لوک سبھا میں تحریک اعتماد کو شکست اپوزیشن کاووٹنگ کے خوف سے ایوان سے راہِ فرار:مودی

 یو این آئی

نئی دہلی// وزیر اعظم نریندر مودی نے لوک سبھا میں تحریک عدم اعتماد کو شکست دینے کے بعد سنیچر کو پھر اپوزیشن پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ سے خوفزدہ تھی اوربحث کے درمیان میں ایوان سے بھاگ گئی۔ ویڈیو کانفرنس کے ذریعے مغربی بنگال میں علاقائی پنچایتی راج کونسل سے خطاب کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ مرکز میں نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے ) حکومت کے خلاف اپوزیشن کی طرف سے پیش کی گئی تحریک عدم اعتماد لوک سبھا میں ناکام ہوگئی۔ حالات ایسے بن گئے کہ اپوزیشن کے لوگ بحث کے بیچ میں ہی ایوان سے بھاگ گئے ۔ سچ یہ ہے کہ وہ تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ سے خوفزدہ تھے ۔ مودی نے کہا کہ ملک نے اپوزیشن کو تحریک عدم اعتماد پر بحث سے ہٹتے دیکھا۔ انہوں نے کہا’’یہ مایوس کن ہے کہ ان افراد نے منی پور کے لوگوں کو بہت مایوس کیا ہے ۔

 

 

شروع سے ہی حکومت نے منی پور پر ایک وقف اور مرکوز بحث کی کوشش کی۔ افسوس کی بات ہے کہ ان کے مقاصد مختلف تھے ‘‘۔انہوں نے مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس کی قیادت والی حکومت پر حملہ کیا اور ریاست میں اپنی پارٹی کے کارکنوں کی جاری جدوجہد کو اجاگر کیا۔ انہوں نے ترنمول کانگریس پر خونی کھیل کھیلنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ حالیہ پنچایتی انتخابات میں بی جے پی امیدواروں کو فارم بھرنے سے روکنا، ان کی شرکت کو روکنا اور جب بی جے پی امیدوار جیتنے میں کامیاب ہوئے تو پرتشدد حملوں کا سہارا لینا، یہ مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس تشدد کی سیاست کی ایک مثال ہے ۔وزیر اعظم نے زور دے کر کہا کہ آزادی کے بعد مشرقی ہندوستان کو نظر انداز کرنے سے ملک کی ترقی کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے ۔ اس ترقیاتی فرق کو پر کرنے کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ 5 برسوں میں غربت سے باہر آنے والے 13.5 کروڑ لوگوں میں سے ایک اہم حصہ مشرقی ہندوستان سے ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں پچھلے 50 برسوں سے یہ نعرہ دیا جا رہا تھا کہ غریبی ہٹاؤ لیکن یہ نعرے لگانے والے غربت ختم نہ کر سکے ۔ فطری سوال یہ ہے کہ جو کام پانچ دہائیوں میں نہیں ہو سکا، وہ بی جے پی حکومت نے اتنے کم وقت میں کیسے کر دکھایا؟اپنے نو سالہ دور اقتدار کے دوران مشرقی ہندوستان میں ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے مودی نے کہا’’پورے ملک میں تقریباً 18,000 گاؤں، جو پہلے بجلی سے محروم تھے ، اب حکومت نے روشن کر دیے ہیں۔ ان میں سے تقریباً 13000گاؤں صرف مشرقی ہندوستان میں تھے‘‘ ۔ انہوں نے کہا کہ 15اگست 2019 کو ہم نے جل جیون مشن شروع کیا۔ اس کے آغاز کے دوران ملک کے 20 فیصد سے بھی کم دیہی گھرانوں کو نلکے کے پانی تک رسائی حاصل تھی۔ آج، 60 فیصد سے زیادہ دیہی گھرانوں کو نل کے پانی تک رسائی حاصل ہے ۔انہوں نے کہا کہ’’آپ میں سے بہت سے لوگوں کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ میزورم جیسی ریاست میں 4 سال پہلے تک صرف 6 فیصد گھرانوں کے پاس پائپ سے پانی کی سہولت تھی۔ آج یہ تعداد 90 فیصد سے زیادہ ہے ۔ بہار میں گزشتہ 9 برسوں میں پردھان منتری گرامین آواس یوجنا کے تحت 50 لاکھ سے زیادہ گھر بنائے گئے ہیں۔ مغربی بنگال میں تقریباً 45 لاکھ غریب کنبوں کو پکے گھر ملے ہیں۔ آسام میں بھی غریبوں کے لیے 20 لاکھ گھر بنائے گئے ہیں‘‘۔