لگاتار تیسرے سال بھی میکڈم بچھانے کا ہدف پورا نہ ہوسکا

سرینگر//رواں سال بھی محکمہ تعمیرات عامہ اور میونسپل حکام سڑکوں پر میکڈم بچھانے کا ہدف مکمل کرنے میں ناکام رہا جس کے نتیجے میں بیشتر سڑکیں کھنڈرات کا منظر پیش کر رہی ہیں ۔محکمہ آر اینڈ بی 300کلو میٹر اور سرینگر میونسپل کارپوریشن 40کلو میٹر سڑکوں پر میکڈم بچھانے میں ناکام ہوا ۔ اگرچہ متعلقہ محکموںنے کئی جگہوں پر کام شروع کیا لیکن ایسا تب ہوا جب وادی میں سردیوں کا آغاز ہو چکا تھا۔ شہر سمیت وادی کے مختلف اضلاع کی بیشتر اندرونی اور رابطہ سڑکوں کی مرمت اس سال بھی نہیں ہو سکی ، اس امر کے باوجود بھی کہ پچھلے سال وادی بھر میں ریکارڈ توڑ سردی پڑی۔ برف جم گئی جس سے سڑکیں تباہ ہوگئیں اور سڑکوں پربچھایا گیا میکڈم اکھڑ گیا جس کے باعث جگہ جگہ گہرے کھڈ پیدا ہوئے۔ہر سال محکمہ تعمیرات عامہ کی روایت رہی ہے، جس کے فنڈس بھی مختص کئے جاتے ہیں کہ وادی بھر کی اہم سڑکوں پر پیچ ورک کیا جاتا ہے اور جہاں جہاں بھی میکڈم اکھڑ گیا ہوتا ہے اسے ٹھیک کر کے سڑکیں قابل آمد و رفت بنائی جاتی ہیں۔محکمہ آر اینڈ بی نے حال ہی میں کہا تھا کہ شہر کی سڑکوں کی بلیک ٹاپنگ ، گڑھوں کو بھرنے اور ادھورے منصوبوں کو مکمل کرنے کی درجہ بندی کی جائے گی اور تقریباً 1000 کلومیٹر کا ہدف مقرر کیا گیاتھاجبکہ کشمیر وادی کے مختلف حصوں میں رواں سال محکمہ آر اینڈ بی کو700 کلومیٹر کی سڑکوں پرمیکڈم بچھانا تھا، لیکن وہ محض 400 کلومیٹر کا کام ہی پورا کرسکا۔
محکمہ کی سست رفتاری اور سرد موسم میں ان سڑکوں پر بچھائے جانے والا میکڈم کارآمد ثابت نہیں ہو گا ۔کیونکہ میکڈم بچھانے کے وقت کم سے کم درجہ حرارت 25ڈگری ہونا چاہیے۔وادی میں 25ڈگری تک درجہ حرارت عمرمی طور پر 15اکتوبر تک رہتا ہے اور اسی لئے یہاں میکڈم بچھانے کی تارٰک کی حد 15اکتوبر ہی رکھی گئی ہے۔سرکاری طور پر اگر کسی جگہ 15اکتوبر کے بعد میکڈم بچھایا جائے تو وہ قانوناً جرم ہے۔پچھلے سال کے شدید ترین سرد موسمی صورتحال سے سڑکیں کھنڈرات بن گئی ہیں کیونکہ میکڈم جگہ جگہ اکھڑ گیا ہے۔ محکمہ آر اینڈ بی نے بتایا کہ حکومت نے پچھلے سال کے منظور شدہ کاموں کیلئے 100 فیصد فنڈز جاری کیے تھے جبکہ 50 فیصد فنڈز رواں سال کے کاموں کے لیے بھی جاری کیے گئے ۔ شہر کی ندرونی سڑکیں چند ماہ قبل سرینگر میونسپل کارپوریشن (ایس ایم سی) کے حوالے کی  گئیہیں۔نومبر 2020 میں جموں و کشمیر یونین ٹیریٹری کی حکومت نے ایک حکم جاری کیا اور قریب 1400کلو میٹر شہر کی اندرونی سڑکیں ایس ایم سی کو تفویض کی گئیں۔ذرائع نے بتایا کہ رواں سال مارچ میں حوالے کرنے کے بعد بھی کوئی فرق محسوس نہیں کی گئی۔ شہر کے سڑکوں کی حالت بدترین بن گئی ہے۔حتی کہ پیچ ورک بھی نہیں کی گئی ہے۔
ایگزیکٹیو انجینئر میونسپل سٹی روڑز نثار احمد پنڈت نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ رواں سال 82کلو میٹر شہر کی سڑکوں پر میکڈم بچھانے کا منصوبہ تھا جس میں سے قریب 50کلو میٹر وں پر بچھایا جاچکا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکام نے سڑکوں پر میکڈم بچھانے کیلئے میونسپل حکام کو 25کروڑ روپے فراہم کئے تھے ۔ میونسپل کارپوریشن سرینگر کے کمشنر عامر اطہر شفیع نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ رواں سال جب کارپوریشن نے شہر کی 1417کلو میٹر سڑکوں کو ہاتھ میںلیا تو سڑکوں کو ہاتھ میں لینے کے عمل اور سروے میں کافی وقت لگا تاہم اس کے باوجود بھی بہت سی سڑکوں پر میکڈم بچھایا گیا ۔انہوں نے کہا کہ جو سڑکیں میونسپل کارپوریشن نے ہاتھ میں لی ہیں ،ان سب پر مرحلہ وار طور پر کام ہو گا ۔انہوں نے کہا کہ کچھ ایک سڑکوں پر سردیاں آنے کی وجہ سے میکڈم نہیں بچھایا جا سکتا اور اگلے سال ان سڑکوں پر کام ہوگا۔