لوگ ایس او پیز پر عمل کریں اوربچوں کو ویکسین لگوائیں

جموں//نیشنل ہیومن رائٹس سوشل جسٹس نے جموں و کشمیر کے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بچوں جن کی عمر 15 سے 18 سال ہے کو جلد از جلد ویکسین لگوائیں اور گھروں سے باہر آتے وقت ماسک کا استمال کریں۔تفصیلات کے مطابق نیشنل ہیومن رائٹس سوشل جسٹس کونسل آف انڈیا کے چیف ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایڈوکیٹ ایم آئی زرگر نے جموں میں میڈیا کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے کئی دنوں سے ملک بھر میں کرونا کیسز میں اضافہ ہوا ہے لہذا ہمیں بیدار ہونے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کے تجربے سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ کورونا وبا کی روک تھام کے حوالے سے ماسک کا استمال سب سے موثر رہا ہے۔انہوں نے جموں کشمیر کے تمام لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے گھروں سے باہر آتے وقت ماسک کا استعمال کریں۔ہیومن رائٹس سوشل جسٹس کونسل آف انڈیا کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایڈوکیٹ ایم آئی زرگر نے مزید کہا کہ پورے ہندوستان میں تین جنوری 2022 سے 15 سے 18 سال تک کی عمر کے بچوں کی کورونا مخالف ویکسینیشن کی شروعات ہو چکی ہے اور کووڈ کے خلاف مہم کی ذمہ داری صرف سرکار کی نہیں ہے بلکہ ملک کے تمام شہریوں کی یکساں ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ بچوں کی سو فیصد ویکسینیشن کامیاب بنانے کے لیے سول سوسائٹی اور این جی اوز آگے آئیں اور گھر گھر جا کر مہم چلائیں۔ایڈوکیٹ زرگر نے جموں و کشمیر کے تمام والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو جلد ویکسین لگوائیں تاکہ وہ کووڈ سے محفوظ رہیں۔