منظور احمد نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ، تاسین فیاض نامی ایک طالب علم نے 500نمبرات میں سے 354نمبرات حاصل کر کے ڈسٹنکشن حاصل کیا جبکہ مجتبیٰ نذیرنے 343،منتظر نذیر نے 370،سمرن سرور نے 413،مہوش فیاض نے 415،ماروشہ محیٰ الدین نے 418، شاکر محمد بٹ 320اور عابد حنیف نے 310نمبرات حاصل کئے ہیں ۔زیبہ آپا انسٹی چیوٹ بجبہاڑہ کے 7بچوں نے بھی اعلیٰ نمبرات سے دسویں جماعت کا امتحان پاس کر لیا ہے ۔سکول کے سربراہ ڈاکٹر جاویداحمد ٹاک نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ افلا سید نامی سماعت گوئی سے محروم بچی نے 500نمبرات میں سے 399اور دوسری بچی جاسمینہ بشیر نے500 میں سے 398نمبرات حاصل کئے ہیں ۔سماعت گویائی سے محروم ارتضیٰ نصیر نے407اورجسمانی طور کمزور شاکر فاروق نے 286نمبرات حاصل کئے اوربینائی سے محروم تہذیبہ ہلال نامی بچی نے سب سے زیادہ450نمبرات حاصل کر کے اپنا لوہا منوایا۔جاوید احمد ٹاک کے مطابق بینائی سے محروم راسخ نثارنے محنت اور لگن کا مظاہرہ کر کے 437نمبرات حاصل کئے ۔انہوں نے کہا کہ حکمت یاسین نامی بینائی سے محروم طالبہ نے بھی 426نمبرات حاصل کئے ہیں ۔ سکولوں کے سربراہان کا کہنا ہے کہ ایسے بچوں اور بچیوں کی امتحان میں شاندار کامیابی اساتذہ اور والدین کیلئے اعزاز کی بات ہے کیونکہ ان بچوں نے معذوری کو مجبوری نہیں بلکہ چیلنج کے طور پر قبول کیا ہے اور علم وہنر کے زیورسے آراستہ ہو کر معاشرے میں باعزت مقام حاصل کرنے کی ٹھان لی ہے۔معلوم رہے کہ یہ بچے تمام تر مشکلات کے باوجود بھی آگے بڑھنا جانتے ہیں لیکن حکومت کی جانب سے ان بچوں کو معیاری اور بہتر تعلیم دینے کیلئے کوئی ٹھوس منصوبہ نہیں ہے۔ یہ بچے کورونا لاک ڈائون میں آن لائن تعلیم حاصل نہ کرسکے لیکن گھر میں از خود محنت اور لگن سے شاندار کامیابی حاصل کی ۔
 
 

 بینائی سے محروم ویری ناگ کی طالبہ کا کارنامہ

۔10ویں میں 85فیصد نمبرات حاصل کئے

عارف بلوچ
 
ڈورو //بنہ گنڈ ویری ناگ سے تعلق رکھنے والی پیدائشی طور بینائی سے محروم طالبہ سید حکمت یاسین نے جسمانی طور ناخیز بچوں کا سر فخر سے اونچا کردیا ہے۔ اس نے دسویں جماعت میں 85فیصد نمبرات حاصل کر کے پوری وادی میں ایک مثال قائم کی۔حکمت نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ وہ بچپن سے ہی بینائی سے محروم ہیں ۔ابتدائی تعلیم گھر سے شروع کی اور 2012 میں  بجبہاڑہ میں زیبہ آپا سکول میں آٹھویں جماعت تک ماہر اساتذہ کرام کی نگرانی میں تعلیم حاصل کی ۔آٹھویں جماعت پاس کرنے کے بعد سرسید میموریل ایجوکیشنل انسٹیٹیوٹ ڈورو میں داخلہ لیا۔نارمل اسکول میں داخلہ لینے کے بعد کافی مشکلاتوں کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اسکول میں وہ واحد نابینا طلالبہ تھی ۔ موبائل فون کے ذریعے ٹیچروں کی پڑھائی ریکارڈ کرتی رہی اور پھر گھر میں لیپ ٹاپ کے ذریعے لیکچر کو محفوظ کرتی تھی۔انہوں نے بتایا کہ میٹرک کا امتحان قوانین کے مطابق دیا  انھیں ایک لکھاری مہیا کیا گیا اور وہ امتحان کے دوران لکھاری کو سوالات کے جوابات بتاتی تھیں اور لکھاری اس کو جوابی شیٹ پر لکھ دیتے تھے۔حکمت کہتی ہے کہ انکی پڑھائی میں والدین اور اساتذہ کا ناقابل فراموش رول ہے۔والد جوسیلزمین کے طور پر کام کرتا ہے نے انہیں اسکول لانے اور لیجانے کی ذمہ داری اپنے کندھوں پر لی تھی۔حکمت کہتی ہے کہ تعلیم ایک ایسا ہتھیار ہے جس سے دنیا بدل سکتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ میں نے تہیہ کر رکھا ہے کہ تعلیم ہر صورت میں حاصل کروں گی تاکہ میں اپنی معذوری کو طاقت میں بدل سکوں۔