لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں ہنگامہ آرائی ،دونوں ایوانوں کے 78اپوزیشن اراکین معطل

یواین آئی

نئی دہلی// لوک سبھا اور راجیہ سبھامیں سیکورٹی کے معاملے پر زبردست ہنگامہ کرنے والے اپوزیشن کے78اراکین کو سرمائی اجلاس کی بقیہ مدت کے لئے معطل کر دیا گیا ہے۔78ایک دن میں اب تک کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ 78 ممبران پارلیمنٹ کو پیر کے روز پارلیمنٹ سے معطل کر دیا گیا کیونکہ پارلیمنٹ کی سیکورٹی کی خلاف ورزی پر ایوان کی کارروائی میں خلل ڈالا گیا۔لوک سبھا سے 33 اپوزیشن ممبران پارلیمنٹ کی معطلی کے فورا ًبعد کل 45 ممبران پارلیمنٹ کو پیر کی شام راجیہ سبھا سے پارلیمنٹ کی سیکورٹی کی خلاف ورزی کے معاملے پر ایوان کی کارروائی میں خلل ڈالنے پر معطل کر دیا گیا۔ انہیں پارلیمنٹ کے جاری سرمائی اجلاس کے بقیہ کے لیے معطل کر دیا گیا ہے۔دریں اثنا، لوک سبھا سے معطل کئے گئے کل 33 اپوزیشن ارکان میں کانگریس کے ادھیر رنجن چودھری، ڈی ایم کے سے ٹی آر بالو اور دیاندھی مارن، اور ٹی ایم سی سے سوگتا رائے کو پیر کے روز لوک سبھا سے معطل کر دیا گیا ۔

 

معطلی کا دورانیہ مختلف تھا، سرمائی اجلاس کے بقیہ حصے کے لیے 30 اراکین کو معطل کیا گیا، جبکہ تین اراکین کو استحقاق کمیٹی کی رپورٹ تک معطلی کا سامنا کرنا پڑا۔ چار بار کے التوا کے بعد جیسے ہی لوک سبھا کی کارروائی تین بجے شروع ہوئی، تو اپوزیشن ارکان ہنگامہ کرنے لگے۔ پریزائیڈنگ آفیسر راجندر اگروال نے کانگریس سمیت اپوزیشن ارکان کے نام لئے جو ہنگامہ کررہے تھے۔اس کے بعد پارلیمانی امور کے وزیر پرہلاد جوشی نے کہا کہ ایوان نے توہین کا سنجیدگی سے نوٹس لیا ہے۔ انہوں نے اپوزیشن کے 33 ارکان کے نام لیے اور سبھی کو اجلاس کی بقیہ مدت کے لیے معطل کر دیا گیا۔۔پرہلاد جوشی نے کہا کہ بار بار کی درخواست کے باوجود یہ ارکان ایوان میں پلے کارڈ لے کر آئے۔انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ کانگریس کے ڈاکٹر کے جے کمار، وجے وسنت اور عبدالخالق کو استحقاق کمیٹی کی رپورٹ تک معطل کر دیا گیا ہے۔ تینوں نے اسپیکر کی نشست کے قریب جاکر نعرے بازی کی پلے کارڈز لہرائے۔اس سے قبل بدھ کو اپوزیشن کے چودہ ارکان کو معطل کر دیا گیا تھا۔اپوزیشن کے کئی سرکردہ ارکان سمیت 45 ارکان کو پیر کو راجیہ سبھا میں ان کے غیر مہذب رویے پر ایوان سے معطل کر دیا گیا، جن میں سے 11 ارکان کے طرز عمل کا معاملہ ایوان کی استحقاق کمیٹی کو بھیج دیا گیا جو تین ماہ میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔ایوان نے 34 اراکین کو اجلاس کی بقیہ مدت کے لیے معطل کر دیا جبکہ 11 اراکین کی معطلی استحقاق کمیٹی کی رپورٹ تک برقرار رہے گی۔چار بار التوا کے بعد چار بجے ایوان کی کارروائی دوبارہ شروع کرتے ہوئے چیئرمین جگدیپ دھنکھڑ نے ارکان سے پرسکون رہنے اور کارروائی کو آگے بڑھنے دینے کی اپیل کی۔لیکن اپوزیشن ارکان شوروغل کرتے رہے۔ چیئرمین نے ارکان کو سخت کارروائی کی تنبیہ بھی کی لیکن اس کا کوئی اثر نہ ہوتا دیکھ کر 34 اپوزیشن ارکان کے نام پکارے۔ اس کے بعد قائد ایوان پیوش گوئل نے قاعدہ 256 کے تحت ان ارکان کی معطلی کی تجویز ایوان میں پیش کی جسے صوتی ووٹ سے منظور کردیا گیا۔اس کے بعد چیئرمین نے 11 دیگر اراکین کے نام لیے اور گوئل نے ان کی معطلی اور ان کے طرز عمل کا معاملہ ایوان کی استحقاق کمیٹی کو بھیجنے کے لیے رول 191 کے تحت تحریک پیش کی، جسے صوتی ووٹ سے منظور کر دیا گیا۔